تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     28-02-2022

صنفی امتیاز اور انصاف

جہاں ہمارے معاشر ے میں ایسے مرد موجود ہیں جو خواتین کو ماں‘ بہن‘ بیوی‘ بیٹی‘ کزن اور کولیگ سمیت ہر روپ میں عزت دیتے ہیں‘ اس کو برابر کا فرد سمجھتے ہیں‘ وہیں فطری طور پر بدنیت افراد کی بھی کمی نہیں جو عورت کو اس کا جائز مقام تو درکنار اسے انسان بھی نہیں سمجھتے۔ عورت کوئی شے نہیں‘ ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ اس کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں‘ اس میں بھی آگے بڑھنے کی امنگ ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لڑکیاں‘ حتیٰ کہ پڑھی لکھی خواتین بھی جھوٹے پیار اور شادی کے وعدے پر بے وقوف بن جاتی ہیں۔ جس نے شادی کرنا ہوتی ہے‘ وہ نکاح کرتا ہے‘شادی سے پہلے وقت گزارنے کا نہیں کہتا اور نہ پرائیوٹ تصاویر اور وڈیوز کی فرمائش کرتا ہے۔ جس مرد نے عورت کو اپنی عزت بنانا ہوتا ہے‘ وہ اس کی عزت کی حفاظت کرتا ہے‘ اس کو نیلام نہیں کرتا۔ اکثر لڑکیاں شادی کے جھانسے میں آکر تعلقات قائم کر لیتی ہیں اور بعد میں ان پر بدچلنی کا الزام لگا کر ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جو انہیں غلط راستے پر لاتے ہیں‘ وہی بعد میں ان کی کردار کشی کرنے لگتے ہیں۔ کچھ لڑکیاں ایسی صورتحال میں خودکشی کر لیتی ہیں‘ کچھ کو ان کے خاندان والے مار دیتے ہیں۔ آئے دن ایسے واقعات اخبارات اور نیوز میں پڑھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
میں جب بھی کسی بچی کو دیکھتی ہوں تو میرے دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ اس کو دین اور دنیا‘ دونوں کی سمجھ دے اور اس کو اچھا جیون ساتھی ملے۔ کچھ بچیاں اپنی پسند سے شادی کرتی ہیں اور بیشتر والدین کی مرضی سے کرتی ہیں۔ آج کل پسند کی شادی کا رواج بھی کافی زیادہ ہو گیا ہے‘ جیسا معاشرے میں تاثر پایا جاتا ہے‘ اس کے برعکس بہت سے جوڑے پسند کی شادی کے بعد خوش رہتے ہیں۔ مشکل تب ہوتی ہے جب لڑکی کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جائیں یا اس سے مارپیٹ کی جائے۔ جس مرد کا ہاتھ ایک بار اٹھ جائے‘ وہ ساری زندگی عورت کو مارتا رہتا ہے۔ اگر کسی کی تربیت میں کمی رہ جائے تو بھی وہ ایسا طرزِ عمل اپنا لیتا ہے۔ ہماری مائوں کو بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بیٹوں کی تربیت پر بھی خاص توجہ دینا ہو گی۔ والدین کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ان کا بیٹا کن سرگرمیوں میں مشغول ہے‘ وہ منشیات تو استعمال نہیں کرتا‘ گالی گلوچ تو نہیں کرتا‘ لوگوں پر ہاتھ تو نہیں اٹھاتا‘ کسی کا استحصال تو نہیں کر رہا۔ بگڑے ہوئے بچوں کی یہ سوچ کر شادی کر دینا کہ وہ نشہ چھوڑ دے گا‘ مار پیٹ سے باز آ جائے گا‘ راہِ راست پر آ جائے گا‘ انتہائی غلط سوچ ہے۔ یہ کسی لڑکی کی زندگی تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے افراد کی شادی نہیں‘ بلکہ ان کا علاج کرانا چاہیے۔ ماں باپ اور خاندان کی تربیت ہی بچوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بناتی ہے۔
ہمارے ہاں لڑکیوں کی تربیت پر تو بہت ضرور دیا جاتا ہے لیکن لڑکوں کے معاملے میں اکثر یہ کہہ کر غفلت برتی جاتی ہے کہ یہ تو لڑکا ہے‘ اس نے باہر اٹھنا بیٹھنا ہے۔ ایسا نہیں ہے! لڑکا بھی معاشرتی اور مذہبی حدود کا پابند ہے۔ والدین بیٹوں پر بھی کڑی نظر رکھیں اور ان کو بری کمپنی سے بچائیں۔ اکثر لڑکے نوجوانی میں بری کمپنی کا شکار ہو کر منشیات‘ چوری چکاری‘ ڈکیتی اور دیگر منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ ان کو پارٹی‘ کلب اور ناچ گانے کے بجائے کھیلوں‘ ورزش اور فلاحی کاموں کی طرف لائیں۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دین کی بھی سمجھ دیں۔ زیادہ پیسے اور اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اپنے بیٹوں کے ہاتھ میں بڑی گاڑیاں اور اسلحہ تھما دیں اور گارڈز کی فوج ان کے ساتھ رکھیں۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے‘ یہ شاہ رخ جتوئی اور ظاہر جعفر جیسے کیسز کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ ایسے بچے‘ جو نشہ کرتے ہیں‘ اسلحے کا استعمال کرتے ہیں‘ بالآخر لوگوں کو قتل کرنے لگتے ہیں۔ میری نظر میں ایسے افراد کے جرائم کے ذمہ دار ان سے زیادہ ان کے والدین ہیں جنہوں نے ان کی درست تربیت نہیں کی اور انہیں دولت اور طاقت کے احساسِ برتری میں مبتلا کر دیا۔ بچوں کی جائز و ناجائز فرمائشیں اور خواہشیں پوری کر کے ان کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ وہ پیسے اور طاقت کے بل بوتے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
شاہ رخ جتوئی نے ایک لڑکی سے بدتمیزی کی تھی‘ جب شاہ زیب نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو اس گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ دو جرائم کا ارتکاب ایک ساتھ کیا گیا۔ ایک‘ لڑکی کو چھیڑا گیا‘ جب اس کا بھائی بیچ میں آیا تو دولت اور طاقت کے گھمنڈ میں بے گناہ شخص کو قتل کردیا گیا۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ دولت مند خاندان نے ایک گھر کو ہسپتال میں تبدیل کرکے شاہ رخ کو جیل سے وہاں منتقل کرا دیا۔ شاہ رخ جتوئی کو ایسی کون سی بیماری ہے جو وہ جیل میں نہیں رہ سکتا؟ جب یہ خبر ٹی وی پر چلی تو انتظامیہ کو کچھ شرم آئی اور مجرم کو ''ہسپتال‘‘ سے دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔شاہ رخ اور اس جیسے بگڑے رئیس زادوں نے قانون کے ساتھ کھلواڑ کو اپنا وتیرہ بنا رکھا ہے۔ اس سے قبل جتنی بار وہ پیشی پر عدالت آیا‘ اس کے چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی‘ وہ ہر بار بڑے فخر سے ''وکٹری‘‘ کا نشان بناتا۔ اس کو کوئی ڈر‘ خوف نہیں تھا۔ حد تو یہ ہے کہ اس نے قتل جیسے سنگین جرم کو ''بچپنا ‘‘ قراردیا تھا۔
ظاہر جعفر کی بات کریں تو یہ بھی امیر والدین کی بگڑی ہوئی اولاد ہے۔مبینہ طور پر وہ منشیات کا بھی عادی ہے۔ وہ دوستوں کو بلاتا اور ڈرگز پارٹیاں کرتا۔ نور مقدم اس کی دوست تھی۔ ظاہر نے اس کو گھروالوں سے جھوٹ بولنے کا کہا کہ وہ لاہور جارہی ہے جبکہ اس نے اسے اپنے گھر پر قید کر لیا۔ ہمارے معاشرے میں عموماً عورتوں کو ان کے گھر والے مار پیٹ کا نشانہ بناتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین اپنے شوہروں سے مار کھاتی ہیں۔ نچلے طبقے میں یہ ایک عام سی بات ہے اور اس کو اتنا نارمل لیا جاتا ہے کہ خواتین کو کہا جاتا ہے کہ مرد تو غصے والے ہوتے ہیں‘ عورت کو برداشت کرنا چاہیے؛ تاہم یہ مسئلہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں۔ بے شمار امیر عورتیں بھی اس استحصال کا شکار ہیں۔ زیادہ تر عورتیں اپنا گھر بچانے کے لیے اپنے میکے والوں اور فیملی کو اس بات سے بے خبر رکھتی ہیں۔ جب ایک دن مارپیٹ کی وجہ سے اس عورت کی جان چلی جاتی ہے تو سب کو حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ یہ دکھ اور اور یہ تکلیف عورت نے کبھی میک اپ تو کبھی نقاب کے پیچھے چھپائی ہوتی ہے۔ ''میں سیڑھیوں سے گر گئی تھی‘ مجھے دروازہ لگ گیا تھا‘ میں پھسل گئی تھی‘مجھے الرجی ہو گئی ہے‘ بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘‘، ایسے کتنے ہی بہانوں کی آڑ میں گھریلو تشددکو چھپایا جاتا ہے۔ یہ معاشرہ عورت کو جھوٹ بولنے پر مجبور کرتا ہے اور ایک دن وہ جھوٹی عزت کا بھرم رکھتے رکھتے مر جاتی ہے۔نور مقدم کے کیس نے تمام لوگوں کو دکھ پہنچایا مگر زیادہ دکھ ان خواتین کو ہوا جو خود بھی گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔ یہ اتنا سفاکانہ قتل تھا کہ سب ہل کر رہ گئے۔ نور کو قید رکھا گیا‘ مارا پیٹا گیا اور پھر اس کا سر ہی تن سے الگ کردیا گیا۔ پہلے خواتین پر تیزاب پھینکا جاتا تھا‘ وہ چولہا پھٹ جانے سے مرجاتی تھیں‘ ان کو کاری کیا جاتا تھا‘ اب ان کے گلے بھی کاٹے جا رہے ہیں۔ جس چیز نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا‘ وہ یہ کہ یہ واقعہ شہرِ اقتدار کے ایک پوش علاقے اور ایک پڑھے لکھے طبقے میں پیش آیا۔ اتنا ظلم‘ اتنی حیوانیت! ایسا بھی کیا ایشو تھا کہ کہ لڑکی کی گردن ہی کاٹ دی گئی۔ کوئی اتنا سفاک کیسے ہوسکتا ہے؟
نور مقدم کے قتل کے بعد سے سب قاتل کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ میں ایک نرم دل اور حساس طبیعت کی مالک ہوں؛ تاہم اس بہیمانہ قتل پر میرا بھی مطالبہ تھا کہ ایسے سفاک شخص کو پھانسی ہی ہونی چاہیے۔ اب عدالت نے مرکزی ملزم کو سزائے موت اور دو ملازمین کو دس‘ دس سال قید کی سزا سنائی ہے؛ تاہم کہا جا رہا ہے کہ ابھی ظاہر جعفر اپیل میں جائے گا۔ ہم سب کو اس کے خلاف مسلسل آواز اٹھانا ہوگی تا کہ کل کو وہ بھی اپنی دولت کے بل پر جیل کو ''فائیوسٹار ہسپتال‘‘ نہ بنادے۔ سب آواز اٹھاتے رہیں‘ ویسے بھی ابھی صرف نور مقدم کیس کا فیصلہ ہوا ہے، ابھی صدف زہرا، قرۃ العین، شاہینہ شاہین اور قندیل بلوچ کے انصاف کے لیے بھی آواز بلند کرنا ہو گی۔ پدرشاہی، صنفی امتیاز اور گھریلو تشدد کو معاشرے سے ختم کرنے تک ہمیں آرام سے نہیں بیٹھنا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved