تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     07-08-2013

’’بے فضول‘‘

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی کہ کراچی میں پولیس کے خاص یونٹ کے 12 خصوصی تربیت یافتہ سُراغ رساں کتوں میں سے ایک چل بسا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ غیر ملکی کُتّا تین سال قبل 5 لاکھ روپے میں خریدا گیا تھا۔ ایک اور (غیر مصدقہ) خبر کے مطابق کُتّے کی قیمت 20 لاکھ روپے تھے۔ اہمیت اِس بات کی نہیں کہ پولیس کے خصوصی کُتّے کی قیمت 5 لاکھ تھی یا 20 لاکھ روپے تھی۔ پاکستان میں ہر نسل اور نوع کے غیر ملکی کُتّوں کو ہمیشہ اچھی قیمت ہی ملتی رہی ہے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ پولیس کو کُتّوں کی کیا ضرورت پیش آگئی۔ اِس ملک میں اب کون سا کام ایسا ڈھکا چُھپا ہے جس کا سُراغ پانے کے لیے سُراغ رساں کُتّوں سے مدد لی جائے؟ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، سرِ عام اور دَھڑلّے سے ہو رہا ہے۔ ایسے میں یہ ’’کُتّا گیری‘‘ فضول لگتی ہے۔ غیر ملکی کُتّے بھی شاید یہ سوچ کر ہنستے ہوں کہ جو کچھ بچہ بچہ جانتا ہے اُس کا سُراغ لگانے کے نام پر سرکاری وسائل کی گنگا بہاکر سب اُس میں ڈُبکیاں لگا رہے ہیں۔ پولیس کے پاس کُتّوں کی موجودگی سے ایک اطمینان تو ہوا۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا سُراغ مِلے نہ مِلے، اِن تربیت یافتہ کُتّوں کی مدد سے ہم ایک دِن پولیس کا سُراغ پانے میں یقیناً کامیاب ہوجائیں گے۔ جن کا سُراغ لگانے کے لیے پولیس نے کُتّے پالے ہیں وہ تو ہمارے سامنے دندناتے پھرتے ہیں۔ اُنہیں موٹر سائیکلوں پر اور گاڑیوں میں اسلحے کی نمائش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ تو پولیس کا سُراغ پانے کا ہے۔ عوام یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ پولیس کو کِس طرح، کِس کی مدد سے ڈھونڈیں۔ صورتِ حال ذرا سی بگڑے تو پولیس ایسی غائب ہوتی ہے کہ اُس کی فوری موجودگی یقینی بنانی ہو تو کِسی مستند اور بہت دُور تک پہنچے ہوئے عامِل سے اُلّو کا عمل کرانا پڑے۔ پولیس چاہے تو یہ منطق پیش کرسکتی ہے کہ ہمارے ہاں جب دہشت گرد باہر سے آتے ہیں تو پھر اُن سے نمٹنے کے لیے کُتّے بھی باہر ہی سے آنے چاہئیں۔ کراچی پولیس کے خصوصی یونٹ میں اب گیارہ کُتّے رہ گئے ہیں۔ یعنی بارہواں کھلاڑی چلا گیا۔کوئی بات نہیں۔ پوری ٹیم سلامت ہے۔ دیکھتے ہیں گیارہ کُتّوں کی ٹیم دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف میچ جیتنے میں پولیس کے محکمے کی خاطر خواہ مدد کر پاتی ہے یا نہیں۔ ہم زیادہ پُرامید اِس لیے نہیں کہ بارہویں کُتّے کی ہلاکت بیماری سے ہوئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اُسے ناقص دیسی خوراک دی جاتی رہی تھی۔ اعلیٰ نسل کے اِن کُتّوں کے لیے خوراک بھی درآمد کی جاتی ہے۔ اور یہی نہیں، خود ہمارے ہاں کے بعض اعلیٰ نسل کے کُتّے بھی باہر ہی کی چیزیں کھاتے ہیں۔ مغربی طرز کے سُپر اسٹورز میں آپ کو چھوٹے سے جار میں سِرکے میں ڈوبی ہوئی غیر مُلکی (بالخصوص ہسپانوی) پیاز بھی فنائل کی گولیوں کی سی ہیئت میں مِل جائے گی۔ سُنا ہے کہ اب یونٹ کے پاس جو گیارہ کُتّے رہ گئے ہیں اُن میں سے بیشتر کی حالت اچھی نہیں۔ اِن میں سے جو دو بالکل صحیح حالت میں ہیں اُنہیں کسی مصنوعی جگہ پرسکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔ شہر کے دیگر تمام علاقے باقی 9 کمزور کُتّے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ یعنی اللہ ہی حافظ و محافظ ہے۔ ہم نے کب اُن پر انحصار کیا ہے، اُنہیں محافظ سمجھا ہے؟ ہمارا تو اللہ ہی پر بھروسہ تھا، ہے اور رہے گا۔ ہمیں حیرت اِس بات پر بھی ہے کہ ڈھائی کروڑ کی انتہائی متنوّع آبادی والے شہر کراچی میں اب بھی سُونگھ کر یا سُنگھواکر مشکوک اشیا کا سُراغ لگانے کی کوشش کی جائے۔ اِس قدر غیر معمولی آبادی اور اُس سے زیادہ غیر معمولی رقبے کے حامل شہر کی حالت یہ ہے کہ اگر پولیس کے پاس دس پندرہ ہزار کُتّے بھی ہوں تو سُونگھ سُونگھ کر بے دَم، بلکہ بے دُم ہوجائیں۔ کراچی کے شہریوں کا حال یہ ہے کہ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں سے اُٹھنے والے تَعَفّن کو سُونگھ سُونگھ کر قُوّتِ شامّہ سے محروم ہوچلے ہیں۔ اب کِسی بھی طرح کی بدبو میں ذرا بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔ کُتّوں کی خاصیت یہ ہے کہ ہر اجنبی چیز اور اجنبی چہرے کو دیکھ کر بھونکتے ہیں۔ کراچی میں سڑکوں پر قبضہ جمائے ہوئے آوارہ اور پولیس کے تربیت یافتہ غیر ملکی کُتّے حالات کی چَکّی میں پِسے ہوئے غریب لوگوں پر بھونکتے ہیں کہ وضع قطع سے تو یہی لوگ اجنبی اور نامانوس لگتے ہیں۔ باہر سے آئے ہوئے کُتّے سُوٹ بُوٹ پہچانتے ہیں اور اُن میں موجود لوگوں کا احترام کرتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کے سُوٹ میں ملبوس افسران نے جو خوشبو لگائی ہوتی ہے اُسے بھی یہ کُتّے خوب پہچانتے ہیں۔ غریبوں کے کپڑوں سے پُھوٹنے والی پسینے کی بُو البتّہ اِن کُتّوں کے لیے اجنبی ہوتی ہے اِس لیے بھونکنا لازم ہے۔ منشیات کی بُو تو اِن کُتّوں کی تربیت کا حصہ ہوتی ہے۔ شاید اِنہیں منشیات سُنگھائی ہی اِس لیے جاتی ہیں کہ اِن چند اشیا کے سِوا تمام چیزوں کو دیکھ کر چونکیں اور اُن پر بھونکیں۔ ویسے کُتّے درآمد کرنے کی کچھ خاص ضرورت تو نہیں ہے۔ معاملہ ’’کھانچے‘‘ کا ہو تو اور بات ہے۔ پولیس کو جو کام درآمد شدہ، تربیت یافتہ کُتّوں سے لینا ہے وہ دیسی کُتّے پہلے ہی بخوبی کر رہے ہیں۔ جن پر بھونکنے کا اشارا کیا جائے اُن پر بھونکنا ہی تو ہے۔ ہر گلی اور ہر سڑک پر براجمان آوارہ کُتّے جرائم پیشہ افراد کے سِوا سبھی پر بھونکتے، پیچھے بھاگتے اور کاٹ کھاتے ہیں۔ ایک طرف آوارہ کُتّوں اور دوسری طرف پولیس اہلکاروں کو دیکھ کر بے چارے شہری اپنی وہ دُم دباکر بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو حالات کے باعث بہت پہلے جَھڑ چُکی ہے۔ پولیس اپنے حصے کے کام کر رہی ہے یا نہیں یہ تو ہم نہیں جانتے مگر ہاں اِتنا ضرور پتا چل گیا کہ کُتّے پال رہی ہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ غیر ملکی کُتّوں کی ناز برداری کے نام پر اپنے لیے کچھ اِضافی وسائل کا اہتمام کر رہی ہے۔ قوم کی خون پسینے کی کمائی کو شیرِ مادر سمجھ کر پی جانے میں ہماری سرکاری مشینری کا جواب نہیں۔ کُتّوں وغیرہ کو ساتھ رکھنے اِضافی سہولت یہ ہے کہ کرپشن کا الزام دَھرنے کے لیے چند سَر آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ پولیس اور دیگر محکموں کے زیرِ سایا پلنے والے کُتّے بھی سرکاری وسائل کو بھنبھوڑنے کا عمل دیکھ کر سوچتے تو ہوں گے کاش ہمارے دانت بھی ایسے ہی نوکیلے اور کارگر ہوتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved