تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     15-03-2022

مگر یہ معاملات کس کے سامنے رکھے جائیں ؟؟

پرسوں کے جلسۂ عام میں وزیر اعظم صاحب نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ مغرب کو اپوزیشن سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور یہ کہ وہاں رکن پارلیمنٹ کا ضمیر خریدنے کی کسی میں ہمت نہیں۔
ہمارے وزیر اعظم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ماضی اور حال کے تمام مشاہیر میں پہلے شخص ہیں جو مغرب کو دوسروں سے زیادہ جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ دعویٰ کسی نے نہیں کیا۔گاندھی اور نہرو‘ دونوں نے تعلیم انگلستان میں حاصل کی۔ مولانا محمد علی جوہر آکسفورڈ میں پڑھتے رہے۔ ان سے کسی نے پوچھا کہ اتنی شستہ اور رواں انگریزی کہاں سے سیکھی؟کہنے لگے: ایک چھوٹے سے گاؤں سے! پوچھنے والے نے حیران ہو کر گاؤں کا نام پوچھا تو کہا :آکسفورڈ! قابلیت ایسی تھی کہ دی ٹائمز‘دی آبزرور اور دی مانچسٹر گارڈین میں ان کے مضامین چھپتے تھے۔ پھر انگریزی ہفت روزہ ''کامریڈ‘‘ نکالا۔ پہلی عالمی جنگ چھڑ چکی تھی۔ انگریز ترکوں کے خلاف تھے۔ مولانا نے کامریڈ میں وہ مضمون لکھا جو آج بھی شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ اس کا عنوان''The Choice of the Turks‘‘تھا۔چالیس گھنٹے لکھتے رہے۔ کمرے سے نہیں نکلے۔ سگریٹ اور قہوے کے علاوہ کچھ نہ کھایا‘ پیا۔ مضمون چھپا تو انگریز سرکار نے مولانا کو گرفتار کر لیا۔اخبار بند کر دیا گیا اور پرچہ ضبط ہو گیا۔ علامہ اقبال انگلستان میں بھی پڑھے‘ جرمنی میں بھی۔ جرمن زبان بھی آتی تھی۔ انگریز دانشوروں اور مستشرقین سے ذاتی روابط تھے۔ قائد اعظم نے بھی لندن میں تعلیم حاصل کی۔ کئی سال وہاں قانون کی پریکٹس کی۔ وہاں کے حکومتی طبقات سے تعلقات بھی تھے۔ ان سب میں سے کسی نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ مغرب کو دوسروں کی نسبت زیادہ جانتے ہیں۔ وزیر اعظم کا قیام برطانیہ میں کھیلوں کے حوالے سے رہا۔ کیا سیاست دانوں سے‘ سیاسی پارٹیوں سے‘ اہلِ دانش و علم سے بھی ان کے روابط رہے؟ اس بارے میں اطلاعات عنقا ہیں۔
ان کایہ کہنا کہ رکنِ پارلیمنٹ کا ضمیر خریدنے کی کسی میں ہمت نہیں‘ بالکل درست ہے؛ تاہم بہت سے اور بھی امور ہیں جو مغرب میں نہیں ہوتے۔ کیا مغرب میں حکمران اپنے گھر سے دفتر اور دفتر سے گھر‘ سرکاری خرچ پر‘ ہیلی کاپٹر کے ذریعے آتے ہیں ؟ کیا مغرب میں سیاسی پارٹیوں کے اندر انتخابات اسی طرح ہوتے ہیں جیسے تحریک انصاف کے اندر ہوئے ؟ تسنیم نورانی کیوں پارٹی چھوڑ کر چلے گئے؟ کیا مغرب میں سیاسی جماعتوں کے قائدین پچیس‘ پچیس سال پارٹی کی قیادت کرتے ہیں ؟ وہ بھی بغیر الیکشن کے ؟ کیا مغرب میں ذاتی احباب کو بڑے بڑے سرکاری مناصب تفویض کیے جاتے ہیں ؟کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ پولیس کے ضلعی سربراہ کو وزیر اعلیٰ کے دفتر طلب کیا جائے مگر سوال جواب اس سے‘ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں کوئی غیر سرکاری شخصیت کرے ؟ کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ حکمران ایک بہت بڑے صوبے کی سربراہی ایک نسبتاً گمنام شخصیت کو سونپ دے اور سب جانتے ہوں کہ حکمران کی اس گمنام شخصیت سے کوئی واقفیت نہیں تھی ؟ کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ سرکاری خرچ پر بننے والے ہسپتال کا نام وزیر اعلیٰ کے والد کے نام پر رکھ دیا جائے اور وزیر اعظم اس غلط بخشی پر سکوت کرے؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ چینی راتوں رات پچپن سے ایک سو بیس پر چلی جائے اور کسی ذمہ دار کو پکڑا نہ جائے ؟ کیا مغرب میں ایسا ممکن ہے کہ اسامی مشتہر کی جائے‘ چھ سو امیدواروں میں سے اٹھارہ چنے جائیں‘ ان کے انٹر ویو لیے جائیں مگر تعیناتی ایک گورنر کے سیکرٹری کی ہو جائے جس نے اس اسامی کے لیے درخواست دی تھی نہ انٹر ویو؟ کیا جنابِ وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا کیونکہ یہ سارا معاملہ کسی صوبے کا نہ تھا‘ وفاق کا تھا! کیا مغرب میں یہ ممکن ہے کہ عام آدمی کے گھر‘ پلازے‘ دکانیں گرا دی جائیں مگر حکمران کا گھر‘ جو اُسی نوعیت کا ہو‘ Regulariseکر کے بچا لیا جائے ؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ جن عناصر کے بارے میں پہلے انتہائی بُری رائے سر عام دی جائے‘ انہی کو بعد میں بہت بڑے اور حساس مناصب پر فائز کر دیا جائے؟ کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑے سرکاری‘ کلیدی‘ ذمہ دار‘ عہدے پر فائز شخص کہے کہ میں خود کُش بمبار بن کر تباہی پھیلانا چاہتا ہوں اور برملا یہ بھی کہے کہ یہ میری سوچ ہے اور قانون اس کا نوٹس نہ لے اور حکومت ایسے شخص کو بدستور اس بڑے اور کلیدی منصب پر بٹھائے رکھے ؟
جنابِ وزیر اعظم مغرب کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔ انہیں یقینایہ معلوم ہو گا کہ مغرب کی پوری تاریخ میں کسی وزیر نے ایسی ہولناک خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ قوم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ کابینہ کے ارکان سترہ سے زیادہ نہیں ہوں گے ! حقیقت میں ان کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے۔ آج تک اس کی توجیہ پیش کی گئی نہ قوم سے معذرت کی گئی! کیا مغرب میں یہی ہوتا ہے؟ ببانگ دہل وعدہ کیا گیا تھا کہ بجلی کے ہر بل پر پینتیس روپے پی ٹی وی کے جو لیے جاتے ہیں‘ ختم کیے جائیں گے۔ یہ ناروا ٹیکس آج تک ختم نہیں ہوا! کیا ایسی عہد شکنی‘ وہ بھی اس بلند سطح پر‘ مغرب میں ممکن ہے ؟ جنوبی پنجاب کے صوبے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ساڑھے تین سال میں یہ صوبہ نہیں بنا۔ کچھ افسر‘ اشک شوئی کے لیے‘ لگائے گئے مگر طاقت کا مرکز لاہور ہی ہے ! کیا مغرب میں وعدوں کے ساتھ یہی حشر ہوتا ہے؟
اس حکومت نے ڈاکٹر عشرت حسین کو سول سروسز اصلاحات کے لیے مشیر تعینات کیا۔ سب نے نشاندہی کی کہ یہ صاحب‘ یہی چورن پہلی حکومتوں کو بیچ چکے ہیں اور اس چورن کا کوئی فائدہ آج تک نہیں دیکھا گیا۔ مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی! یہ صاحب تین سال تک سرکاری مہمان بن کر براجمان رہے! قوم کو نہیں معلوم یہ کتنے میں پڑے۔ پھر انہیں اس لیے فارغ کر دیا گیا کہ ابھی تک حاصل حصول ان کی تعیناتی سے کچھ نہیں ہوا تھا۔ قوم کو آج تک نہیں معلوم کہ انہوں نے تین سال کے عرصہ میں کون سی اصلاحات پیش کیں یانافذ کیں۔ اس پر طرّہ یہ کہ کل کی‘ روزنامہ دنیا کی خبر کے مطابق‘ وفاقی حکومت نے سول سروس اصلاحات کے لیے صوبائی حکومتوں سے تجاویز طلب کی ہیں! اس ضمن میں معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ نے صوبوں کو مراسلے لکھے ہیں اوراصلاحات لانے کے ضمن میں قوانین میں ترامیم کی تجاویز بھی مانگی ہیں! اللہ اکبر ! سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ! حیرت ہے اور بے پناہ حیرت ! اگر سول سروس اصلاحات کے لیے تجاویز اب مانگی جا رہی ہیں تو عشرت حسین تین سال تک کابینہ کے اجلاسوں میں وزیر اعظم کو جنّوں پریوں کی کہانیاں سناتے رہے ؟ انہوں نے کیا ڈِلیور کیا؟ ان کا کوئی حساب کتاب! کوئی سزا؟ کوئی سرزنش؟ حکومت کا کوئی اعتراف کہ ان کی تعیناتی غلط تھی ؟ جناب وزیر اعظم مغرب کو بہتر جانتے ہیں ! کیا مغرب میں ایسا ہوتا ہے ؟
یہ سب تو مشتے نمونہ از خروارے ہے ! پوری دیگ ایسے ہی چاولوں سے بھری ہے ! قومی جسد پورا زخموں سے چُور ہے ! عہد شکنی اور ناروا اقدامات کا مکمل بیان ہو تو صفحوں کے صفحے سیاہ ہو جائیں! مگر یہ معاملات کس کے سامنے رکھے جائیں ؟
اسیرو! کچھ نہ ہو گا شور و شر سے
لپٹ کر سو رہو زنجیرِ در سے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved