تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     21-03-2022

بھارت کے ریاستی انتخابات (آخری حصہ)

حالیہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے پانچ میں سے چار ریاستوں میں کامیابی حاصل کی لیکن اس کے ووٹ بینک میں ہر ریاست میں اضافہ ہوا۔ بھارتی تبصروں اور تجزیوں کے مطابق ملک میں کوئی لیڈر یا پارٹی ''مودی‘‘ کے آگے نہیں ٹھہر سکتی۔ ایک زمانے میں کانگریس نے سیکولر پارٹیوں کو ساتھ ملا کر انہیں روکنے کی کوشش کی تھی لیکن اس مقابلے میں پے در پے شکستوں سے کانگریس اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اس کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ کسی زمانے میں پورے بھارت پر راج کرنے والی گرینڈ اولڈ پارٹی اب صرف دو ڈھائی ریاستوں تک سکڑ کر رہ گئی ہے۔ اب تو ہر طرف سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ اگر کانگریس کو دوبارہ فعال بنانا ہے تو گاندھی فیملی نہ صرف کانگریس سے الگ ہو جائے بلکہ سیاست سے ہی ریٹائر ہو جائے‘ کیونکہ اس کی سیاسی سوچ اور حکمت عملی ابھی تک نہرو اور اندرا گاندھی دور کی سیاست میں اٹکی ہوئی ہے‘ جبکہ گزشتہ تین چار دہائیوں میں پلوں کے نیچے سے ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں کا بہت پانی بہہ چکا ہے۔ وقت بہت گزر چکا۔
جدید بھارت کے معروضی حالات اس دور سے بہت مختلف ہیں جس کی بنیاد سوشل ازم، نیشنل ازم اور سیکولرازم کے بارے میں نہرو کے نظریات پر رکھی گئی تھی۔ اندرا گاندھی تک یہ دور جاری رہا لیکن گزشتہ ایک دہائی سے یہ دور انحطاط کا شکار تھا۔ 2022ء کے ریاستی انتخابات نے اسی دور کے حتمی خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ اب نئے دور نے نہرو کے نظریات پر مبنی پرانے دور کی جگہ لے لی ہے‘ اور کانگریس کی طرح پرانے دور سے پیوستہ سیاسی جماعتیں فرسودہ (irrelevant) ہوتی جا رہی ہیں۔ نئے دور میں بھارت کے سیاسی نظام کے تین ستونوں یعنی سیکولرازم ، نیشنل ازم اور سوشل ازم کی نئے سرے سے تعریف اور تشریح کی جا رہی ہے۔ اب سیکولرزم میں ملٹی کلچرازم، بلاک پالیٹکس اور اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی خوشنودی کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اب اس کا مطلب ایک ملک، ایک قوم اور ایک لیگل کوڈ ہے۔ شہریت کے ترمیمی قانون (Citizen Amendment Act) کا اجرا اور اس پر عمل درآمد اس سمت ایک بڑا قدم ہے۔ نیشنل ازم کا مطلب انڈین نیشنل ازم نہیں بلکہ ہندو نیشنل ازم ہو گا۔ اس کا مقصد ذات پات کی تفریق اور علاقائی تفاوتوں سے بالاتر ہو کر تمام ہندوؤں کو ایک چھتری تلے جمع کرنا ہے۔ مودی حکومت نے اب تک یہ کام بڑی سرعت سے کیا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس میں شدت پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ اس سے بھارت کی اپنے دو ہمسایہ ممالک یعنی پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
آسام میں CAA کے تحت پہلے ہی ہزاروں بنگالیوں کو غیر شہری قرار دے کر انہیں واپس بنگلہ دیش بھیجنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اکثریت کی بنیاد پر ہندو راج کے قیام کے نعرے کو بھارت کے کونے کونے میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے اور بی جے پی نے اسے ملک کے مختلف حصوں خصوصاً مشرق اور جنوب میں واقع ریاستوں میں اپنی سیاسی موجودگی پیدا کرنے کے لیے خود استعمال کیا ہے۔ ''رام مندر بن گیا، تو اب رام راج بھی ہونا چاہیے‘‘ تقریباً ہر ہندو کی زبان سے اب یہ جملہ بے ساختہ ادا ہوتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو پیدائشی ہندو تھے، مگر مذہب کو سیاست سے دور رکھنے میں یقین رکھتے تھے۔ اپنے آپ کو سوشلسٹ کہلاتے تھے اس لیے انہوں نے آزادی کے بعد جس سیاسی اور معاشی نظام کی بنیاد رکھی، نیشنل ازم اور سیکولرازم کے ساتھ، سوشل ازم اس کا ایک اہم ستون تھا‘ لیکن نئے دور میں جن طرح نیشنل ازم اور سیکولرازم کے معنی بدل گئے ہیں‘ اسی طرح سوشل ازم کی بھی اب نئے سرے سے نئی تشریح کی جا رہی ہے۔ اس سے مراد ویلفیئر ازم (Welfarism) لی جاتی ہے جس میں صاف پانی اور بلا تعطل سستی بجلی کی سپلائی، سرکاری سکولوں اور ہسپتالوں کی بہتری، کھانے پینے کی چیزوں کی سستے داموں فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور جان و مال کا تحفظ وغرہ شامل ہیں۔ جو حکومت اپنی گورننس میں ان اقدامات کو ترجیح دے گی وہ خواہ ہندو قوم پرست لیڈر یوگی ادتیا ناتھ کی ہو یا دہلی میں عام آدمی پارٹی کی‘ عوام اس کو ووٹ دیں گے۔ ریاستی انتخابات کے نتائج نے اگر ایک طرف بھارت کی سیاست پر مودی کی مضبوط گرفت کی تصدیق کر دی ہے تو دوسری طرف عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کو ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کے طور پر بھی متعارف کروا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا میں اب سنجیدگی سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ کیا کیجریوال قومی سطح پر مودی سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں ہیں؟ ایک انٹرویو میں اگرچہ انہوں نے 2024ء کے پارلیمانی انتخابات میں مودی کے مقابلے میں اپنے وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہونے کو سختی سے رد کر دیا ہے، تاہم وہ شروع سے ہی عام آدمی پارٹی کو قومی سطح پر ایک فعال پارٹی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے ان کی پارٹی نے نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے‘ مگر انہیں خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی؛ تاہم انہیں امید ہے کہ عام آدمی پارٹی بہت جلد قومی سطح پر بی جے پی کی متبادل پارٹی کے طور پر ابھرے گی۔ پنجاب میں کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ''پہلے یہ انقلاب دہلی میں آیا، پھر پنجاب میں آیا اور اس کے بعد پورے دیش میں آئے گا‘‘۔ 2019ء کے پارلیمانی انتخابات میں کیجری وال نے بنارس کے ایک انتخابی حلقے سے مودی کا مقابلہ کیا تھا‘ مگر ایک بہت بڑے مارجن سے شکست کھائی؛ تاہم دہلی کے بعد پنجاب میں ان کی پارٹی کی کامیابی نے انہیں ملک کے صف اول کے سیاسی لیڈروں کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔ مغربی بنگال کی ممتا بینرجی اور جنوب میں ایم کے سٹالن کے ساتھ مل کر وہ قومی سطح پر مودی لہر کے آگے بند باندھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ان بھارتی رہنماؤں نے اپنے اپنے علاقوں میں بی جے پی کو شکست دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک موثر اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بی جے پی کی مخالف سیاسی جماعتیں ایک عرصہ سے متحدہ محاذ تشکیل دینے کی کوشش کرتی چلی آ رہی ہیں۔ ممتا بینرجی نے اس سلسلے میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جن سیاسی رہنماؤں نے ممتا بینرجی کا ان کوششوں میں ساتھ دیا‘ ان میں اروند کیجریوال بھی شامل ہیں۔ دہلی کے بعد پنجاب میں بھی ان کی پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان کا باقی تمام اپوزیشن رہنماؤں میں قد کاٹھ بلند ہوا ہے کیونکہ بی جے پی کے مقابلے میں اب تک جتنے بھی اپوزیشن لیڈر سامنے آئے ہیں، ان کا حلقہ اثر صرف ایک ریاست تک محدود رہا‘ مثلاً ملائم سنگھ یادیو کا حلقہ اثر صرف اتر پردیش تک محدود رہا۔ اسی طرح مایا وتی کا ووٹ بینک بھی یو پی تک محدود تھا۔ لالو پرشاد بہار کے لیڈر تھے۔ ممتا بینرجی مغربی بنگال میں موثر ہیں اور سٹالن تامل ناڈو کا لیڈر ہے۔
اروند کیجریوال واحد اپوزیشن لیڈر ہیں جن کی ایک ریاست یعنی دہلی سے ہر دلعزیزی نکل کر پنجاب میں بھی پھیلی ہے۔ علاوہ ازیں ایک کٹر ہندو اور قوم پرست ہونے کے باوجود وہ ہندوتوا فلسفے کے سخت خلاف ہیں اور اسے بھارت کے اتحاد، یکجہتی اور تحفظ کے منافی سمجھتے ہیں۔ کیجری وال باقی رہنماؤں کی نسبت نوجوان ہیں۔ عمر صرف 54 سال ہے اور مودی سے برابری کی ٹکر لینے کے قابل ہونے کیلئے ان کے پاس کافی وقت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved