تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     08-08-2013

تجرباتی طورپر …!

ڈیرہ جیل پر حملے کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے بعد اس بات میں کیا شک وشبہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس ساری کارروائی کو ضلعی انتظامیہ کی حمایت حاصل تھی۔ آخر ہم حقائق کا کھل کر اعتراف کیوں نہیں کرتے جن کے ہم چشم دید گواہ بھی ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پورے صوبے میں طالبان ہیں یا طالبان نواز، کیونکہ دونوں کے درمیان قریبی رشتے داریاں ہیں۔ حتیٰ کہ وہاں کے سبھی سیاستدان گومگو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن جو اس صوبے کے ٹھیکیدار کہلانے کے شوقین ہیں، اور، عمران خان جن کی پارٹی کی وہاں حکومت ہے، انہوں نے حملہ آوروں کی مذمت کیوں نہیں کی ، اور تو اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایک ایئربیس سمیت جن فوجی تنصیبات پر ایسی وارداتیں ہوچکی ہیں وہاں بھی حملہ آوروں کو اندرونی تعاون حاصل تھا اور، ہم ان حقائق سے چشم پوشی کرکے ملک کی کیا خدمت سرانجام دے رہے ہیں؟ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جہاں نیٹو افواج نے افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست کھائی ہے اور نکلنے کے لیے بوریا بستر باندھ رہی ہیں وہاں ہم نے بھی ان کے خلاف طاقت استعمال کرکے کچھ حاصل نہیں کیا۔ امریکی عقلمند تھے اس لیے انہوں نے اس ہزیمت سے سبق سیکھا اور وہاں سے واپسی کا فیصلہ کیا لیکن ہم ان کے ساتھ حالت جنگ میں بھی ہیں اور اس سلسلے میں کوئی مربوط اور متفقہ لائحہ عمل بھی اب تک تیار نہیں کرسکے کہ اس صورت حال سے کیسے نجات حاصل کرنی ہے، اور، مسلسل اپنے بندے مرواتے جارہے ہیں۔ ہم یعنی ہماری حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی کرنا چاہتی ہے اور یہ بھی نہیں جانتی کہ یہ مذاکرات ہونے کس کے ساتھ ہیں جبکہ طالبان مذاکرات کی پیش کش ہی واپس لے چکے ہیں۔ اس سارے کشت وخون سے بڑھ کر ہمیں اس حکومتی رٹ کی حفاظت مطلوب ہے جس کا وہاں کوئی نام ونشان ہی نظر نہیں آتا۔ ایک صوبہ پنجاب ہی اس آفت سے بچا ہوا تھا لیکن اب یہاں بھی بم دھماکوں اور وارداتوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ سول آبادی خوف وہراس کا شکار ہے لیکن حکمران اپنی کھوئی ہوئی جنت کی بازیافت کے نشے سے ہی باہر نکل نہیں پارہے جبکہ خلق خدا فکروں اور اندیشوں کے دوزخ کی ہوا کھارہی ہے۔ مزید برآں ،عید کے موقعہ پر لاہور میں بھی دہشت گردوں کے حملوں کی اطلاعات ہیں‘ سنا ہے کہ اس پر ’’ضروری انتظامات‘‘ بھی کرلیے گئے ہیں! میں کوئی تجزیہ کار نہیں ہوں بلکہ ایک عام شہری کی حیثیت سے محسوسات بیان کررہا ہوں۔ دہشت گردوں کی حکمت عملی اور اس کی باریکیوں ہی سے اندازہ ہورہا ہے کہ ان کے مقابلے میں ہماری اہلیت وصلاحیت کس درجے کی ہے حتیٰ کہ ان کے پاس ہتھیار ہی اتنے جدید ہیں کہ ہماری پولیس اور دیگر اداروں نے ان کی شکل بھی نہیں دیکھی ہوگی‘ پھر، جن درس گاہوں اور مدرسوں میں ان کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے حکومت ان پر بھی سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی اور یہ شب وروز پھل پھول رہے ہیں، اور اپنی ’’مصنوعات ‘‘ کی تیاری اور سپلائی میں لگے ہوئے ہیں۔ طالبان ماضی قریب میں افغانستان پر حکمران بھی رہے ہیں اور اس دوران انہوں نے ہمارے لیے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا جبکہ اب بھی کرزئی حکومت انہیں حکمرانی میں شامل کرنے کا عندیہ بلکہ دعوت دے چکی ہے۔ کیا ہم خیبر پختونخوا کی حدتک ان کے ساتھ کوئی قابلِ عمل سمجھوتہ کرکے انہیں اپنے انتظام میں شامل نہیں کرسکتے تاکہ قتل و غارت کے اس خوفناک ماحول سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے، آخر یہ تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے اور ہم اس آخری سانس لیتی ہوئی حکومتی رٹ سے کب تک چمٹے رہیں گے۔ یا کیا ہم اس وقت کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ بزور بازو ہم پر غلبہ حاصل کرلیں، جس کی داغ بیل ڈالی جاچکی ہے۔ لگتا ایسا ہی ہے کہ اگر ہماری موجودہ حکمت عملی ہی جاری رہی تو ہمیں افغانستان کے طالبان سے بھی خیر کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے کہ نیٹو فوجیں نکل جانے کے بعد برادران اسلام آپس میں بغلگیر ہوجائیں گے بلکہ ان کے ساتھ ہمیں عملی اور حقیقت پسندانہ روابط قائم رکھنا ہوں گے کیونکہ افغانستان میں اپنی مطلوبہ پوزیشن حاصل کرنے کے بعد ہماری طرف ان کی توجہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ مبذول ہوگی۔ چنانچہ اس تناظر میں یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ افغان حکومت ابھی تک ڈیورنڈ لائن کو مستقل سرحد تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اس وقت یہ معاملہ زیادہ سنجیدگی سے سراٹھا سکتا ہے۔ ملک کا آدھا حصہ ہم پہلے ہی اپنی نادانیوں کی نذر کرچکے ہیں اور اس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ملک کی سلامتی کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پر باہر سے آکر کوئی حملہ آور نہیںہوگا کیونکہ ہمارے حملہ آور ہمارے اندر ہی چھپے بیٹھے ہیں۔ اب جبکہ طالبان نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ وہ لوگوں کی تباہی کے حق میں نہیں ہیں ، اور طالبات کی تعلیمی سرگرمیوں کے بھی خلاف نہیں، تو اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ایسی مفاہمت ہوجائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ رہے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ مسائل مذاکرات کی میز پر بیٹھنے ہی سے حل ہوا کرتے ہیں اور تنازعات کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہی رفع ہوتے ہیں۔ نہ صرف اس میں ملکی سلامتی کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جاسکتا ہے بلکہ یہ معاہدہ یا تفہیم ملکی سلامتی کے لیے ایک مستقل بنیاد بھی ثابت ہوسکتی ہے، پیشتر اس کے کہ یہ موقعہ بھی ہاتھ سے نکل جائے۔ چنانچہ یہ ہماری حب الوطنی کا امتحان بھی ہوگا اور ہماری بصیرت اور فہم وفراست کا بھی۔ وماعلینا الاالبلاغ۔ آج کا مقطع وہی کرتا ہے آکے زندہ، ظفرؔ میں تو ہر روز مارتا ہوں تجھے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved