تحریر : اقتدار جاوید تاریخ اشاعت     28-03-2022

بھائی

وہ اتنا پڑھا لکھا نہیں تھا۔ کسی کالج‘ یونیورسٹی بھی نہیں گیا تھا۔ مسجد میں ناظرہ قرآنِ پاک پڑھا تھا‘ پھر ایک روحانی سلسلے سے وابستہ ہو گیااور وابستہ بھی ایسا ہوا کہ اس کی دنیا ہی بدل گئی۔اب وہ درگاہ کا منتظم ‘متولی‘ نگہبان‘ ملازم‘ نوکر اور خاکروب‘ سب کچھ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جب درگاہ ہی میرا سب کچھ ہے تو میں بھی اس کا سب کچھ ہوں‘ منتظم سے لے کر خاکروب تک۔ روحانی سلسلہ بھی وہ‘ جس میں آخری منزل فنا فی اللہ ہوتی ہے‘ جو کسی مرشد نے سمجھا دیا‘ وہی اول‘ وہی آخر ہو گیا۔ نہ کسی اور لائن کا خیال آیا نہ وہ لائن کراس کی اور نہ ہی اس قسم کا خیال آیا۔ اب بس وہ ہے اور درگاہ ہے۔صبح سے شام‘ شام سے صبح! دنیا سے غرض نہیں نہ وہ اس کا طلبگار ہے۔دنیا بھی بڑی ظالم چیز ہے‘ جس کی اس کی جانب نظر نہیں جاتی اس کے اندر کوئی لالچ پیدا نہیں کر سکتی۔دنیا دار اس کے پیچھے مارے مارے پھرتے ہیں‘ یہ اس کے پیچھے دیوانی ہوتی جاتی ہے۔
یہ نہیں کہ اس نے دنیا کو ترک کیا‘ نہیں! وہ اس مچھلی کی طرح تھا جسے طوفان آئے یا بارش‘ پانی کے اندر رہنا ہے۔ اسے نہ بارش سے خطرہ ہے نہ طوفان سے۔ اپنی دنیا اپنی مستی‘ مچھلی کی طرح وہ بھی مست تھا۔اس نے زائرین کی سیڑھیوں کے پاس پڑی جوتیوں کو سیدھا کیا اور آہستہ آہستہ درگاہ کے صحن پر نظر ڈالتا ہوا میری طرف بڑھا۔ اچانک اس کی نظر ایک کاغذ کے ٹکڑے پر پڑی۔ اسے اٹھایا اور میرے قریب آ کر کہنے لگا: بھائی کا رشتہ بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس سے کچھ پوچھوں مگر وہ خود ہی گویا ہوا: بھائیوں کی کئی اقسام ہیں۔ میں نے سوچا کہ وہ بتائے گا کہ اچھا بھائی‘ بہت اچھا بھائی‘ وہ بھائی جو دوسرے بھائی کا دشمن ہو جاتا ہے یا کوئی اور عادتوں والا بھائی‘ اچھی یا قبیح عادتوں والا۔دو‘ تین باتیں کر کے وہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ کہنے لگا: آپ بیٹھیں میں اپنا کام کر لوں۔ کام اس کا کیا تھا‘ درگاہ کے احاطے سے تنکے‘ کنکر اور درخت سے جھڑے پتے اٹھانا۔ یہی کل اس کا مقصود اور یہی اس کی کل کائنات تھی۔
اب اسے جیسے عادت ہو گئی تھی یا اس کے پاس باتیں ہی اتنی تھیں کہ تھوڑا کام کر کے آتا‘ دانش کا پھول کھلتا‘ میں اس کی خوشبو سے مسحور ہوتا جاتا۔ ابھی پہلی مستی اترتی نہیں تھی کہ وہ درگاہ کے صحن اور سیڑھیوں پر کوئی چھوٹا سا کاغذ دیکھتا‘ اسے اٹھاتا اور ایک جانب رکھتا جاتا۔سامنے ایک بڑی سڑک تھی جہاں لوگ آ جا رہے تھے‘ مختلف گاڑیاں بھی گزر رہی تھیں۔ ان کا اپنا شور تھا مگر وہ ان سب سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن تھا۔ اسی دنیا میں اور اس دنیا سے الگ تھلگ‘ بالکل الگ تھلگ! اس بار جب وہ مڑا تو اس نے بھائی کے مقدس رشتے کے بارے میں گل افشانی کی اور ہمارے لیے سوچنے کا سامان میسر کیا۔ اس نے کہا: بھائی کا رشتہ دنیا کا سب سے بھروسے والا رشتہ ہے‘ اس جیسا کوئی اور رشتہ نہیں۔ میں تو آپ کے سامنے طفلِ مکتب ہوں‘ بھائی خاکروب چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ دوسرا میں نے سنا ہوا ہے کہ
کند ہم جنس باہم جنس پرواز ؍ کبوتر با کبوتر باز با باز
میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا۔ میرا کیسہ بالکل خالی ہے‘ اس میں دنیا کی چچوڑی ہوئی ہڈی ہے‘ کوئی ایسی کام کی چیز نہیں جو آپ کے سامنے پیش کر سکوں: تاہم بھائی کے رشتے کے متعلق کہہ سکتا ہوں کہ یہ جو بادشاہوں نے اپنے بھائیوں کی گردنیں اڑائی ہیں‘ اس پر بہت دکھ ہوتا ہے۔ مجھے چار بھائیوں کی مثال یاد آتی ہے جو تقریباً ساٹھ سال کے قریب یکے بعد دیگرے حکمران ہوئے۔ وہ خود کو خلیفہ کہلواتے تھے مگر ان میں خلافت کی کوئی خوبی نہیں تھی۔ وہ میری طرح دنیادار تھے اور ان کے کیسے میں وہی کچھ تھا جو میں نے اپنے بارے میں کہا ہے؛ دنیا کی چچوڑی ہوئی ہڈیاں۔یہی دنیا ان کی کل متاع تھی۔ وہ تین براعظموں پر حکمرانی کرتے تھے۔ موجودہ پینتالیس کے قریب ممالک ان کی سلطنت میں شامل تھے۔ سارا مڈل ایسٹ بشمول اسرائیل اور ایران‘ اوپر شمالی علاقوں کی ریاستیں اور چین کی سرحد تک ان کی حکومت تھی۔ یہ منگول اس وقت برف پھانکتے اور جانوروں کا کچا گوشت کھاتے تھے۔ اور اسی برف میں پیدا ہوتے اور یہیں دفن ہو جایا کرتے تھے۔چنگیز خان نے پانچ‘ چھ سو سال بعد جنم لینا تھا اور منگولوںکو ان کی چھوڑی ہوئی مملکت کو لوٹنا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا رنگ متغیر سا ہونے لگا‘ جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ بادشاہت کا جھگڑا ہو اور شہزادوں کا آپس میں سلوک بھی محبت والا ہو۔ سارے ایک دوسرے پر جان چھڑکنے والے ہوں‘ ایک دوسرے کے دست و بازو ہوں۔ یقین خود مجھے بھی نہیں تھا مگر تاریخ کے اوراق میں ایسے ہی مذکور ہے۔یہ کہانی ابوالملوک کی ہے یعنی بادشاہوں کے باپ کی۔اس نے خود تو تقریباً دو سال ہی بادشاہت کی مگر اس کے چار بیٹے بعد میں خلیفہ مقرر ہوئے۔
وہ میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا‘ پھر مجھے کہنے لگا کہ میں نے درگاہ کی سیڑھیوں پر جھاڑو بھی دے دیا ہے اور تازہ پانی سے ان کو دھو بھی دیا ہے‘ چلیں! وہاں بیٹھتے ہیں۔ میں اس کا اشارہ سمجھ گیا کہ بادشاہوں کی باتیں فقیر کی درگاہ کی سیڑھیوں پر ہی اچھی لگتی ہیں۔ کہاں یہ سدا کی بادشاہی اور کہاں وہ ساٹھ سال کی بادشاہت۔ہم دونوں میں ایک نامانوس‘ ایک اجنبی سا رشتہ جیسے بندھتا جا رہا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں سب سے نچلی سیڑھی پر بیٹھوں گا‘ آپ اوپر والی سیڑھی پر بیٹھیں مگر وہ میرے ساتھ مگر زائرین کی جوتیوں والی سائیڈ پر ہو گیا اور مجھے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں کوئی فلسفہ بیان کرنے لگا ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ یہ بادشاہوں کی کہانی ہے‘ اتنا تردد کرنے کی ضرورت نہیںمگر آپ نے خود ہی تو ان چار بھائیوں کی تعریف کی ہے‘ مجتمع ہو کر سننا تو لازم ہے۔ یہ بادشاہوں کا باپ یا ابوالملوک‘ عبدالملک بن مروان تھا جو 784 عیسوی میں اموی سلطنت کا پانچواں حکمران تھا۔ اگر اس کے باپ مروان بن حکم کی حکمرانی کے بھی دوسال شامل کر لیے جائیں تو یہ عرصہ ساٹھ سال سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔
عبدالملک کے چار بیٹے ولید‘ سلیمان‘ یزید اور ہشام؛ چاروں حکمران بنے۔ درمیان میں دو سال کا عرصہ حضرت عمرؒ بن عبدالعزیز کا تھا‘ ان کے بعد اس کا چوتھا بیٹا ہشام سریرآرائے سلطنت ہوا۔ عبدالمالک کا پوتا ابراہیم بھی خلیفہ بنا تھا مگر میں صرف ان چار بھائیوں تک محدود رہنا چاہتا تھا کہ ان چاروں نے کسی کی گردن نہیں اتاری‘ کسی نے کسی کو قتل نہیں کیا‘ آپس میں شیروشکر رہے اور اسی خاندان کے آخری خلیفہ پر اموی سلطنت ختم ہوئی۔اس کے علاوہ ایسی مثال‘ جس میں ایک باپ کے بیٹے اتنی دیر تک حکمران رہے ہوں اور سگے رشتے داروں کا خون نہ بہایا ہو‘ مشکل سے ملے گی۔انہوں نے بھائی کے رشتے کی لاج کو سمجھا بھی اور نبھایا بھی۔ اب میں خاموش ہو گیا اور وہ بولنے لگا کہ بھائیوں کا رشتہ اتنا مقدس ہوتا ہے کہ خونی بھائی کے علاوہ بھائیوں کی کئی قسمیں ہیں؛حج بھائی‘ پیر بھائی اور پگ بھائی وغیرہ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بھائی ہی سب سے عظیم رشتہ ہوتا ہے۔ زندگی میں کئی رشتے بنتے ہیں‘ جن کے پیچھے قانونی اور خونی نہیں‘ اخلاقی طاقت ہوتی ہے۔ پگ بھائی کا مطلب ہوتا ہے کہ اب عزت اور وقار سانجھا ہے‘ اس پر حرف آیا توپگ بھائی اسی طرح ساتھ دے گا جیسے سگے بھائی پر فرض ہوتا ہے۔ یہ رشتہ بھی نسلوں تک چلتا ہے اور آنے والی نسلیں اپنے باپ‘ دادا کا ذکر کر کے فخر سے کہتی ہیں کہ فلاں شخص ہمارا بزرگوں کا پگ بھائی تھا مگر یہ روایت بھی اب باقی بہت ساری روایتوں اور قدروں کی طرح ناپید ہو گئی ہے۔
مین شاہراہ پر گاڑیوں کا شور اسی طرح تھا جیسے پہلے تھا۔ لوگوں کا ہجوم بھی اسی طرح تھا‘ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ کسی کو دوسرے کا ہوش نہیں تھا۔ کوئی آ رہا تھا‘ کوئی جا رہا تھا‘ کوئی آنے والا تھا اور کوئی جانے لگا تھا۔ کسی نے جا کر واپس نہیں آنا تھا اور کسی نے آ کر واپس نہیں جانا تھا مگر میرے اندر وہ خاکروب خاموشی بھر چکا تھا ایک بسیط خاموشی۔ میں اس کا احسان مند ہو چکا تھا، بارِ دگر شکریہ ادا کیا اور دل میں اسے کہا: سبحان اللہ! بھائی اشرف میاں!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved