تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     15-04-2022

کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو…

پاکستان کو آزاد ہوئے اور اقوام عالم میں اپنی الگ پہچان بنائے 75 برس ہونے کو ہیں۔ اس وقت دنیا میں مسلم ریاستوں کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔ ان میں سے کئی تو اس قدر خوشحال ہیں کہ ان کی معیشت دنیا میں کسی کی محتاج ہی نہیں لیکن ان سب کے سامنے اسلام اور مسلمانوں پر حملے ہوتے رہے‘ گستاخانہ خاکے بنائے جاتے رہے مگر وہ سب رسمی سی مذمت کر کے خاموش ہو جاتے رہے۔ ان گستاخیوں کے خلاف وہ آواز بلند نہ ہوئی جو عمران خان نے بطور وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان بلند کی۔ مجھ سے جب کوئی سوال کرتا ہے کہ آپ ابھی تک عمران خان کی حمایت میں کیوں کھڑے ہیں تو ان سب کو میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ''وہ شخص جس نے اقتدار میں آنے کے بعد تاجدارِ ختم نبوت حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ رحمۃ للعالمینﷺ کی ناموس کا تحفظ کیا، گستاخی کرنے والوں کی زبانیں اور ہاتھ روکنے کیلئے اقوام عالم کو اس قدر مجبور کیا کہ دنیا بھر نے تسلیم کر لیا کہ کسی کے جذبات کو مجروح کرنا کسی بھی طور آزادیٔ اظہار نہیں ہے اور ہر سمت اس کے لیے آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ ساتھ ہی ساتھ اسلامو فوبیا کے لیے بھی اس نے آواز بلند کی اور بالآخر اقوامِ متحدہ نے عالمی سطح پر ہر سال انسدادِ اسلامو فوبیا کا دن منانے کی منظوری دے دی۔ آپ کہتے ہیں کہ عمران خان نے کیا ہی کیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اس نے ہماری تکلیفیں کم نہ کی ہوں‘ ہو سکتا ہے کہ اس کے دور میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہو‘ ممکن ہے کہ ضروریاتِ زندگی کی اشیا کو اس نے مہنگا کر دیا ہو لیکن اس نے اللہ رب العزت کے سب سے پسندیدہ مذہب اسلام کے ماننے والوں کو اسلامو فوبیا کے عفریت سے نجات دلانے کیلئے اقوام متحدہ میں قانون بنانے کا جو نعرۂ مستانہ بلند کیا‘ کیا وہ کم ہے؟ اس نے حبیبِ خداﷺ کی ناموس پر جو پہرہ دیا‘ کیا وہ کم ہے؟ مسلمانوں کو طرح طرح کے الفاظ سے تکلیف پہنچانے والوںاور ان کی تعلیم اور روزگار کی راہ میں حائل مسائل کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اس میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ آج دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہو مسلمان خود کو ایک آزاد انسان سمجھنا شروع ہو گیا ہے۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہونے کے بعد‘ دس اپریل کی رات کو اچانک ملک کے سبھی شہروں‘ قصبوں اور دیہات میں لوگ دیوانہ وار عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے باہر نکل آئے۔ صرف پاکستان ہی نہیں‘ دنیا کے پچاس سے زائد ممالک کے شہروں میں یہ احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ سب لوگ حیران ہیں کہ اچانک اتنے لوگ کہاں سے عمران خان کے حق میں ہر گھر سے نکل آئے۔ میرے نزدیک یہ عمران خان کے اقوامِ متحدہ میں دفاعِ شانِ رسالتﷺ میں کیے گئے خطاب کا انعام ہے کہ سب لوگ کسی لالچ کے بغیر، کسی کے کہنے کے بغیر‘ کسی کے بہکانے کے بغیر‘ کسی ٹرانسپورٹ‘ بریانی اور قیمے کے نان اور بوتلوں کے طمع و لالچ کے بغیر‘ ہر قسم کے خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی فیملی کے ہمراہ ملک بھر کی سڑکوں اور چوراہوں پر نکل آئے۔ انہیں کس نے لالچ نہیں دیا تھا۔ یہ لوگ خود نکلے تھے، اپنے اپنے شہر میں‘ اپنے اپنے قصبے میں اور اپنے اپنے دیہات میں جمع ہوئے اور بعد ازاں پُرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ لاکھوں‘ کروڑوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلے۔ کسی ایک جگہ پر بھی کوئی بدامنی کا واقعہ‘ کوئی لڑائی جھگڑا‘ کوئی بدتمیزی کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ یوں لگا جیسے کوئی غیبی قوت تھی جو لوگوں کو سڑکوں پر جمع کر رہی تھی۔ اسی لیے تو کہتے ہیں:
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
عمران خان کا قصور یہ ہے کہ اس نے ہمیں آزادی کا مفہوم سمجھایا‘ اس نے ہمیں دوستی‘ تعلقات‘ بھائی چارے اور غلامی کا فرق سمجھایا۔ اس نے قوم کو خودداری اور اخوت کا سبق دیا۔ اس نے قوم کو اپنی پہچان بنانے کیلئے اپنے پرچم کو سربلند رکھنے کا درس دیا۔ اس نے ''خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘ کا نعرۂ مستانہ لگایا۔ اس نے بتایا کہ دنیا میں ایک مسلمان کو کس طرح جینا چاہیے۔ اس نے ''لا الہ الا اللہ‘‘ کا اصل مفہوم ذہنوں میں اجاگر کر کے دنیا کے ہر خوف سے آزاد ہونے کا عظیم درس دیا۔ شاید اسی لیے وہ کسی ایسی قوت کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا جو اس قوم‘ اس ملک پر اگلی کئی دہائیوں تک حکمرانی کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اب الزامات کی بارش کا دور شروع ہونے جا رہا ہے‘ ایسے ایسے طوفان اٹھائے جائیں گے کہ ماضی کی سب داستانیں پیچھے رہ جائیں گی۔ ابھی کچھ روز ہوئے‘ دس برس سے زائد تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہنے والے مولانا فضل الرحمن، بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ نواز کے لیڈران نے یک زبان ہو کر الزام لگایا کہ عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا۔ اگر عمران خان نے کشمیر کا سودا کیا ہوتا تو دس اپریل کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کی سنگینوں کے سائے میںکشمیری عمران خان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے باہر نکلتے؟ مقبوضہ وادی کے اس جبر‘ خوف اور پُرتشدد ماحول میں بھی کشمیری عمران خان سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی جب بلاول بھٹو نے ٹویٹر پر یہ الزام دہرایا تھا تو حریت پسند رہنما آسیہ اندرابی کے بیٹے نے مقبوضہ وادی سے انہیں اس الزام پر جواب دیا تھا۔ اب مولانا صاحب نے یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ ان کی دس سالہ کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے دوران بھارت کو ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتا۔ ان کا یہ بیان یقینا آزاد کشمیر کے لوگوں نے بھی سنا اور دیکھا ہو گا اور ان کے سامنے2017ء کا وہ پورا سال گھوم گیا ہو گا جب آئے روز لائن آف کنٹرول پر کشیدگی رہتی تھی۔ امریکا کے ادارے ''انسٹیٹیوٹ آف پیس‘‘ کی 36 صفحات پر مبنی رپورٹ دیکھ لیجیے جس میں لکھا ہے کہ بھارت نے 1922 مرتبہ لائن آف کنٹرول معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اور وہ بھی مولانا ہی کی چیئرمین شب کا دور تھا جب پٹھان کوٹ بیس پر حملے کے بعد بھارت کو خوش کرنے کیلئے تب کے وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم پر گوجرانوالہ کے ایک پولیس سٹیشن میں اس حملے کے خلاف FIR درج کی گئی تھی۔
عمران خان حکومت کا یہ کارنامہ کم ہے کہ اس نے پاکستان بننے کے 74 برس بعد‘ جونا گڑھ پر ایک بار پھر اپنا حقِ ملکیت واضح کیا۔ جب یہ نقشہ جاری ہوا تو یہ ایسا چھکا تھا جس نے بھارت میں کھلبلی مچا کر رکھ دی تھی لیکن ستم دیکھئے کہ اس پر ہمارے اپنے ہی کچھ نام نہاد لبرل اور دانشور‘ جو عمران خان کو اپنا دشمن نمبر ایک بنائے رہتے ہیں اس نقشے کا مذاق اڑانا شروع ہو گئے۔ پاکستان کے اس نئے نقشے کی تیاریوں کی جیسے ہی مودی اینڈ کمپنی کو خبر پہنچی تھی‘ یہاں ٹاک شوز اور پریس کانفرنسوں میں سارا زور اس بیانیے پر دیا جانے لگا کہ عمران حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے۔ اسی پر بس نہیں کی گئی بلکہ یہ بیانات بھی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنتے رہے کہ حکومت نے کشمیر بھارت کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔ جب یہ افراد اندرونِ ملک کشمیر فروشی کے الزامات لگا رہے تھے تو عمران خان کی خصوصی کوششوں سے ٹائمز سکوائر نیویارک میں پاکستان کی طرف سے کشمیر کی آزادی اور بھارت کے اس پر غاصبانہ اور بہیمانہ قبضے کے خلاف تشہیری مہم زوروں پر تھی۔ فلیکس اور نیون سائن بورڈز پر رنگ بدلتی روشنیوں کے سنگم میں کہیں ''Kashmiri lives matter‘‘ اور کہیں ''Kasmir Siege Day‘‘ کی چمکتی دمکتی روشنیاں پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر رہی تھیں۔ اب عمران خان کے جانے کے بعد ایک بار پھر وہی الزامات نئے زور و شور سے بلند کیے جا رہے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved