تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     27-04-2022

اُستاد امان اللہ

بعض دفعہ یونہی بیٹھے بیٹھے آپ کے دل میں خیال کی ایک کونپل مہکتی ہے جس کی انگلی پکڑ کر آپ ان راستوں پر چل پڑتے ہیں جن پر گئے ایک عرصہ بیت چکا ہوتا ہے۔ آج بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ میں لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ رمضان میں دفتر کے اوقات کار بدل جاتے ہیں۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا۔ اچانک ذہن دل میں ایک چہرہ روشن ہو گیا۔ استاد امان اللہ کا چہرہ۔ اس چہرے پر بڑی بڑی آنکھیں گہری، چمک دار اور روشن تھیں۔ میرے دل میں شدت سے ایک خواہش نے انگڑائی کی کہ میں مدتوں سے بچھڑے ہوئے استاد امان اللہ کے پاس جاؤں۔ اس کی ورکشاپ میں بیٹھ کر چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کڑک چائے پیئوں اور اس کی خوبصورت‘ دل کو موہ لینے والی گفتگو سنوں۔ میں نے اپنے ڈرائیور علی سے کہا: آج ہم گھر کے بجائے ایک اور جگہ جائیں گے اور افطاری وہیں کریں گے۔ اس کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر میں نے کہا: آج ہم ماڈل ٹاؤن جائیں گے جہاں کے ایک سیکٹر میں استاد امان اللہ کی ورکشاپ ہے اور جہاں آج سے بائیس سال پیشتر میری ان سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کا بہانہ میری وہ شیراڈ کار تھی جو ڈیزل پر چلتی تھی اور جو میں نے ان دنوں خریدی تھی جب میں نے کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کیا تھا۔
کئی برس کراچی میں رہنے کے بعد میں لاہور آ گیا‘ اور ایک مقامی یونیورسٹی سے وابستہ ہو گیا۔ کراچی سے جو ضروری سامان میں اپنے ساتھ لاہور لایا تھا‘ اس میں میری شیراڈ گاڑی بھی تھی۔ لاہور میں میرا قیام کلمہ چوک کے قریب عسکری کالونی میں تھا۔ لاہور میں یہ میرے ابتدائی دن تھے کہ ایک دن خلافِ معمول شیراڈ نے چلنے سے انکار کر دیا۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ڈیزل گاڑیوں کے مکینک خال خال تھے۔ میرے پوچھنے پر ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ماڈل ٹاؤن میں ڈیزل گاڑیوں کا ایک ماہر مکینک استاد امان اللہ ہے‘ آپ اس کے پاس چلے جائیں۔ میں گاڑی کو بمشکل اس ورکشاپ تک لے آیا جس کے بارے میں میرے دوست نے مجھے بتایا تھا۔ یہ ایک کھلی جگہ تھی جس کے اوپر ٹین کی چھت ڈال کر ایک چھپر بنایا گیا تھا۔ وہاں چند گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ایک گاڑی کا انجن کھلا تھا اور ایک دو لوگ گاڑیوں کی مرمت میں مصروف تھے۔ میں نے ایک گاڑی کے نیچے لیٹے لڑکے سے پوچھا: استاد امان اللہ سے ملنا ہے؟ کہاں ملیں گے؟ اس نے کہا: ورکشاپ کے ساتھ ہی ان کا گھر ہے‘ ابھی آتے ہوں گے آپ تھوڑا انتظار کر لیں۔ میں نے دیکھا چھپر کے ایک طرف ایک چارپائی رکھی تھی اور اس کے ساتھ ٹوٹی ہوئی دو کرسیاں۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور استاد امان اللہ کا انتظار کرنے لگا۔ اچانک میری نگاہ اس فریم پر پڑی جو سامنے والی دیوار پر لگا تھا۔ فریم میں معروف مصنف اشفاق احمد کی وہ نصیحت لکھی تھی جو وہ اپنے ٹی وی پروگرام زاویہ کے ہر پروگرام کے آخر میں سامعین کو کرتے تھے ''اللہ تعالیٰ آپ کو آسانیاں دے اور آپ کو آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے‘‘۔ یہ فریم ایک نمایاں مقام پر آویزاں تھا۔ میں اس فریم کو دیکھنے میں محو تھا کہ اچانک کسی نے مجھے کہا ''لیں استاد امان اللہ آگیا ہے‘‘۔ میں نے دیکھا اُجلے سفید لباس میں ایک شخص ورکشاپ میں داخل ہوا تھا۔ اس کے گندمی چہرے میں سب سے نمایاں چیز اس کی روشن، اُجلی اور چمک دار آنکھیں تھیں۔ میں نے اپنی گاڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کچھ پرابلم کر رہی ہے۔ استاد امان اللہ نے گاڑی کی طرف نگاہ کی اور بولا ''ٹھیک ہو جائے گی آپ پہلے چائے پئیںپھر ہم گاڑی کو دیکھتے ہیں‘‘ اس کے ساتھ ہی اس نے کڑک دار آواز میں ورکشاپ کے چھوٹے کو چائے لانے کو کہا۔ کچھ ہی دیر میں چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چائے آ گئی۔ میں چائے پینے لگا تو استاد امان اللہ خاموشی سے میری گاڑی کی طرف گیا۔ بونٹ کھول کر جھانکا‘ پھر گاڑی کے اندر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کی اور پھر میرے پاس آکر چارپائی پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا ''ٹھیک ہو جائے گی‘‘۔ اور واقعی اگلے ایک گھنٹے میں گاڑی ٹھیک ہو گئی تھی۔ یہ میرا استاد امان اللہ سے پہلا تعارف تھا۔ اس روز چائے پیتے ہوئے میں نے پوچھا: یہ اشفاق صاحب کی نصیحت آپ نے فریم کر کے لگائی ہے۔ اس پر استاد امان اللہ نے کہا: اشفاق صاحب بڑا بیبا (بھلا مانس) آدمی ہے۔ بعد میں پتہ چلا استاد امان اللہ کی اشفاق احمد، منیر نیازی، حفیظ جالندھری اور فیض صاحب سے دوستی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ماڈل ٹاؤن میں استاد امان اللہ ساٹھ کی دہائی میں آیا تھا اور اس وقت یہی ایک ورکشاپ تھی جہاں ان لوگوں کی گاڑیاں ٹھیک ہونے کے لیے آتی تھیں۔ اس کی دوسری وجہ استاد امان اللہ کا مزاج تھا۔ وہ ان بڑے لوگوں کی محفلوں میں چپ چاپ بیٹھتا اور علم کے لعل و جواہر چنتا رہتا۔ ان محفلوں میں بیٹھ کر استاد امان اللہ کی اپنی گفتگو میں بھی ایک تاثیر آگئی تھی۔ ایک روز باتوں باتوں میں کہنے لگا ''نیت انسانی اعمال کے لیے موبل آئل کی طرح ہوتی ہے‘‘۔ میں اس نادر تشبیہ پر حیران رہ گیا۔ اب میں کبھی کبھی یونہی ماڈل ٹاؤن استاد امان اللہ کی ورکشاپ پر چلا جاتا۔ مجھے دیکھ کر وہ دور سے ہی آواز دیتا ''اوئے چھوٹے جلدی سے چائے لے آ دیکھ ڈاکٹر صاحب آئے ہیں‘‘۔ چارپائی کے ساتھ بچھی کرسی پر بیٹھ جاتا اور استاد امان اللہ کی جادو بھری گفتگو سنتا۔ ایک روز میں ورکشاپ میں بیٹھا تھا کہ ایک گاہک نے استاد امان اللہ سے پوچھا: آپ کو ذرا سی دیر میں کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ گاڑی میں کیا مسئلہ ہے۔ استاد امان اللہ نے سوال سن کر بغیر سر اُٹھائے جواب دیا ''اب مجھے اس کام میں اتنا عرصہ ہو گیا ہے کہ میں جب گاڑی کے کسی حصے پر ہاتھ رکھتا ہوں تو پرزے میرے ہاتھوں میں بولتے ہیں‘‘۔ استاد امان اللہ کا جواب سن کر میں سوچنے لگا: شاید ہر فنکار کی زندگی میں ایک ایسا مقام آتا ہے جب تخلیق اس سے باتیں کرتی ہے۔ استاد امان اللہ کا گھر ورکشاپ سے جڑا ہوا تھا۔ استاد کا ربط خاص اپنے چھوٹے بیٹے شہزاد سے تھا‘ جسے وہ کاکا کہہ کر بلاتا تھا۔ استاد امان سے میری آخری ملاقات کو دس سال ہو گئے ہوں گے۔ اس دوران ہم اسلام آباد چلے گئے۔ کئی برسوں کے بعد اب میں دوبارہ لاہور آیا ہوں اور ایک مقامی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔ یہ رمضان کا مہینہ ہے۔ تھوڑی دیر پہلے آفس سے اٹھا ہوں اور دل کی آواز پر استاد امان کی ورکشاپ کی طرف چل پڑا ہوں۔ ایک عرصہ گزر گیا تھا لیکن میں بغیر بھولے ورکشاپ تک پہنچ گیا۔ اب ٹین کے چھپر کے بجائے یہاں ایک خوبصورت ورکشاپ کی عمارت تھی جس پر استاد امان اللہ کا نام لکھا تھا۔ میں گاڑی سے اترا تو استاد کا بیٹا شہزاد نظر آیا۔ وہ اب بڑا ہو گیا تھا۔ اس نے مجھے نہیں پہچانا تھا۔ میں نے پوچھا: استاد امان اللہ۔ ابھی میرا جملہ مکمل نہیں ہوا تھا کہ وہ بولا: استاد امان اللہ تو چار ماہ پہلے فوت ہو گئے۔ پھر وہ بولا: آپ بتائیں گاڑی کا کوئی پرابلم ہے؟ لفظ میرے حلق میں اٹک گئے تھے۔ آج پہلی بار مجھے وہ مانوس آواز نہیں آئی تھی ''اوئے چھوٹے جاؤ چائے لے آؤ دیکھو ڈاکٹر صاحب آئے ہیں‘‘۔ میں چپ چاپ مُڑا اور ڈرائیور سے کہا: علی! واپس گھر چلتے ہیں‘ افطار تک گھر پہنچنا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved