تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     29-04-2022

الوداعی جمعہ اور تھیلیسیمیا میں مبتلا بچہ

اللہ کے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ کے میزبان حضرت ابو ایوب انصاریؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے (دین کی نصیحت آمیز) تعلیم دیجئے جو مختصر ہو۔ فرمایا: جب نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوجائو تو اس طرح نماز پڑھو جیسے تم دنیا کو الوداع کہنے والے ہو۔ (ابن ماجہ: 4171، سندہٗ حسن)
قارئین کرام! آج رمضان المبارک کا آخری جمعہ ہے۔ اسلامی اصطلاح میں اس جمعہ کو ''جمعۃ الوداع‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ حضور کریمﷺ کے فرمان کے پیشِ نظر رمضان اور اس کا الوداعی جمعہ ایسا ہونا چاہیے کہ ایک مومن کا یہ آخری رمضان اور آخری جمعہ ہے‘ اس کے بعد وہ دنیا کو الوداع کہنے والا ہے۔ دنیا کو خیر باد کہنے کے خیال کے ساتھ جو نماز ادا ہوگی‘ وہ مثالی نماز ہوگی۔ دنیا کو الوداع کہنے کے ارادے سے جو رمضان گزارا‘ وہ بھی مثالی ہوگا۔ رمضان المبارک کے الوداعی جمعہ کے ساتھ جو دیگر تین یا چار جمعے گزرے‘ وہ بھی مثالی ہوں گے۔ ان جمعوں کی نمازیں بھی مثالی ہوں گی۔ اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی محبت کا سمندر موجزن رکھنے والی ہوں گی۔ اب سوال تو یہی ہے کہ حضور کریمﷺ کے قائم کردہ میزان پر ہماری نمازیں‘ رمضان المبارک کے روزے اور چاروں خطباتِ جمعہ کیسے تھے؟ اس کا جائزہ لینے کا جو دن ہے وہ آج‘ الوداعی جمعہ کا دن ہے۔
آج جمعۃ الوداع کے موقع پر مجھے تھیلیسیمیا میں مبتلا ایک بچہ بہت یاد آرہا ہے۔ دنیا کو الوداع کہنے والا یہ بچہ احمد تھا۔ کنگن پور‘ ضلع قصور کا رہنے والا تھا۔ وہ اپنے بچپن میں تھیلیسیمیا جیسے مہلک مرض کا شکار ہوگیا تھا۔ احمد کے والد محمد یونس آسودہ حال تھے۔ وہ لاہور میں بچے کا علاج کراتے رہے۔ بچہ ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کا طالب علم بن گیا۔ اب جوانی میں قدم رکھ چکا تھا۔ کنگن پور اور اس کے نواحی دیہات میں تھیلیسیمیا کے
مریض بچے اور بچیاں کافی تعداد میں تھے۔ یہ بچے غریب تھے۔ لاہور جانے کا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے تھے؛ چنانچہ ایک نوجوان امجد شہزاد نے اپنے ساتھ چار دوست اور ملائے‘ ان سب نے اپنی جیب سے پیسے ڈال کر غریب بچوں کو کرایے کی کاروں پر لاہور بھیج کر ان کا علاج کرانا شروع کر دیا۔ 2018ء میں صفدر بشیر، احسن جمال، اشرف شاہین اور محمد سعید جیسے نیک دل نوجوان یہ اخراجات برداشت کرتے رہے۔ احمد کو جب پتا چلا کہ کنگن پور کے چند نوجوان تھیلیسمیا کا شکار غریب بچوں کی خدمت کر رہے ہیں تو احمد مرحوم بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ یوں ایک فائونڈیشن وجود میں آگئی۔ اسے رجسٹرڈ بھی کروالیا گیا۔ ایک ایمبولینس بھی خرید لی گئی اور اس کے ذریعے بچوں کو لاہور میں انتقالِ خون کی سہولت مہیا کر دی گئی۔ احمد‘ جو خود تھیلیسیمیا کا شکار تھا‘ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کنگن پور میں تھیلیسیمیا کا ایک ہسپتال بنانا چاہیے کیونکہ بچوں کی تعداد ڈیڑھ سو کے قریب ہو گئی تھی۔ لاہور کا سفر بجائے خود ایک تکلیف دہ امر تھا؛ چنانچہ ادھر ہسپتال بنانے کے مشورے ہونے لگے اور ادھر محمد یونس کا بیٹا احمد‘22 سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔ تھیلیسیمیا کے بچے زیادہ سے زیادہ 22‘ 24 سال کی عمر ہی جی پاتے ہیں۔ احمد کے والد گرامی کی خواہش پر اس کا جنازہ میں نے پڑھایا۔ جنازہ بہت بڑا تھا‘ وجہ یہ تھی کہ یہ بچہ سائنس کا سٹوڈنٹ تھا‘ ذہین تھا‘نیک دل تھا اور علاقے میں ایک ہسپتال بنانا چاہتا تھا۔
احمد کی وفات کے چند دن بعد‘ یعنی آج سے کوئی چھ ماہ قبل‘ کنگن پور کے ایک وسیع و عریض ہال میںعلاقے بھر کے مریض بچے اور بچیاں اکٹھے کیے گئے۔ ان کے والدین بھی مدعو کیے گئے اور شہر کے صاحبِ حیثیت لوگوں کو بھی دعوت دی گئی۔ مجھے بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیاگیا۔ میں نے اس تقریب میں بیک وقت کئی چیزوں کو اکٹھا دیکھا؛ 1: سب کو معلوم ہے کہ یہ بچے‘ بچیاں جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی فوت ہوجائیں گے اس کے باوجود سب تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ 2: سب ذہین ہیں اور اپنی ذہانت کے موتی مائیک پر آکر بکھیر رہے ہیں۔ 3:ماں باپ اور حاضرین کی آنکھوں میں آنسو ہیں کہ یہ بچے ہمارے پاس مہمان ہیں مگر ان بچوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سب اپنا اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔4:یہ سب اپنے ربِ کریم کو راضی کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے اپنی اختتامی گفتگو میں ایک حدیث قدسی‘ جو صحیح بخاری شریف میں ہے‘کو بیان کیا کہ قیامت کا دن ہوگا‘ اللہ تعالیٰ سب لوگوں کی موجودگی میں ایک بندے سے پوچھیں گے‘ شکوہ کریں گے کہ میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی؟ بندہ عرض کرے گا: مولا کریم! آپ رب العالمین ہیں‘ یہ کیسے ہو سکتاہے کہ آپ بیمار ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میرا فلاں بندہ بیمار تھا‘ تم نے اس کی عیادت نہیں کی۔اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس ہی پاتا۔ عربی زبان میں شفا خانے کو ''عِیَادَ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عود اور اعادے سے ہے؛ یعنی مریض کی حقیقی عیادت یہ ہے کہ اس کی بیماری کے علاج کا ایسا راستہ بنایا جائے کہ وہ اپنی صحت کی پہلی حالت پر واپس آجائے۔ ویسے تو خیریت دریافت کرلینا بھی عیادت ہے مگر عیادت کی اعلیٰ ترین قسم مریض کا علاج کرانا ہے۔ اس کے بعد ہسپتال بنانے کے لیے احمد مرحوم کی خواہش اور جدوجہد پر گفتگو کرتے ہوئے اور سارے موجود بچوں کو اپنے ساتھ کھڑا کرتے ہوئے میں نے ہسپتال کے لیے جگہ مانگی تو کنگن پور کا ایک صاحبِ حیثیت اللہ کا بندہ کھڑا ہوا اس نے دو کنال جگہ دینے کا اعلان کیا جس کی مالیت لگ بھگ دو کروڑ روپے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انعام فرما دیا تھا‘ راستہ ہموار فرما دیا تھا۔ ہسپتال کے لیے ٹھکانا مہیا کردیا تھا؛ چنانچہ ہسپتال کا نام تھیلیسیمیا بچے احمد مرحوم کے نام پر ''احمد تھیلیسیمیا کیئر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر‘‘ رکھ دیا گیا۔
آج جمعۃ الوداع ہے‘ ربِ کریم نے احمد کو اپنے پاس بلا لیا ہے جبکہ اس کا خواب اس حد تک پورا کردیا ہے کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر ہسپتال کی عمارت کا لینٹر ڈال دیا گیاہے۔ احمد کی الوداعی خواہش ربِ کریم نے رمضان المبارک کے الوداعی جمعہ پر پوری کرنا تھی۔ اگلے جہان میں احمد کے درجات کے اعلیٰ مقامات کس نوعیت کے ہوں گے؟ ان شاء اللہ خوب تر ہوں گے۔ صدقہ جاریہ بن کر مزید اضافہ کرتے جائیںگے۔
ویسے ترقی یافتہ ملکوں میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا جو علاج ہوتا ہے‘ وہ ہڈیوں کے گودے (بون میرو ٹرانسپلانٹ) کا ایسا علاج ہوتا ہے کہ مریض مستقل طور پر تندرست ہوجاتا ہے مگر یہ علاج صرف بیرونِ ملک ممکن ہے اور ایک مریض پر کروڑوں کا خرچہ آتا ہے۔ کیا میرے ملک پاکستان کا کوئی ایک یا متعدد اربوں پتی مل کر کوئی ایسا ہسپتال بنائیں گے کہ پاکستان کے اندر مناسب قیمت پر یا مفت یہ علاج ہو سکے؟ جمعۃ الوداع پر کون کرے گا یہ عزم؟ بلند عزمی پر حضور رحمت دو عالمﷺ کی ایک مبارک حدیث پر کالم کو الوداع کہنے جا رہا ہوں، حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص اللہ کے رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسولﷺ ! تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر وہ کون شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے؟ اسی طرح تمام اعمال میں سے وہ کون سے اعمال ہیں جو اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر پیارے ہیں؟ اس پر حضور کریمﷺ نے فرمایا: 1: تمام انسانوں میں سے سب سے بڑھ کر محبوب اللہ کے ہاں وہ لوگ ہیں جو انسانیت کے لیے سب سے بڑھ کر نفع اور فائدے کا باعث بنیں۔ 2: تمام اعمال میں سے سب سے بڑھ کر اللہ کے ہاں محبوب عمل یہ ہے کہ کسی مسلمان کو خوشی و مسرت پہنچائی جائے۔ 3: اس سے کسی مصیبت کو دور کردیا جائے۔ 4: اس کا قرض چکا دیا جائے۔ 5: اس سے بھوک کو ہٹا دیا جائے۔6: جو اپنے بھائی کے کسی کام میں تعاون کے لیے چل پڑے تو یہ مجھے (محمد کریمﷺ کو) میری اس مسجد (نبوی) میں مہینہ بھر اعتکاف بیٹھنے سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔ 7: جس نے اپنے غصے کو روک لیا اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کریں گے۔ 8: جو اپنے غضب پر عمل کرنے کی طاقت رکھتا ہو‘ اس کے باوجود وہ اپنے غضب کو پی جائے اللہ تعالیٰ اس کے دل کو قیامت کے دن ( اپنی رحمت کی) امید سے بھر دے گا۔ 9: جو اپنے بھائی کے کسی کام میں اس وقت تک لگا رہے جب تک وہ پورا نہ ہوجائے‘ اللہ تعالیٰ اس کے قدموںکو اس روز جما دے گا جب قدم متزلزل ہوں گے۔ 10: گندا اخلاق کسی بھی عمل کو اس طرح برباد کرتا ہے جس طرح سر کہ شہد میں داخل ہوکر شہد کو خراب کر دیتا ہے۔ (طبرانی معجم الکبیر، سلسلہ صحیحہ للالبانی:906)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved