تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     26-05-2022

سرخیاں، متن اور قمر رضا شہزاد

پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال
ملک ہے: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ''پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے‘‘ اور ان بے شمار وسائل سے استفادہ نہ کرنا کفرانِ نعمت سے کم نہیں ہے جبکہ کفرانِ نعمت پر بھی باز پرس ہو گی‘ اسی لیے ہم نے مدت پوری کرنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ ڈیڑھ سال کا عرصہ کانٹوں کی سیج سے کسی بھی طور کم نہیں جبکہ اس کام میں تجربہ ایک پلس پوائنٹ ہے اور تاریخ اس کارگزاری سے بھری پڑی ہے اور جس کے شواہد ملک کے اندر اور ملک کے باہر بھی شیشے کی طرح جگمگا رہے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ وسائل ہمارے ہی انتظام میں تھے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے۔
کارکن اور رہنما گرفتاریوں سے بچنے
کے لیے چھپ جائیں: اسد عمر
سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا ہے کہ ''کارکن اور رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے چھپ جائیں‘‘ کیونکہ اس طرح وہ آزادی مارچ کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے جو رکاوٹوں اور پابندیوں کے باعث ناممکن نظر آ رہا ہے اور حکومت نے سارے راستے بند کر رکھے ہیں، اس لیے وہ جہاں جہاں چھپیں‘ وہاں وہاں ہی آزادی مارچ کا لطف اٹھائیں۔ اس لیے وزرا کشادہ جگہوں پر چھپنے کی کوشش کریں تاکہ وہاں آسانی کے ساتھ مارچ بھی کر سکیں؛ البتہ نعرے لگانے سے پرہیز کریں کیونکہ اس طرح وہ پکڑے بھی جا سکتے ہیں اور یہ مارچ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ خود عمران خان انہیں نہ کہہ دیں کہ اب بس کرو! آپ اگلے روز ایوانِ بالا میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
سابق حکومت کا گند صاف کرنے کے لیے
اَنتھک محنت کرنا پڑے گی: شہباز شریف
وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''سابق حکومت کا گند صاف کرنے کے لیے اَنتھک محنت کرنا پڑے گی‘‘ اور یہ مشکل نہیں ہے کیونکہ اَنتھک محنت کی عادت پڑی ہوئی ہے اور یہ جو اندر باہر بہاریں لگی نظر آ رہی ہیں‘ یہ اَنتھک محنت ہی کا نتیجہ ہیں؛ البتہ جسمانی کے بجائے ہمیشہ ذہنی محنت سے کام لیا ہے اور ایسے ایسے طریقے ایجاد کیے ہیں کہ کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ یہ اتنا کچھ ہو کیسے گیا لیکن ذہانت و فطانت محض خدا کی دین ہے اور اس پر کبھی فخر بھی نہیں کیا کیونکہ بنیادی طور پر نہایت منکسرمزاج واقع ہوئے ہیں۔ آپ اگلے روز قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو کے ایک وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
صرف سیاستدانوں پر یقین سے
ملک ترقی نہیں کر ے گا: جنید خان
اداکار جنید خان نے کہا ہے کہ ''صرف سیاستدانوں پر یقین سے ملک ترقی نہیں کرے گا‘‘ اس لیے اس ترقی میں اداکاروں کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ اگر لوگ لاکھوں کی تعداد میں جلسوں میں جاتے ہیں تو لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں سکرین پر ہمیں بھی دیکھتے اور تالیاں بجاتے ہیں اور سیاستدانوں سے بڑھ چڑھ کر اداکارائوں سے آٹوگراف لینے اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنوانے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں جبکہ لوگوں کے گھروں میں سیاستدانوں سے زیادہ ہماری اداکارائوں کی تصاویر لگی نظر آتی ہیں؛ چنانچہ یہ ملک سب کا ہے اور سب کو مل جل کر ہی اس کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہیے جس کے لیے ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں قمر رضا شہزاد کی شاعری:
سنا سبھی کو یہاں اور کلام کم کیا ہے
جہانِ شور میں ہم نے خرام کم کیا ہے
نبھا سکے نہ محبت اور اب یہ سوچتے ہیں
جو لازمی تھا وہی ہم نے کام کم کیا ہے
یہ جیسے ہم تری زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں
کسی نے اپنا ہمیں یوں غلام کم کیا ہے
ہم اپنی لہر میں گزرے ہمیں نہیں معلوم
نگاہ کی کہاں‘ کس کو سلام کم کیا ہے
٭......٭......٭
طلوع ہوتی ہوئی کہکشاں کا راستہ ہوں
مجھے پتا ہے میں آئندگاں کا راستہ ہوں
قبیلے والو سنو جنگ اور صلح کے بیچ
جو بچ گیا میں وہی درمیاں کا راستہ ہوں
کوئی کرے گا مری سمت کا تعین کیا
میں ایک بھٹکی ہوئی داستاں کا راستہ ہوں
ابھی مجھے بھی نہیں اس معاملے کی خبر
میں جا رہا ہوں کدھر اور کہاں کا راستہ ہوں
کسی میں حوصلہ ہو تو مری طرف آئے
بتا رہا ہوں میں جاں کے زیاں کا راستہ ہوں
آج کا مطلع
جہاں لمحۂ شام بکھیر دیا
وہیں اک پیغام بکھیر دیا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved