تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     18-06-2022

بحرانوں سے سبق بھی تو سیکھئے

دنیا کا نظام سرد و گرم‘ نشیب و فراز اور فراخی و تنگی کے امتزاج پر مبنی ہے۔ کوئی ایک کیفیت ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی اور ہو بھی نہیں سکتی۔ قدرت کا قانون ہے کہ ہر ذی نفس کو سانسوں کی گنتی پوری ہونے تک مختلف مراحل سے گزرنا ہے۔ ہر مرحلہ کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔ اور کچھ نہ سہی تو سبق ہی سہی۔ ہر بحران ہمارے لیے آزمائش کا درجہ رکھتا ہے۔ ہم اس آزمائش سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور سیکھنا بھی چاہیے مگر افسوس کہ ہم بالعموم پریشان رہنے کی منزل میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔
ہم میں سے ہر ایک میں مختلف حوالوں سے غیرمعمولی صلاحیت و سکت پائی جاتی ہے۔ اس کا ادراک بالعموم اُس وقت ہو پاتا ہے جب معاملہ ''کرو یا مرو‘‘ کے مرحلے تک پہنچتا ہے۔ جب صورتِ حال صرف عمل کا تقاضا کر رہی ہو تب ہم اپنی صلاحیت و سکت کو بروئے کار لانے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے تحریک کے منتظر رہتے ہیں۔ جس طور گھوڑے کو ایڑ لگائیے تب وہ دوڑتا ہے بالکل اسی طور ہمیں بھی کوئی معاملہ یا کوئی فرد تحریک دیتا ہے تو ہم رُو بہ عمل ہوتے ہیں۔ زندگی کا سفر یونہی جاری رہتا ہے۔ کسی نہ کسی معاملے میں اور کسی نہ کسی طور کامیاب تو سبھی ہوتے ہیں مگر حقیقی اور نمایاں کامیابی اُنہیں ملتی ہے جو کچھ کرنے کی تحریک خود محسوس کرتے ہیں۔ کام کرنے کی سچّی لگن اگر خود پیدا کر لی جائے تو کامیابی کا حصول زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ حالات و واقعات یا افراد کی طرف سے ملنے والی تحریک بھی کارگر ثابت ہوتی ہے مگر ایسے میں کبھی کبھی وقت ہاتھ سے نکل بھی چکا ہوتا ہے۔ جو لوگ کسی کی طرف سے تحریک دیے جانے کا انتظار کرنے کے بجائے مائل بہ عمل رہتے ہیں وہ زیادہ اور تیزی سے کامیاب ہوتے ہیں۔
فی زمانہ بہت کچھ اِدھر سے اُدھر ہوگیا ہے‘ اُلٹ پلٹ گیا ہے۔ یہ حقیقت جس قدر جلد تسلیم کر لی جائے اُتنا ہی اچھا۔ دنیا بھر میں عام آدمی اب تک خوش فہمیوں کے دائرے میں گھوم رہا ہے۔ سادہ لوحی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگ بعض معاملات میں انتہا سے زیادہ خوش اُمّید رہتے ہیں۔ زمینی حقائق کچھ اور بیان کر رہے ہوتے ہیں اور متعلقین کسی اور ہی طرح کی توقعات وابستہ کیے رہتے ہیں۔ توجہ دلائیے تب بھی لوگ خوش فہمیوں کے دائرے سے باہر قدم رکھنے کو اپنے لیے حرام سمجھتے ہیں۔ مزید سادہ لوحی یہ ہے کہ کسی بھی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہونے پر کچھ کرنے کے بجائے محض یہ سوچنے پر اکتفا کرلیا جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مشکل دور ہو ہی جائے گی۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟ عمومی سطح پر آج تک تو ایسا نہیں ہوا۔ کائنات یا فطرت کے اصول کسی کے لیے تبدیل نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی یہ کائنات کچھ خرقِ عادت بھی کرتی ہے تو ایسا صرف کرشمے کی صورت میں ہوتا ہے۔
پس ماندہ معاشروں کا ایک بڑا اور بنیادی المیہ یہ ہے کہ اُن میں بسنے والے خیال و خواب کی دنیا کے بھی مکین ہوتے ہیں۔ حقیقت پسندی سے نظر چُرانے کی روش ایسے معاشروں میں عام ہے۔ عام آدمی یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا کہ اُس کے بیشتر معاملات اگر بگڑے ہوئے ہیں تو ایسا اُس کی اپنی طرزِ فکر و عمل کے ہاتھوں ہوا ہے۔ اپنے بارے میں سوچنے‘ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اصلاحِ احوال پر مائل ہونے کا چلن پس ماندہ معاشروں میں عام نہیں۔ لوگ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو بدلنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی حقیقی تبدیلی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
پاکستانی معاشرہ کئی بار بحرانی کیفیت سے گزرا ہے اور اب بھی گزر رہا ہے۔ یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کسی نہ کسی نوع کی بحرانی کیفیت اب رہتی ہی ہے۔ ہماری طرح بحران بھی اب پاکستانی معاشرے کے مستقل مکین ہیں! اب سوال یہ ہے کہ بحرانوں نے ہمیں کس حد تک تبدیل کیا ہے۔ کیا ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ بحران ہم پر بہت حد تک اثر انداز ہوئے ہیں؟ یقینا‘ یہ دعویٰ تو کوئی بھی کر سکتا ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ بات منفی اثرات سے شروع ہوکر منفی اثرات ہی پر ختم ہو جاتی ہے۔ کسی بھی بحرانی کیفیت سے ہم مجموعی طور پر کچھ بھی اچھا سیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہمیں یہ پسند ہی نہیں کہ کسی بھی مشکل صورتِ حال کے بارے میں سنجیدہ ہوں‘ اُس سے نجات پانے کے حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں‘ اپنے فکر و عمل پر پورے اخلاص سے نظر ڈالیں اور اپنی خامیوں کو دور کرنے پر مائل ہوں۔ آج کا پاکستان مختلف معاملات میں بحرانی کیفیت کا حامل ہے۔ بیشتر معاملات رُل چکے ہیں۔ نظم و ضبط کے شدید فقدان کے ہاتھوں زندگی کا توازن خطرناک حد تک بگڑ چکا ہے۔ جب مجموعی طور پر بہت کچھ اپنے اپنے مقام سے ہٹ چکا ہو تب سمجھنے‘ سوچنے اور کچھ کرنے کی تحریک بھی ملا کرتی ہے۔ یہ تحریک خود بہ خود تو نہیں ملتی۔ جو سنجیدہ ہوکر اپنے معاملات درست کرنے کی طرف متوجہ ہو اُسے کچھ سوچنے‘ سمجھنے اور کرنے کی تحریک ملتی ہے۔ یہ صرف اشارہ ہوتا ہے۔ باقی سب کچھ تو انسان کو خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ وقت ہمارے بیدار ہونے کا انتظار کر رہا ہے اور ہم اُسے حالتِ انتظار میں رکھنے پر تُلے ہوئے ہیں!
یوں تو ڈھائی تین عشروں کے دوران بہت سی خرابیوں نے ابھر اور پنپ کر ہمیں زوال آشنا کیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اب تین چار برس سے معاملات کچھ زیادہ ہی خرابی کی طرف گئے ہیں۔ درستی کی کوئی صورت دکھائی ہی نہیں دے رہی۔ یہ سب کچھ ''بے فکری‘‘ اور بے عملی کا نتیجہ ہے۔ سوچنا ہم نے چھوڑ دیا ہے اور جب سوچنے کا عمل ہی مفقود ہے تو پھر کیسا عمل اور کہاں کا عمل؟اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر رہا کہ آج دنیا بھر میں معاشی‘ معاشرتی اور ثقافتی سطح پر انتہائی نوعیت کی الجھنیں پائی جارہی ہیں۔ متعدد معیشتوں کا تیا پانچا ہوچکا ہے۔ روایتی معیشتی ڈھانچے اب یکسر غیر متعلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ معیشت کو نیا رنگ و روپ دینے کی کوششیں ہر وہ معاشرہ کر رہا ہے جو سوچتا ہے‘ متحرک ہے اور کام کرنے کی لگن سے متصف بھی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں کے ساتھ ساتھ متعدد ترقی پذیر معاشرے بھی اصلاحِ احوال پر مائل ہیں۔ معیشتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کے ذریعے نئے شعبے تلاش کیے جارہے ہیں تاکہ روزگار کی بنیاد مضبوط ہوسکے اور لوگ زیادہ لگن کے ساتھ کام کرنے پر مائل ہوں۔
سب سے بڑا عصری تقاضا یہ ہے کہ ہم بحرانوں سے سیکھنے کی عادت پروان چڑھائیں۔ ہر بحرانی کیفیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ جب ہم اپنے معاملات میں پیدا ہونے والی الجھنوں کا جائزہ لیتے ہیں تب کچھ نیا کرنے اور اپنے معاملات درست کرنے کی راہ سُوجھتی ہے۔ یہ بہت حد تک ذاتی دلچسپی کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی بحران محض اس لیے نہیں ہوتا کہ اُس سے پریشان ہوا جائے۔ بحرانی کیفیت ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم اپنی صلاحیت و سکت کا جائزہ لیں‘ عام ڈگر سے ہٹ کر کچھ کرنے کی لگن اپنے اندر پیدا کریں اور اپنے مسائل حل کرنے کے حوالے سے متحرک ہوں۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر بڑے اور کامیاب معاشرے نے اسی روش پر گامزن ہوکر بھرپور کامیابی‘ ترقی اور خوش حالی یقینی بنائی ہے۔
معاشرے کی مجموعی یعنی عمومی کیفیت کے دائرے میں رہتے ہوئے زندگی بسر کرنا کسے اچھا نہیں لگتا؟ اکثریت کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ الگ سے کچھ نہ کرنا پڑے اور زندگی مزے سے گزرتی رہے۔ کچھ خاص نہ کرنے کی صورت میں زندگی مزے سے کیسے گزر سکتی ہے؟ جب کوئی مصیبت سر پر پڑتی ہے تب اُس سے نجات پانے کے لیے متحرک ہونا پڑتا ہے‘ عام ڈگر سے ہٹ کر چلتے ہوئے کچھ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ جہد و عمل کا دائرہ وسیع کیے جانے ہی پر بھرپور کامیابی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔پاکستانی معاشرے پر اُچٹتی سی نظر ڈال کر کوئی بھی اس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ یہاں عصری تقاضوں کو نبھانے کے بارے میں سوچنے والے خال خال ہیں۔ حالات کی نزاکت سنجیدگی کی متقاضی ہے مگر یار لوگ سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں۔ بہت کچھ کرنا ہے مگر کیا نہیں جارہا۔ سب سے بڑھ کر یہی بات تو ہے کہ طرزِ فکر و عمل بدلنا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved