تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     20-06-2022

فیٹف اور آئی ایم ایف کزن برادرز

گرے لسٹ سے نکلنے کا کریڈٹ اور مبارک‘ سلامت کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ جبکہ فیصلہ اور باضابطہ اعلان ہونے میں ابھی چند ماہ باقی ہونے کی وجہ سے پیشگی جشن قبل از وقت لگتا ہے۔ خدا کرے فیصلہ مملکت خداداد کے حق میں اور گرے لسٹ میں پھنسائے رکھنے کے لیے سرگرم بھارت کی خواہشات کے برعکس ہی ہو۔ بحرانوں اور بھنور میں پھنسے وطنِ عزیز کو ایک ہی گرے لسٹ کا سامنا تھوڑی ہے۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
منیر نیازی کے اس شعر کے مصداق نجانے ابھی کتنے دریائوں کا سامنا باقی ہے۔ پار اترنے کا مطلب کنارہ پا لینا ہرگز نہیں۔ ویسے بھی نجانے کتنی بار دریا کے پار اترنے کے باوجود ہر بار نیا دریا‘ نئے سیلابی ریلے اور بے رحم لہریں ہی استقبال کرتی نظر آئی ہیں۔ جن لوگوں کی مالی بدعنوانی کیس سٹڈی بن کر فیٹف کی فائلوں میں موجود ہو‘ ان کے لیے یقینا دُہرا کریڈٹ ہے کہ گرے لسٹ سے نکلنے کے علاوہ کیس سٹڈی کے طور پر بھجوائے گئے کیس میں بھی کوئی جان نہ تھی۔ ملک کے ساتھ ساتھ انہیں بھی کلین چٹ ملنے کا امکان خاصا روشن ہے؛ تاہم ایسے حالات میں مبارک‘ سلامت اور جشن کا سماں تو بنتا ہے۔
بحیثیت پاکستانی ہر خاص و عام فیٹف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے اس امید پر بے تاب اور شاداں ہے کہ فیٹف کے فائنل راؤنڈ کا فیصلہ پاکستان کے حق میں ہونے جارہا ہے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ ہمیں لمبی چوڑی خوش گمانیوں اور خوش فہمی کا شکار ہونے کے بجائے صیاد کے اگلے نشانے اور نئے حربے پر بھی نظررکھنی چاہیے۔ فیٹف ہو یا آئی ایم ایف‘ یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ اور آپس میں ایک دوسرے کے کزن برادر ہیں۔ انہیں آپریٹ کرنے والی قوتوں کو خوشحال اور مستحکم پاکستان کسی صورت برداشت نہیں۔ وہ اس کی معیشت کو حالتِ نزع اور وینٹی لیٹر پر دیکھنا چاہتی ہیں۔ ان کی اس خواہش کی بھینٹ چڑھنے والے وطن عزیز کے عوام مسلسل زندہ درگور ہیں۔ یہ دھتکار‘ پھٹکار اور بدحالی کے عذاب اچانک اور یونہی نہیں آگئے۔ ان عذابوں اور بربادیوں کی باقاعدہ پرورش کی گئی ہے۔ فیصلہ سازی پر جوں جوں سہولت کار اور پیروکار گرفت کرتے گئے توں توں ہمارے کشکول بڑے اور دستِ سوال درازہوتے چلے گئے۔
فیٹف اور آئی ایم ایف پر اعداد و شمار اور امکانات پر مشتمل دانشوری کرنے والے اسباب اور انجام پر بھی کوئی غور و خوض فرمائیں۔ ان تاریخی حقائق سے بھی پردہ ہٹائیں جو ہر دور میں من مانی کی طرزِ حکمرانی کے نتیجہ میں بھیانک ہوتے گئے۔ گرے لسٹ میں پڑنے اور نکلنے سے لے کر کریڈٹ اور ڈِس کریڈٹ کی بحث میں الجھنے کے بجائے اس بے ہوشی سے نکلنے کی ضرورت ہے جس کی ہمیں لت لگ چکی ہے۔ لت بھی ایسی کہ نسل در نسل لٹنے اور مٹنے کے باوجود کوئی ہوش میں آنے کو تیار نہیں۔ کیا حکمران‘ کیا عوام‘ سبھی کے درمیان مقابلے کا سماں ہے۔ ڈھٹائی کو مستقل مزاج کے ساتھ لائف سٹائل بنانے والے اپنی اس حالت پر مطمئن‘ نازاں اور اترائے پھرتے ہیں۔ جس ملک میں گورننس اور میرٹ کو مصلحتوں اور مفادات کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہو‘ قانون اور ضابطے حکمرانوں کے آگے بے بس اور سرنگوں ہوں‘ مینڈیٹ بیچے جاتے ہوں‘ آئین اور حلف سے انحراف پر منحرف شرمندگی کے بجائے نازاں اور اترائے پھرتے ہوں‘ ملک و قوم کے مفاد پر بندہ پروری اور کنبہ پروری کو فوقیت ہو‘ مفادِ عامہ کے منصوبے اللے تللوں میں اڑائے جاتے ہوں‘ قرض کی قسط ادا کرنے کیلئے بھی قرض لیے جاتے ہوں‘ حقیقی آمدن شاہانہ طرزِ زندگی کا منہ چڑاتی ہو۔ چور بھی چور چور کا شور مچاتے ہوں۔ وہاں آئی ایم ایف اور فیٹف کے شکنجے ہی حال اور مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ خدا جانے کس زعم اور کس مغالطے میں ہیں۔
خدا جانے کوئی غفلت ہے یا کوئی سزا‘ سالہا سال سے انہیں رہنما اور نجات دہندہ سمجھ کر آزمائے چلے جا رہے ہیں۔ کتنی ہی نسلیں بدل گئیں۔ اقتدار کے جوہر آزمانے والے خاندان بھی وہی ہیں اور شوقِ حکمرانی کا شکار ہونے والے عوام بھی وہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دونوں طرف باپ کی جگہ بیٹا اور دادا کی جگہ پوتا۔ نسل در نسل حاکم بھی وہی اور محکوم بھی وہی چلے آرہے ہیں۔ بس یہی خلاصہ ہے وطن عزیز کی اکثریت کی زندگانی کا۔ سراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بالآخر قبروں میں جا سوتے ہیں۔ نسل در نسل رُلتے اور دربدر بھٹکتے عوام کو کبھی سوچنے کی توفیق ہی نہ ہوئی کہ ان کے خوابوں‘ امیدوں اورآسوں کا اگر قتل ہوا ہے تواس کا کوئی قاتل بھی ہوگا۔ انہوں نے اگر پے در پے دھوکے کھائے ہیں تو کوئی دھوکا دینے والا بھی یقینا ہوگا۔ ان کے بچے اگر اچھی تعلیم اور پیٹ بھر روٹی سے محروم رہے تو اس محرومی کا ذمہ دار بھی تو کوئی ہوگا۔ داد رسی اور انصاف میں کہیں رکاوٹ ہے تو رکاوٹ پیدا کرنے والا بھی ضرور ہوگا۔ ملک و قوم کا خزانہ اگر لوٹا گیا ہے تولٹیرا بھی تو کوئی ہوگا۔ لوگ بنیادی ضرورتوں سے محروم چلے آرہے ہیں تومحروم کرنے والا بھی کوئی ہوگا۔ ان کے بگڑے نصیب باوجود کوشش کے نہ سنوریں تو انہیں بگاڑنے والا بھی یقینا کوئی ہو گا۔ سڑکوں پر ناحق بہتا ہوا خون ہے تو اسے بہانے والا بھی کوئی ہوگا۔ان کے بچوں کے ہاتھ میں کتاب کے بجائے ہتھیاراور اوزارہیں تو کتاب چھیننے والا بھی تو کوئی ہوگا۔ کاش! عوام یہ سوچنے کے قابل ہوتے۔
ماضی قریب میں ترقی و خوشحالی کا استعارہ بننے والے ممالک جب تیل اور دیگر ذخائر سے اپنی قوم کی حالت اور ملک کی تقدیر بدل رہے تھے‘ مملکت خداداد کے حکمران عوام کا تیل نکال کر بوئے سلطانی اور ہوسِ زر کا مساج کرتے رہے ہیں۔ عوام کے تیل سے مساج کی ایسی لت لگ چکی ہے کہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے کہ عوام کا تیل کس طرح نکالا جائے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنی ہوں یا سود در سود قرضے کی ادائیگی ہو۔ شوقِ حکمرانی کے ماروں کو سرکاری وسائل کی بندر بانٹ کرنی ہو یا اقتدارکا بٹوارہ۔ قومی خزانے پر کنبہ پروری کرنی ہو یا بندہ پروری۔ بیرونِ ملک اثاثے اور مال اسباب جمع کرنے کی دھن ہو یا بوگس اکائونٹس میں کالا دَھن جمع کرنے کی نہ ختم ہونے والی خواہشات۔ بے نامی جائیدادوں کے ہوشربا انبار لگانے والے ہوں یا شاہانہ طرزِ زندگی گزارنے کے لیے سبھی حدیں پار کرجانے والے۔ واجبی فیکٹریوں اور کاروبار سے درجنوں ملیں‘ فیکٹریاں اور ہوشربا کاروباری سیٹ اَپ لگانے والے سبھی ہر دور میں بالواسطہ اور بلا واسطہ شریکِ اقتدار اور عوام کا تیل برابر نکالتے رہے ہیں۔ فیٹف کی گرے لسٹ سے تو بہرحال نکل ہی آئیں گے لیکن عوام کو ان حکمرانوں کی گرے لسٹ سے کون نکالے گا؟ آئی ایم ایف کے قرضے عوام کے لیے نہیں۔ یہ حکمران اپنے اللے تللوں اور موج مستی کے لیے لیتے رہے ہیں۔ ان سبھی کا مالی و سماجی پس منظرچیخ چیخ کر گواہی اور دُہائی دے رہا ہے کہ ان کا حال ماضی سے متصادم ہے۔ مفادِ عامہ کیلئے لیے گئے قرضے ہوں یا ملک و قوم کی ترقی کے لیے۔ یہ سبھی ان کی نیتوں اور شوق کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اب یہ عوام کی قربانی دے کر آئی ایم ایف کے دیوتا کو راضی کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ لیکن دیوتا قربانی پر قربانی لینے کے باوجود بھی مزید غضبناک ہوتا چلا جارہا ہے۔ دیوتا کا غضب دور کرنا ہے تو عوام کے بجائے ان کی قربانی دینا ہوگی جو ان قرضوں کے ذمہ دار اور بینی فشری ہیں۔ مگر کیا کریں! دیوتا ان کی قربانی قبول کرنے سے اس لیے انکاری ہے کہ یہ سبھی تو اس کے اپنے سہولت کار اور پیروکار ہیں۔ لہٰذا عوام کی قربانی جاری رہے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved