تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     04-07-2022

سرخیاں، متن اور اوکاڑہ سے مسعود احمد

آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر
کے لیے تگنی کا ناچ نچایا: رانا ثنا
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ''آئی ایم ایف ایک ارب ڈالر کے لیے ہمیں تگنی کا ناچ نچا رہا ہے‘‘ جبکہ پہلے صرف انگلیوں پر ناچنا ہی آتا تھا، آئی ایم ایف نے اگر تگنی کا ناچ نچوانا تھا تو اس کا کوئی سبق بھی دیتا اور یہاں تو نومن تیل بھی دستیاب نہیں ہے کہ رادھا ناچ سکے جبکہ ہم تو سر میں لگانے کے لیے بھی تیل کو ترس رہے ہیں اس لیے نہ توتیل دیکھنے کے لیے موجود ہے نہ تیل کی دھار؛ البتہ مہنگائی نے عوام کا تیل ضرور نکال کررکھ دیا ہے اور ہمارا گزارہ بھی اسی پر ہو رہا ہے ورنہ ہمارے تلوں میں توتیل کی ایک بوند بھی نہیں ہے وگرنہ اپنے سابقہ ادوار میں توہم نے دودھ اور شہد کے ساتھ ساتھ تیل کی نہریں بھی بہا دی تھیں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں شہدائے پولیس تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
کرپٹ حکمران اربوں کے کیس
ٹھکانے لگا چکے: شہباز گل
تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ '' کرپٹ حکمران اربوں کے کیس ٹھکانے لگا چکے‘‘ اور یہ ایک طرح سے اچھا کام ہے جو انہوں نے کیا ہے کیونکہ اس طرح عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ کافی حد تک کم ہو رہا ہے جو مقدمات سے اٹی پڑی تھیں جبکہ ویسے بھی ان کیسز نے کون سا ثابت ہو جانا تھا بلکہ پورا نظام مفت کی سردرد میں مبتلا تھا؛ چنانچہ حکمرانوں کا یہ اقدام واقعی قابلِ صد ستائش ہے اور اگر مخالفین بھی کوئی اچھا کام کریں تو اس کا اعتراف اور اس کی تعریف کرنی چاہیے جبکہ صحیح جمہوری رویہ اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور امید ہے کہ وہ عدلیہ پر سے باقی مقدمات کا بوجھ بھی جلد ہی اٹھا لیں گے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ٹویٹر پر ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
آئی ایم ایف پاکستان کی ناک سے
لکیریں نکلوا رہا ہے: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''آئی ایم ایف پاکستان کی ناک سے لکیریں نکلوا رہا ہے ‘‘جبکہ بقول رانا ثناء اللہ وہ تگنی کا ناچ بھی نچوا رہا ہے جبکہ اسے ایک ہی کام پر اکتفا کرنا چاہیے یعنی یا تو ناک سے لکیریں نکلوا لے یا پھر تگنی کا ناچ نچوا لے کیونکہ یہ نہایت نامناسب بات ہے کہ لکیریں نکلواتے نکلواتے وہ تگنی کا ناچ ناچنے کی فرمائش کر دے کیونکہ ناک صرف نمائش کے لیے ہوتی ہے اس سے اور لکیریں نکلوانا نہایت غیر فطری بات ہے؛ البتہ ناک رگڑی ضرور جا سکتی ہے جس کے طفیل ہم نے یہ حکومت حاصل کی ہے یا ناکوں چنے بھی چبوائے جا سکتے ہیں جو ہم عوام کو ہمیشہ سے چبواتے چلے آ رہے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور گرین ٹائون میں ایک جلسے سے خطاب کررہی تھیں۔
اچھا ہوتا اگر گائے دودھ کی جگہ
پٹرول دیتی: اداکارہ شگفتہ اعجاز
معرو ف اداکارہ شگفتہ اعجاز نے کہا ہے کہ ''اچھا ہوتا اگر گائے دودھ کی جگہ پٹرول دیتی‘‘ اور ہم ایک لٹر پٹرول ڈال کر سڑکوں پر فراٹے بھرتے نظر آتے اور پٹرول پمپوں پر گائیں ہی گائیں نظر آتیں جن میں ایک آدھ اللہ میاں کی گائے بھی نظر ہوتی اور جہاں تک ڈیزل وغیرہ کا تعلق ہے تو اس کے لیے بھینسیں مناسب تھیں بلکہ بھینس کو توٹرکوں پر ساتھ کہیں لے جایا بھی جا سکتا تھا کہ راستے میںجہاں ٹینکی بھرنی پڑے‘ بھر لی جائے اور اس طرح دیگر پٹرولیم مصنوعات کے لیے بکریوں اور بھیڑوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں حتیٰ کہ چڑیوں کا دودھ بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جبکہ باقی دودھ کے لیے ہماری دودھ بنانے کی فیکٹریاں ہی کافی ہوتیں۔ آپ اگلے روز وڈیو پر بیان دے رہی تھیں‘ جو خوب وائرل بھی ہوا۔
عمران خان کو کرپشن پر ہمیں لیکچر
نہیں دینا چاہیے: مفتاح اسماعیل
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ''عمران خان کو کرپشن پر ہمیں لیکچر نہیں دینا چاہیے‘‘ کیونکہ یہ سارے سبق ہمارے پڑھے ہوئے ہیں بلکہ ہم خود عمران خان کو اس موضوع پر لیکچر دے سکتے ہیں جبکہ کئی معززین نے تو اس میں ماسٹرز بھی کر رکھا ہے اور کئی تو پی ایچ ڈی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے دور میں کبھی کرپشن نہیں ہوئی؛ البتہ اپنے ڈرائیوروںکی،فالودہ فروشوں کی اور پاپڑ بیچنے والوں کی قسم ہم نہیں دے سکتے؛ حتیٰ کہ مقصود چپڑاسی کی بھی نہیں جن کی کارکردگی پر ہمیں واقعی حیرت ہوئی تھی اور اب تک ہم اسی حیرت میں گم چلے آ رہے ہیں۔ آپ اگلے روز ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کررہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں اوکاڑہ سے مسعود احمد کی شاعری:
پانی کو مرے سر سے گزارا گیا آخر
دریائوں کو خشکی پہ اتارا گیا آخر
جس جنگ میں میرا کوئی کردار نہیں تھا
اس جنگ میں مَیں مفت میں مارا گیا آخر
رکھا ہی تھا کیا پاس میرے دل کے علاوہ
تھوڑا سا بچانے میں سارا گیا آخر
ایسے ہی تو مڑ کر کوئی پتھر نہیں ہوتا
پیچھے سے مرا نام پکارا گیا آخر
کوشش تھی کہ میں دونوں کناروں کو ملاتا
ہاتھوں سے مرے یہ بھی کنارا گیا آخر
٭......٭......٭
میں سیدھا سادہ زمانہ شناس آدمی تھا
مجھے تمہاری محبت نے ورغلایا ہے
مرے خلاف بغاوت نہیں یہ باہرسے
کسی نے پھر مرے اندر سے سر اٹھایا ہے
آج کا مطلع
ابھی کسی کے نہ میرے کہے سے گزرے گا
وہ خود ہی ایک دن اس دائرے سے گزرے گا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved