تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     18-08-2022

قومی ایام اور ہم

ہر قومی دن منانے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ ہم سب دکھوں کے ستائے ہوئے ہیں‘ کسی نے کورونا میں تکلیف کاٹی ہے تو کسی کا کوئی پیارا چلا گیا ہے اور کوئی بے روزگار ہو گیا ہے۔ کسی کا کوئی عزیز دہشت گردی کا عفریت نگل گیا ہے تو کوئی مہنگائی کا ستایا ہوا ہے۔ اس لیے جب کوئی قومی دن یا خوشی کا موقع آئے تو ہم زیادہ ہی جذباتی ہو جاتے ہیں مگر کچھ لوگ تو حد سے ہی تجاوز کرجاتے ہیں۔ یومِ آزادی پر ہونا تو یہ چاہیے کہ صبح اٹھ کر شکرانے کے نوافل ادا کیے جائیں اور اللہ کے حضور ملک و قوم کی سلامتی کی دعائیں کی جائیں۔ جنہوں نے اس ملک کو بنایا‘ اس کے لیے اپنی جانیں قربان کیں‘ ان اکابرینِ ملک و ملت اور کارکنانِ پاکستان کے لیے دعائے مغفرت کی جائے۔ ان کے لیے تمام سرکاری اور نیم سرکاری عمارتوں میں قرآن خوانی کی جائے۔ انہیں ہماری موم بتیوں اور آتش بازی کی ضرورت نہیں‘ انہیں ہماری طرف سے ایصالِ ثواب کی ضرورت ہے۔ موم بتی یا چراغاں‘ دل ہے تو کر لیں لیکن مرحومین کو یاد کرنے کے لیے دعائے مغفرت کی جاتی ہے۔ مرحومین کے لیے موم بتی جلانا یا چراغاں کرنا‘ یہ کوئی نیا ہی فیشن چل نکلا ہے‘ اس سے ہم کسی کو ایصالِ ثواب نہیں کر سکتے۔ موم بتی سے فوٹو تو شاید اچھی آ جائے گی لیکن مرحومین تک صرف دعا پہنچتی ہے۔ ایسے قومی ایام کا آغاز دعائوں سے کرنے کے بعد کسی تاریخی میوزیم اور دیگر ایسی عمارتوں کا دورہ کیا جائے جہاں سے بچے اپنے اسلاف کی قربانیوں کے بارے میں جان سکیں۔ بچوں کو آزادی کے مونیومنٹس پر لے کر جائیں‘ لائبریری آرکائیوز میں لے کر جائیں تاکہ وہ ملکی تاریخ کے بارے میں جان سکیں۔
بچوں کو کوئز‘ ٹیبلو اور تقاریر کی تیاری کرائیں‘ ان سے مضمون نویسی کرائیں‘ ان کو تحریک آزادی کے واقعات سنائیں۔ اپنے بچوں کی صلاحیتوں کے مطابق ان پر کام کریں۔ جو ملی نغمہ گا سکتا ہے اس کو نغمے کی تیاری کرائیں‘ جس کو لکھنے کا شوق ہے اس سے مضمون وغیرہ لکھوائیں۔ جس کو اداکاری پسند ہے‘ اس کو ٹیبلو میں بھجیں۔ اچھے لباس پہنے بچے اتنے پیارے لگتے ہیں‘ جب کوئی قائداعظم بنتا ہے‘ کوئی فاطمہ جناح کے روپ میں آتا ہے‘ کوئی شہید میجر عزیز بھٹی بنتا ہے تو کوئی راشد منہاس شہید کی طرح وردی پہن کر آزادی شو میں آتا ہے۔ قومی ایام پر آتش بازی کے بجائے شجرکاری کی جائے۔ اگست کا مہینہ ویسے بھی شجرکاری کے لیے بہت موزوں ہے۔ دیسی اقسام کے درخت لگائے جائیں‘ ایسے درخت جو پھل بھی دیتے ہوں۔ جو درخت حکمت میں استعمال ہوتے ہوں یا سخت جان ہوں تاکہ کسی بھی طرح کا موسم ہو‘ وہ پھل پھول سکیں۔ بچوں کو باجوں‘ پٹاخوں اور آتش بازی کے سامان کے بجائے پودے خرید کردیں۔ ان کو کتابیں خرید کر دیں‘ ان کو جھنڈے لے کر دیں لیکن صوتی و ماحولیاتی آلودگی کے اسباب سے ان کو دور رکھیں۔ آتش بازی اور پٹاخوں کے بجائے عمارتوں پر لائٹس لگائی جائیں اور ہرطرف روشنی کی جائے۔ ہمارے بڑے تو گھی سے چراغ جلاتے تھے‘ اس مہنگائی کے دور میں وہ تو ممکن نہیں لہٰذا لائٹس سے روشنی کریں؛ تاہم وہ بھی کچھ دیر بعد بند کردیں کیونکہ اس وقت پورے ملک کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔
اسی طرح سرکاری سطح پر ہونے والی تقریبات میں بھی پاکستان کی ثقافت کا رنگ نمایاں ہونا چاہیے۔ پاکستان کا ثقافتی لباس زیب تن کرنا چاہیے اور علاقائی موسیقی اور رقص ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ملی نغمے گائے جائیں، اکابرینِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔ ہم سرکاری ٹی وی سے بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان کی ثقافت کو لے کر چلے گا اور پاکستانیت کو فروغ دے گا۔ یہ خبر بھی پڑھنے کو ملی کہ اس بار جشنِ آزادی پر پرچم کشائی کی مرکزی تقریب میں صدرِ مملکت کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اس پر مجھے بہت حیرت ہوئی۔ افسوس کہ ذاتی رنجشیں قومی دن پر بھی حاوی تھیں۔ تقریب کا آغاز ٹھیک تھا لیکن دو سیگمنٹس میں موسیقی اور بے ہنگم ناچ تھا، اس وقت ایک کلپ بہت وائرل ہے جو اس وقت بھی پی ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔ کچھ لڑکیاں پری بنی ہوئی تھیں اور کچھ لڑکے‘ لڑکیاں بھڑکیلے‘ چمکیلے لباس میں ملبوس تھے۔ اتنا چست لباس اور بے ہنگم ناچ‘ اب یہ تو کسی صوبے کی ثقافت نہیں ہے۔ پاکستان کی ثقافت میں گدا‘ لیوا‘ بھنگڑا‘ جھومر وغیرہ موجود ہیں لیکن جو ناچ سرکاری تقریب میں پیش کیا گیا‘ وہ کسی بھی اعتبار سے ہماری ثقافت کا حصہ نہیں۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین کے علاوہ عوامی طبقات کی جانب سے بھی بہت تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ پی ٹی وی سرکاری ٹی وی ہے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر چلتا ہے۔ یہ ادارہ عوام کو جواب دہ ہے اور ملکی ثقافت کے فروغ کا ذمہ دار بھی۔ اگر سرکاری ٹی وی ہی ہماری روایات کو نشر نہیں کرے گا تو باقیوں سے تو کوئی بھی امید رکھنا بیکار ہے۔
قومی تہوار پُروقار انداز سے منائیں اور اس میں ملکی ثقافت کا رنگ نمایاں ہونا چاہیے۔ ہمارے ملک میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ یہاں تو دن کا آغاز باجوں سے ہوتا ہے اور سارا دن سائلنسر نکال کر ون ویلنگ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ‘ جب یہ ایام گزر جاتے ہیں تو جھنڈے‘ جھنڈیاں زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔ اگر ان کو گھروں پر لگایا گیا تھا تو مغرب کے وقت اتار بھی لیں۔ ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ چودہ اگست کو بارش ضرور ہوتی ہے‘ لہٰذا اس ملک کے پرچم کو گیلا مت ہونے دیں۔ پرچم کو گرنے مت دیں۔ جھنڈیاں بارش میں بہہ جائیں‘ ایسا مناسب نہیں۔ پرچم کی عزت ہم سب پر لازم ہے۔ اگر ہم نے اپنی مثبت روایتوں کو اگلی نسل تک منتقل نہیں کیا تو یہ روایتیں دم توڑ جائیں گی۔ چست لباس‘ غیر ملکی موسیقی‘ باجوں اور پٹاخوں کو ایک طرف رکھیں، اپنی نئی نسل کو اپنی اصل ثقافت سے روشناس کرائیں۔ سرکاری ٹی وی سیاسی آلہ کار بننے کے بجائے ملک و قوم کا نمائندہ اور ریاستی ادارے بنے۔ یہ ہماری ثقافت کا نمائندہ بنے۔ اس کو بالخصوص چاہیے کہ پاکستان جیسے اور جن حالات میں معرضِ وجود میں آیا‘ ان پر ڈاکیومنٹری دکھائے‘ ٹیلی فلمیں اور ڈرامے نشر کرے۔ اس حوالے سے دیگرشوز اور سیگمنٹس بھی ہونے چاہئیں تاکہ عوام میں آگاہی پھیلے۔ چودہ اگست جیسے قومی ایام کو پاکستانی سٹائل سے منائیں‘ ان میں بیرونی چیزیں شامل مت کریں۔
قومی دنوں کو ایسے منائیں جس سے مقامی ثقافت نمایاں ہو‘ جس سے ہمارے صوبوں کے متنوع رنگ نمایاں ہوں۔ ہماری زبانیں‘ ہمارے فوک گیت‘ ہماری موسیقی اس میں شامل ہو۔ ہم جو لباس زیب تن کرتے ہیں‘ اس کو دنیا میں متعارف کرائیں۔ چنری اور اجرک پہلے ہی دنیا بھر میں مقبول ہیں‘ دیگر لباس سے بھی دنیا کو روشناس کرائیں۔ جب ہماری اپنی ثقافت اتنی خوبصورت ہے تو ہمیں کسی اور ملک کی موسیقی یا کسی بیرونی ملک کی ثقافت کا سہارا لینے کی کیا ضرورت ہے۔ پنجاب، بلوچستان، سندھ، کے پی، گلگت بلتستان، کشمیر‘ ہمارے اپنے خطے اتنی خوبصورت تاریخ رکھتے ہیں‘ اتنی حسین دستکاریاں‘ ہر خطے میں لوک کہانیاں موجود ہیں۔ اگر ہم نے ان کو ابھی اجاگر نہ کیا تو یہ چیزیں نئی نسل تک منتقل نہیں ہو سکیں گی۔
عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جس وقت فلم‘ ٹی وی وغیرہ کے ایوارڈز شو ہوں تو اس طرح کا ناچ گانا کیا جاتا ہے لیکن قومی دنوں پر اس بات کو ملحوظِ خاطر رکھیں کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ تفریح کے نام پر خواتین کی تذلیل مت کریں، نہ ہی ہماری معاشرتی اقدار کا مذاق بنائیں۔ آج بھی خاندان والے سب مل کر ٹی وی دیکھتے ہیں، ایسی چیزیں نشر مت کریں کہ وہ اپنی آنکھیں جھکانے اور چینل بدلنے پر مجبور ہو جائیں بلکہ ایسے پروگرامز نشر کریں کہ وہ فخر کے ساتھ اپنی روایت نئی نسل کو دکھائیں۔ قومی دنوں پر قومی شناخت اور قومی روایت کو ساتھ لے کر چلیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved