تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     27-08-2022

فوبیا

''فوبیا‘‘ سے مراد کسی چیز، جگہ، صورتِ حال یا جانور سے غیر معمولی خوف کا لاحق ہونا، جب کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں مبالغہ آرائی کی حد تک اور غیر حقیقت پسندانہ خطرہ محسوس کرے تو اُسے فوبیا کہتے ہیں۔ اسلاموفوبیا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تعصّب، عداوت اور منفی جذبات پر مبنی تحریک کا نام ہے، یعنی اس کا سبب اسلام اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت یا قومیت کے حوالے سے تحریک برپا کر کے منفی جذبات پیدا کرنا ہے۔ اسلاموفوبیا کی اصطلاح مغرب میں خال خال پہلے بھی استعمال ہوتی رہی ہے، لیکن اس کا بہت زیادہ استعمال نائن الیون کے بعد شروع ہوا، جب امریکہ اور مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کو خطرے اور دہشت کی علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نفرت و عداوت پر مبنی تحریکیں برپا ہوئیں‘ ریسرچ پیپرز تیار ہوئے‘ کئی این جی اوز نے اسے اپنی تحقیق اور مطالعے کا موضوع بنا لیا اور اس مقصد کے لیے انہیں وافر مالی وسائل فراہم کیے گئے۔
برطانوی مصنف رونیمیڈ ٹروسٹ نے اسلام کی منفی تصویر ان الفاظ میں پیش کی: ''یہ ایک الگ تھلگ مذہب ہے، جو ترقی اور تبدیلی کو قبول نہیں کرتا، یہ عالمِ انسانیت کے لیے ایک اجنبی دین ہے، اس کے اور دیگر ثقافتوں کے درمیان کوئی قدرِ مشترک یا مشترکہ مقاصد نہیں ہیں؛ چنانچہ یہ دوسری ثقافتوں سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ ان پر اثر انداز ہوتا ہے، یہ شدت پسند اور عسکریت پسند مذہب ہے، جو انسانیت کے لیے خطرہ ہے، گویا اسلام اور دہشت گردی کو لازم و ملزوم سمجھ لیا گیا اور کہا گیا: ''اسلام ایک ایسی سیاسی آئیڈیالوجی ہے جو سیاسی یا جنگی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی ہے‘‘۔
''انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیزاسلام آباد‘‘ کے تحت ''مغرب اور اسلام‘‘ کے نام سے ایک علمی و تحقیقی مجلّہ سہ ماہی یا ششماہی بنیادوں پر شائع ہوتا ہے، اس میں تحقیقی مضامین شامل ہوتے ہیں، یہ بتایا جاتا ہے کہ مغرب کے ماہرینِ بشریات (Anthropologist)، ماہرینِ سماجیات (Sociologist)، فلاسفہ اور مفکرین اسلام اور مسلمانوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ کہ قلیل تعداد میں ایسے انصاف پسند مفکرین بھی ہیں جو اس فکر سے اختلاف رکھتے ہیں۔
''مغرب اور اسلام‘‘ کے عنوان سے تازہ ترین مجلّہ میں حجاب کے مسئلے پر مغربی مفکرین کی آراء کو پیش کیا گیا ہے اور ان پر بحث کی گئی ہے۔ بہت سے مغربی ممالک میں حجاب کی ممانعت کے بارے میں قوانین بنائے گئے ہیں، اس میں یورپی یونین کے 28 رکن ممالک اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں، حالانکہ ان ممالک میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب بہت کم ہے اور اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ اُن ممالک کی تہذیب وثقافت پر اثر انداز ہوں۔ عام طور پر اقلیت، اکثریت سے متاثر ہوتی ہے اور کمزور اقوام غالب اقوام سے متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا اقلیتوں میں اس حوالے سے حساسیت (Sensitivity) زیادہ ہوتی ہے کہ کہیں وہ اکثریت میں اپنی شناخت کو کھو نہ دیں۔ جبکہ مغرب میں اس کے برعکس فکر پیدا کی جا رہی ہے کہ اکثریت کو اقلیت سے خطرہ ہے کہ وہ اُن کی ثقافت اور تہذیبی شناخت پر اثر انداز ہو گی، یعنی اُلٹی گنگا بہائی جا رہی ہے، حالانکہ کیتھولک راہبائیں بھی ایک خاص لباس پہنتی ہیں، جسے ''Cassock‘‘ (جبہ) کہتے ہیں اور بعض سر کو بھی ایک خاص انداز سے ڈھانپتی ہیں، لیکن اُسے طعن و ملامت کا ہدف نہیں بنایا جاتا، نہ اُس کے خلاف کوئی قانون بنایا جاتا ہے، بلکہ اُن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے پہنتی ہیں۔ اس کے برعکس مسلمان خواتین کے حجاب کے بارے میں یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ یہ اُن کی آزادانہ مرضی سے نہیں، بلکہ مردوں کے جبر سے ہے، حالانکہ مغربی معاشرے میں کسی ایسے جبر کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
نقاب پر پابندی لگاتے ہوئے اٹلی اور ہالینڈ کی دلیل یہ تھی: ''اس پابندی سے اُن کا مقصد دہشت گردی سے صحیح طور پر نمٹنا اور لوگوں کی شناخت کو ممکن بنانا ہے؛ چنانچہ اس حوالے سے ان قوانین کو عام طور پر ''انسدادِ دہشت گردی کے قوانین‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے‘‘۔ بعض نے کہا: ''ان پابندیوں کا اسلامی پردے سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ اس میں یہ وضاحت بھی دی گئی ہے کہ یہ قانون صرف اُس لباس سے متعلق ہے جو چہرے کو ڈھانپتا ہے‘‘۔ ان ممالک میں یہ بات بھی زیرِ بحث ہے کہ ان قوانین کو کس طرح نافذ کیا جائے کہ یہ بنیادی انسانی حقوق اور خاص طور پر آزادیِ مذہب کے عالمی ڈیکلریشن سے متصادم نہ ہو۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حجاب پر پابندی کو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ مذہب کے خلاف قرار دیا ہے اور ان ممالک پر تنقید کی ہے جنہوں نے حجاب پر پابندی کے حق میں قوانین بنائے ہیں۔
سوشیالوجی کی پروفیسر فاطمہ مرنیسی نے حجاب پہننے والی مسلم خواتین سے انٹرویو کیا تو انہوں نے یہ نہیں کہا: ''ہم حجاب میں خود کو پابند محسوس کرتی ہیں‘‘، بلکہ اُن میں سے بیشتر نے اس کا سبب خود اختیاری کا احساس، اپنے جسمانی حسن پر اپنا ہی اختیار اور اسلامی عقائد کو قرار دیا۔ بعض نے یہ بھی کہا: ''حجاب صرف مذہب ہی سے منسلک نہیں ہے، بلکہ یہ ثقافتی اظہار کی ایک ممکنہ صورت ہے‘‘۔ بعض نے لکھا: ''حجاب ایک فیشن کے طور پر اپنایا جانے لگا ہے، اس بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے: پردے کو فیشن کے طور پر اپنا کر اُس کے اصل مقصد (ستر و حیا) کو پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، حجاب کو بطورِ فیشن اپنائے جانے نے حقوقِ نسواں کی تنقید کو بھی باطل کر دیا ہے‘‘۔ امریکہ کی صومالین ماڈل خاتون حلیمہ عدن نے کہا: ''فیشن انڈسٹری کا آغاز 1980ء کی دہائی میں ہوا، جب یورپ اور امریکہ میں کاروباری افراد نے اپنے مسلمان صارفین کے لیے کپڑے درآمد کرنا شروع کیے، پھر سرکردہ ڈیزائنر نے بھی اس پر کام کیا اور اس نے غیر مسلموں میں بھی قبولیت حاصل کی ہے، مثلاً: مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے آسٹریلوی لبنانی ''برکینی ڈیزائنر عابدہ زانکی‘‘ کے کام کو سراہا ہے۔ اسلامی فیشن پر ترکی، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی بڑی مارکیٹوں میں بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے اور 2023ء تک اسلامی فیشن انڈسٹری کی مالیت 361 ارب امریکی ڈالر ہو جائے گی‘‘۔
مغرب کا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف وہ آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ حقوقِ نسواں کی بات کرتے ہیں اور جب مسلم خواتین اپنی آزادانہ مرضی سے ایک خاص وضع کا لباس پہنتی ہیں، تو وہ انہیں کھٹکتا ہے، اسے اپنی تہذیب کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں اور پھر آزادیِ حقوقِ نسواں کے دلکش نعروں کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں، حسرت موہانی نے کہا ہے:
خِرد کا نام جنوں پڑ گیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
اگر مغرب آزادیٔ مذہب کو ایک قدر کے طور پر تسلیم کرتا ہے تو پھر اُسے مسلمانوں کا یہ حق بھی تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ قرآنِ کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ''(اے رسولِ مکرّم!) مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ شعار اُن کے لیے زیادہ پاکیزگیِ(کردار) کا سبب ہے، بے شک اللہ ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیب و زینت کی نمائش نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہو اور اپنے دوپٹوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو صرف اپنے شوہروں یا اپنے باپ دادا یا شوہروں کے باپ دادا یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں یا مسلمان عورتوں کے سامنے ظاہر کریں‘‘ (النور: 31)، نیز فرمایا: ''اے نبی! اپنی ازواجِ (مطہرات) اور اپنی بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں: وہ (گھر سے نکلتے وقت) اپنی چادروں کا اپنے اوپر گھونگھٹ لے لیا کریں‘‘ (الاحزاب: 59)۔
دراصل ہر دور کی غالب قوتوں کا یہ شِعار رہا ہے کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت اور اپنی اَقدار کو دوسروں پر مسلّط کرنا چاہتی ہیں، وہ حقوقِ انسانی اور حقوقِ نسواں کے مسلّمہ عالمی معیارات سے تجاوز کر کے اپنے مَن پسند معیارات متعین کرتی ہیں اور پھر انہیں قانونی شکل دیتے ہیں اور جبراً دوسروں پر نافذ کرتے ہیں، پھر کوئی ایسی عدالت یا فورم بھی دستیاب نہیں ہوتا کہ جہاں ان متعصبانہ اور امتیازی قوانین کو چیلنج کیا جا سکے، کیونکہ عالمی عدالت اور تمام عالمی قانون ساز مجالس پر انہی کا غلبہ ہے۔ شاعر نے کہا ہے:
وہی قاتل، وہی شاہد، وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں، قتل کا دعویٰ کس پر
حجاب و نقاب اور ستر کی بات تو چھوڑیے! سوئٹزر لینڈ کی حکومت نے مسلمانوںں پر یہ پابندی بھی عائد کی ہے کہ وہ اپنی مسجدوں کے مینار نہیں بنا سکتے، یہ لفظ ''مَنار‘‘ ہے، مگرہمارے ہاں مینار لکھا اور بولا جاتا ہے۔ شاید قرونِ وُسطیٰ میں مسافروں کی رہنمائی کے لیے بلند مَنار بنائے جاتے تھے، اس کے معنی ہیں: ''روشنی کی جگہ، راستے کا نشان‘‘۔ اب کوئی پوچھے: حضور! مینار سے آپ کی تہذیب و ثقافت کو کیا خطرہ ہے یا آپ کے نظام کو کیا خطرہ ہے؟ اس کا کوئی معقول جواب ان کے پاس نہیں ہو گا، سوائے اس کے کہ ''ہماری مرضی‘‘۔ یہ ایسا ہی ہے کہ دنیا میں چند ممالک کے پاس ایٹم بم ہیں، یہ ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین، بھارت، پاکستان اور شمالی کوریا ہیں اور کہا جاتا ہے کہ غیر عَلانیہ طور پر اسرائیل کے پاس بھی ایٹم بم موجود ہے، مگر دوسرے ممالک کے ایٹم بم کو نہ یہودی بم کہا گیا، نہ مسیحی بم کہا گیا، نہ ہندو بم کہا گیا، نہ بدھ بم کہا گیا، لیکن پاکستان کے ایٹم بم کو ''اسلامی ایٹم بم‘‘ کا نام دیدیا گیا۔ یہ مسلمانوں سے عصبیت اور نفرت کی واضح دلیل ہے۔ سابق امریکی صدر تو بارہا ''اسلامک ٹیررازم‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے رہے ہیں۔ نیز کسی ایٹمی ملک کے ایٹم بم کو غیر محفوظ تصور نہیں کیا جاتا، مگر پاکستان کے بارے میں ہمیشہ اس طرح کے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم محفوظ نہیں ہے اور یہ دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے اور انسانیت کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ میں متعدد بار دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، اسی طرح نیوزی لینڈ، ناروے اور دیگر یورپی ممالک میں بھی اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں، مگرہمیشہ ان واقعات کو فرد کا جرم تصور کیا گیا ہے، نہ اُسے مجرم کے مذہب سے اور نہ اُس کی قومیت سے جوڑا گیاہے، لیکن اگر بدقسمتی سے کوئی مسلمان اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو کسی تردُّد کے بغیر اُسے اسلام اور متعلقہ شخص کی قومیت سے جوڑ دیا جاتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved