تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     22-09-2022

تحفظِ حقوق ماورائے صنف قانون اور اس کے مضمرات(حصہ اول)

نوٹ: ''ہم نے 2019ء میں ''تحفظِ حقوقِ خواجہ سرا ایکٹ‘‘ پر تین کالم لکھے تھے، آج کل اسے منسوخ کرنے یا اس میں ترمیم کرنے کے لیے سینیٹ میں پرائیویٹ ممبران کے ذریعے مسودۂ قانون پیش کیا جا رہا ہے، ہم ارکانِ پارلیمنٹ اور قانون سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان کا خلاصہ دو اقساط میں پیش کر رہے ہیں‘‘۔
7 مارچ 2018ء کو سینیٹ آف پاکستان سے ''خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ کا ایکٹ‘‘ پاس ہوا اور پھر 8 مئی 2018ء کو قومی اسمبلی سے پاس ہوکر ملک کا رائج الوقت قانون بنا۔ نہایت قابلِ افسوس بات یہ ہے کہ اُس وقت قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعتِ اسلامی کی نمائندگی موجود تھی، لیکن یا تو وہ اس سے بے خبر رہیں اور یا اسے روکنے میں ناکام رہیں، یہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ بعض این جی اوز بیرونی وسائل سے مالا مال ہیں اور وہ اُن کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں، اُن کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود خواتین ممبران کے ذریعے وہ اچانک کوئی مسوّدۂ قانون ''پرائیویٹ ممبرز ڈے‘‘ پر پیش کر دیتی ہیں اور سینیٹ و قومی اسمبلی کے ممبران کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاس کرا دیتی ہیں۔ خود ہمیں بھی اس واردات کا پتا اُس وقت چلا، جب ہم امریکہ کے دورے پر گئے اور وہاں چند اہلِ نظر نے اس طرف متوجہ کیا اور پھر ہم نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔ ورجینیا سٹیٹ امریکہ میں پاکستان کے مایۂ ناز آئی سپیشلسٹ جناب ڈاکٹر خالد اعوان صاحبِ علم ہیں، وسیع المطالعہ ہیں، ان کا دین کا بڑا گہرا مطالعہ ہے، تفاسیر و شروح الحدیث ہمیشہ اُن کے مطالعے میں رہتی ہیں اور اُن کے ہاں ہر ہفتے مجلسِ درس منعقد ہوتی ہے، اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹرز، پروفیسرز، آئی ٹی سپیشلسٹس اور مختلف شعبوں کے ماہرین شریکِ درس ہوتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ علمی مجلس ہوتی ہے، وہ قرآن وحدیث کی عہدِ حاضر پر تطبیق (Application)کا بھی ملکہ رکھتے ہیں؛ چنانچہ میں نے اس عنوان سے متعلق اُن سے تمام معلومات حاصل کیں۔ امریکہ میں پہلے LGBT گروپ تھا، اب LGBT+ ہو گیا ہے، L سے مراد Lesbian یعنی ہم جنس پرست عورتیں، G سے مراد Gays یعنی ہم جنس پرست مرد، B سے مراد Bisexual یعنی جو دونوں طرح کی خباثتوں میں مبتلا ہوں اور T سے مراد Transgander یعنی مُخَنَّث ہے، اب اس میں Plus کی قید بڑھا دی گئی ہے اور یہ خباثت حیوانات سے جنسی تعلق تک متعدی ہو سکتی ہے۔
پس مِن جملہ امور میں ''Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018‘‘ کے عنوان سے پارلیمنٹ کا 2018ء میں منظور کردہ ایکٹ زیرِ بحث آیا۔ ہمارے ہاں تو یہ کام اپنے آپ کو ماڈرن اور لبرل ثابت کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، جبکہ امریکہ میں رہنے والے تعلیم یافتہ مسلمان ان کے تباہ کُن اثرات کا شعوری طور پر مشاہدہ کر رہے ہیں، اُن کی اسلام سے محبت اور وابستگی بھی ہم سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے، نیز اُن کا مغربی اقدار کا تقابلی مطالعہ محض نظری (Theoretical) نہیں ہے، بلکہ عملی اور مشاہداتی ہے اور فارسی کا مقولہ ہے: ''شنیدہ کے بود مانند دیدہ‘‘۔
اس ایکٹ کی محرّک تین خواتین سینیٹرز روبینہ خالد (پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا)، روبینہ عرفان (مسلم لیگ ق، بلوچستان)، کلثوم پروین (مسلم لیگ ن، بلوچستان) اور سینیٹر کریم احمد خواجہ (پیپلز پارٹی، سندھ) ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ ان سیاسی جماعتوں میں آپس میں رقابت ہے، ایک دوسرے کی حریف ہیں، لیکن چونکہ لبرل ازم ان سب جماعتوں میں قدرِ مشترک ہے، اس لیے ظہیر دہلوی کا یہ شعر ان کی ترجمانی کے لیے کافی ہے:
چاہت کا جب مزا ہے کہ وہ بھی ہوں بے قرار
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی
یہاں شعر میں تھوڑی سی تحریف کر کے ''دونوں طرف‘‘کی جگہ ''ہر طرف‘‘ پڑھیں تو حسبِ حال ہو گا۔ ہر قانون کی طرح بظاہر یہ قانون بھی تحفظِ حقوق کے نام پر پیش کیا گیا ہے، لیکن اس کے پیچھے عالمی ایجنڈے کی حامل تنظیم ''LGBT+‘‘ہے۔
اس دوران اس قانون کی حمایت میں بعض علماء کا فتویٰ بھی اخبارات کی زینت بنا، ہم اُن علماء کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہیں اور ان کو معذور سمجھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس قانون کے انگریزی متن کو نہ پوری طرح سمجھا اور نہ پوری گہرائی اور گیرائی کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا، سرسری معلومات کی بنا پر اس کی حمایت کر دی اور یہ نہ جانا کہ اس کے عواقب ہمارے اسلامی معاشرے اور ہمارے خطے کی تہذیبی اقدار کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ ان علماء نے کہا: ''ایسے خواجہ سرائوں کے ساتھ، جن میں مردانہ علامات پائی جاتی ہیں، عام عورتیں اور ایسے خواجہ سرائوں کے ساتھ، جن میں نسوانی علامات پائی جاتی ہیں، عام مرد نکاح کر سکتے ہیں‘‘، تو سوال یہ ہے کہ جس میں مردانہ علامتیں پائی جاتی ہیں، وہ مرد ہے اور جس میں نسوانی علامتیں پائی جاتی ہیں، وہ عورت ہے، تو اُس پر خواجہ سرا کا اطلاق کیسے درست ہو گا۔
امریکہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات نے ہمیں بتایا کہ ہم جنس پرستوں کے گروپLGBT نے بعض عالمی ذرائع ابلاغ میں اسے اپنی فتح سے تعبیر کیا اور کہا: ''مسلم علماء نے Transgender کے حقوق تسلیم کر لیے ہیں‘‘۔ ''دی ٹیلی گراف‘‘ نے لکھا: ''پاکستان میں Transgender لوگوں کا اب تک آپس میں شادی کرنا ناممکن تھا، کیونکہ وہاں قومِ لوط کا عمل کرنے والے لوگوں کی شادی پر عمر قید کی سزا دی جاتی ہے‘‘۔ یعنی انہوں نے ہیجڑہ کا ترجمہ Transgender کر کے فتویٰ کو قومِ لوط کے ہر قسم کے عمل کے جواز پر محمول کر دیا، کیونکہ LGBT ان کی تنظیم کا نام ہے۔ عوام کے نزدیکLGBT سے ہم جنس پرست مراد لیے جاتے ہیں، جبکہ خاص طور پر ہیجڑا یا خُنثیٰ مشکل کے لیے انگریزی میں خاص اصطلاح Hermaphrodite آتی ہے، ان کے جنسی اعضا میں مردانہ خصوصیات غالب ہوں تو مرد اور نسوانی خصوصیات غالب ہوں تو عورت کہلاتے ہیں، جبکہ سینیٹ نے Transgender کے حقوق کے بارے میں جو بل پاس کیا ہے، اسے مغرب میں LGBT گروپ اپنے من پسند معنی میں استعمال کرتا ہے، جس میں ہر قسم کی بے راہ روی شامل ہے۔ ایک Transgender وہ ہے جو دو جنسوں کے درمیان ہے، اس کے جنسی اعضا مرد اور عورت کا مرکب ہیں، یعنی غیر متعیّن ہیں، اسے ہیجڑا کہتے ہیں۔ ایک ''زنخا‘‘ ہے، اسے انگریزی میں Eunuch کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مردانہ جنسی اعضا کے ساتھ پیدا ہوئے، مگر بلوغت سے پہلے جنسی اعضا کو خصی کر دیا یا کاٹ دیا گیا۔ قدیم زمانے میں پوپ اپنے مذہبی گیت گانے والوں سے یہ سلوک کرتے تھے تاکہ اُن کی مترنّم اور پُرکشش آواز برقرار رہے۔ LGBT گروپ میں ایسے لوگ شامل ہیں کہ ایک امریکی فوجی افسر نے کہا: ''مجھے لگتا ہے کہ میں عورت ہوں‘‘ اور پھر اس نے اپنی عادات و اطوار تبدیل کرنا شروع کر دیں اور ظاہر ہے کہ اس میں ڈاکٹروں اور پلاسٹک سرجن کی مدد بھی لی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ بھی موجود ہے: ایک شخص نے کہا: ''مجھے لگتا ہے کہ میں بلی ہوں‘‘، پھر اس نے پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنا چہرہ بلی جیسا بنوایا، اپنے ہاتھ پائوں میں بلی جیسے ناخن لگوائے اور دُم بھی لگوالی، سوشل میڈیا پر اس کی تصاویر موجود ہیں، اسے''کیٹ مین‘‘ کہا جاتا ہے۔
اس میں فن کاری یہ ہے کہ ہیجڑا (Hermaphrodite) پیدائشی طور پر جنسی اعتبار سے جدا صفات کا حامل ہوتا ہے، جبکہ Transgender کا مطلب ہے: ''وہ افراد جو پیدائشی طور پر جنسی اعضا یا علامات کے اعتبار سے مرد یا عورت کی مکمل صفات رکھتے ہیں، مگر بعد میں کسی مرحلے پر مرد اپنے آپ کو عورت اور عورت اپنے آپ کو مرد بنانے کی خواہش میں اس جیسی عادات و اطوار اور لباس اختیارکر لیتے ہیں، اس کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں اور ڈاکٹر مرد کو عورت کے اور عورت کو مرد کے ہارمونز کچھ عرصے کے لیے استعمال کراتے ہیں۔ اس طرح مرد کے جسم کے بال جھڑنے لگتے ہیں، پٹھے نرم و ملائم ہونے لگتے ہیں اور مرد کے مخصوص اعضا کو پلاسٹک سرجری سے نکال کر نسوانی ساخت بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح مردانہ ہارمونز کے ذریعے عورت کی جسمانی ساخت و خصوصیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور بعض صورتوں میں بعد از مرگ اپنے تمام اعضا ہبہ کرنے والے کسی مرد کے اعضا بھی پلاسٹک سرجری کے ذریعے ٹرانسپلانٹ کر دیتے ہیں۔ اس سے نہ تو مرد میں عورت کی پوری استعداد پیدا ہوتی ہے کہ حمل قرار پائے اور بچے پیدا ہونے لگیں اور نہ عورت میں مرد کی پوری استعداد پیدا ہوتی ہے کہ اس میں توالد و تناسل کی صلاحیت پیدا ہو جائے، مگر یہ شغل وہاں رواج پا رہا ہے۔ اسی کو قرآن کریم نے تغییرِ خَلق سے تعبیر کیا ہے۔
جب تکبر و استکبار اور حسدکے سبب ابلیس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے راندۂ درگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ''تو جنت سے نکل جا، بے شک تو راندۂ درگاہ ہے اور بے شک تجھ پر قیامت تک لعنت ہے‘‘ (الحجر:34 تا 35)۔ ''شیطان نے قسم کھاتے ہوئے کہا: ''میں تیرے بندوں میں سے ایک معیّن حصہ ضرور لوں گا، ان کولازماً گمراہ کروں گا، ان کوضرور (جھوٹی) آرزوئوں کے جال میں پھنسائوں گا، انہیں ضرورحکم دوں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور انہیں لازماً حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بگاڑ دیں گے‘‘ (النسآء: 118 تا 119)۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''(اے لوگو!) اپنے آپ کو اللہ کی بنائی ہوئی اُس خلقت پر قائم رکھو جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی‘‘ (الروم: 30)، اسی بات کو حدیث پاک میں بیان کیا گیا ہے: ''ہر بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ (بخاری: 1358)۔
قدرتی طور پر کسی کا مُخَنَّث یا ہیجڑا پیدا ہونا اُس کا ذاتی عیب نہیں ہے، اس بنا پر نہ اُسے حقیر سمجھنا چاہیے اور نہ اُسے ملامت کرنا چاہیے، کیونکہ ملامت کرنے کا جوازاس ناروا فعل پر ہوتا ہے، جس کا ارتکاب کوئی انسان اپنے اختیار سے کرے اور جسے ترک کرنے پر اُسے پوری قدرت حاصل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اللہ کسی شخص کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اُس کے لیے اپنے کیے ہوئے ہر (نیک) عمل کی جزا ہے اور ہر (برے) عمل کی سزا ہے‘‘ (البقرہ: 286)۔ لیکن جیسا کہ سطورِ بالا میں بیان ہوا: ''مغرب میں Transgender اپنی مرضی سے جنس تبدیل کرتے ہیں، جس جنس پر اُن کی تخلیق ہوئی ہے، مصنوعی طریقوں سے اُسے بدل دیتے ہیں، ہم جنس پرستی کے ذریعے لذت حاصل کرتے ہیں‘‘، جبکہ اس کے بارے میں بڑی وعید آئی ہے۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved