تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     05-10-2022

جنوبی ایشیا کا معاشی بحران اور قرضے

چند روز قبل چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکہ سے کہا کہ وہ چین اور پاکستان کے درمیان تعاون پر اپنے منفی ریمارکس دینے کے بجائے‘ سیلاب سے گھرے ہوئے پاکستان اور اس کے عوام کی صحیح معنوں میں مدد کرے۔ چینی وزارتِ خارجہ کی طرف سے یہ بیان امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن کے اس بیان کے جواب میں جاری کیا گیا تھا‘ جس میں انہوں نے 26 ستمبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ نیو یارک میں ملاقات کے دوران پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی سے نکلنے کیلئے چین سے قرضوں کی ادائیگی میں رعایت اور سیلاب کے بعد تعمیرِ نو کے عمل میں مدد حاصل کرنے کیلئے بات چیت کرے۔ اگرچہ امریکہ اور چین کے ان دونوں بیانات کا تعلق پاکستان کو درپیش حالیہ سیلاب سے پیدا ہونے والے مسائل سے نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں ان کی بنیاد ''سی پیک‘‘ ہے جس کے تحت گرانٹ اور قرضوں کی صورت میں چین نے پاکستان میں توانائی‘ انفراسٹرکچر کے منصوبوں کی تعمیر اور معیشت کے دیگر شعبوں میں ترقیاتی کام کیلئے 54 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔امریکہ کو شروع سے ہی اس منصوبے پر اعتراض ہے۔ وہ اسے پاکستان کیلئے ''قرضوں کا جال‘‘ کہتا ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں مثلاً سری لنکا میں معاشی بحران کی وجہ بھی چینی قرضوں کو قرار دیتا ہے۔ کیا امریکہ کا یہ موقف درست ہے؟ اس کالم میں چین کے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات اور چینی پالیسی کا ابتدا سے جائزہ لیتے ہوئے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات پر چین نے 1949ء میں اپنے قیام کے فوراً بعد ہی توجہ دینا شروع کر دی تھی کیونکہ اس خطے کے چار ممالک نیپال‘ بھوٹان‘ بھارت اور پاکستان کے ساتھ چین کی براہ راست سرحدیں ملتی ہیں۔ ابتدا میں کافی برسوں تک چین کے ان ممالک کے ساتھ تعلقات سفارتی‘ سیاسی اور ثقافتی شعبوں تک محدود رہے کیونکہ ایک طرف چین خانہ جنگی‘ بیرونی جارحیت اور مداخلت کے ایک طویل دور سے گزرنے کے بعد معاشی طور پر خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا‘ دوسری طرف اسے امریکہ کے معاندانہ رویے کا سامنا تھا‘ جس نے نہ صرف چین کی نئی انقلابی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کی پالیسی اپنا رکھی تھی بلکہ جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ بعید میں فوجی معاہدے اور اڈے قائم کر کے چین کے گرد ایک عسکری حصار قائم کرنے کی کوشش بھی کر رہا تھا۔اس کے باوجود پوری دنیا میں چین نے بھرپور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے بہت سے ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے۔ ان میں جنوبی ایشیا کے ممالک بھی شامل تھے۔ ان تمام ملکوں کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں کی بنیاد پر تعلقات قائم کر کے چین دو مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ چین کے گرد حصار قائم کرنے کی امریکی کوششوں کی شکست اور تیسری دنیا کے نوآزاد ممالک کے ساتھ سیاسی اور ثقافتی تعلقات کے ذریعے دیرپا اور پائیدار دوستی کی بنیاد رکھنا۔
ابتدائی تین چار دہائیوں میں چین چونکہ خود معاشی مشکلات کا شکار رہا‘ اس لیے اس کی طرف سے ترقی پذیر دنیا سے تعلق رکھنے والے دوست ممالک کیلئے کسی بڑے اقتصادی امداد کے پیکیج کی مثال نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود اگر کسی دوست ملک کو کسی وجہ سے سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا یا انفراسٹرکچر کی تعمیر کے کسی منصوبے میں چین کی مدد کی درخواست کی گئی تو چین نے مغربی ممالک کی طرف سے قرض فراہم کرنے کی روایتی پالیسی کے برعکس بغیر شرائط کے مدد فراہم کی۔1991ء میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد‘ وسط ایشیائی ریاستیں اپنی معدنی دولت اور اہم جغرافیائی پوزیشن کے باعث ایک نئی بین الاقوامی رسا کشی کا اکھاڑہ بن گئیں۔ اس ''نئی گیم‘‘ میں کودنے والے ممالک میں امریکہ بھی شامل تھا جو اقتصادی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار وسط ایشیائی ریاستوں کو خطیر مقدار میں ڈالر فراہم کر کے انہیں روس اور چین کے حلقہ اثر سے باہر رکھنا چاہتا تھا۔ مگر اس خطے کی حکومتوں اور عوام میں جس ملک نے آخر کار احترام اور خیرسگالی حاصل کی وہ چین ہے۔ کیونکہ اس کا رویہ امریکہ اور روس دونوں سے الگ تھا۔ اس وقت اس خطے میں توانائی کے منصوبوں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں چینی سرمایہ کاری سب سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نے ان ممالک کے ساتھ باہمی احترام‘ باہمی مفاد‘ اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور کسی تیسرے ملک سے نتھی نہ کرنے کی پالیسی کی بنیاد پر تعلقات قائم کیے‘ اور اس طرح ان کی خیر سگالی اور اعتماد کو حاصل کر لیا۔ جنوبی ایشیا کے بارے میں بھی چین کی پالیسی ابتدا سے انہی اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ دنیا کی دیگر بڑی طاقتوں مثلاً روس اور امریکہ کے برعکس چین نے جنوبی ایشیا کو کبھی بھارت کی نظر سے نہیں دیکھا۔ بلکہ ہر ملک کے ساتھ آزادانہ اور دوطرفہ بنیادوں پر تعلقات قائم کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں جہاں چین کے جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہوا ہے‘ اسی طرح چین اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو بھی فروغ حاصل ہوا ہے۔جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطوں کے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات قائم کرتے وقت چین ان ممالک کے اندرونی معاملات میں سختی سے عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔
چین کی اس پالیسی کا چوتھا نمایاں پہلو جس کی اقوام متحدہ اور دیگر علاقائی اداروں نے بھی تعریف کی ہے‘ یہ ہے کہ چین نے ضرورت مند ملکوں کے ان شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے رسک لیا ہے جہاں مغربی ممالک سرمایہ کاری پر تیار نہیں تھے کیونکہ وہاں سے فوری اور وافر مقدار میں منافع کی امید نہ تھی۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں چینی سرمایہ کاری کا جائزہ لیا جائے تو مندرجہ بالا تمام اصولوں کا اطلاق نظر آتا ہے۔ پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ان ممالک میں چینی سرمایہ کاری کا نمبر دیگر ممالک کی سرمایہ کاری کے بعد آتا ہے۔ مثلاً سری لنکا‘ جہاں 2019ء سے شروع ہونے والے معاشی بحران کی ذمہ داری چینی قرضوں پر ڈالی جاتی ہے‘ کو سب سے زیادہ قرضے جاپان نے دیے ہیں۔ سری لنکا کے 35 بلین ڈالر کے کل بیرونی قرضوں کے 42 فیصد کا تعلق جاپان سے ہے جبکہ چین کا حصہ صرف 10 فیصد ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے کل 44.20 بلین ڈالر کے قرضوں میں جاپان کا 45‘ روس کا 20‘ اور چین کا 21 فیصد ہے۔ اسی طرح نیپال کو قرضہ فراہم کرنے والے ممالک میں بھی جاپان سرفہرست ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کیے جانے والے قرضہ جات کے برعکس چینی قرضوں کے ساتھ کوئی شرائط وابستہ نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ یہ قرضہ جات کم سود پر دیے جاتے ہیں اور ان میں گرانٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو فراہم کیے جانے والے قرضہ جات کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ایسے منصوبوں پر خرچ کیے جاتے ہیں جن کی تکمیل سے موصول کرنے والا ملک معاشی اور سیاسی لحاظ سے آزاد اور خود انحصار ہو جاتا ہے‘ مثلاً نیپال میں چین کی مدد سے ہمالیہ کے پار چین سے ملانے والی ایسی سڑکوں کی تعمیر کی گئی ہے‘ جو سارا سال کھلی رہتی ہیں اور ان کی تعمیر سے نیپال کو اپنی درآمدی اور برآمدی تجارت کیلئے بھارت پر جو بھاری انحصار کرنا پڑتا تھا‘ اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی چین نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور اس کا مقصد ملک میں انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے‘ جس سے ملک کو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت اور آمدورفت میں آسانی پیدا ہو گی۔ جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں معاشی بحران سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اس کی وجوہات اور ہیں اور اس کی ذمہ داری چین کی طرف سے فراہم کردہ قرضوں اور سرمایہ کاری پر نہیں ڈالی جا سکتی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved