تحریر : اسلم اعوان تاریخ اشاعت     14-10-2022

ردِ انقلاب یا سماجی تبدیلیاں؟

ایرانی سماج ایک ایسے وقت میں آزادیٔ نسواں کے نعروں سے گونج اٹھا جب پوری دنیا میں مسلم خواتین حجاب جیسی اقدار کے احیا کی پُرامن جدوجہد میں سرکھپا رہی تھیں۔ اس وقت بھارت سے لے کر فرانس تک‘ بہادر مسلم خواتین اجنبی معاشروں میں اپنی ثقافتی و مذہبی شناخت کی بحالی کی خاطر ناقابلِ برداشت دبائو کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ شاید اسی لیے دنیا بھرکی مسلم خواتین کے لیے ایرانی عورتوں کی سماجی و سیاسی آزادیوں کی تحریک کی حمایت دشوار ہو گئی؛ تاہم انسانی حقوق کی سیکولر تنظیمیں ایرانی خواتین کی جارحانہ مزاحمت کی حمایت کے ذریعے ایک طرف عالمی سطح پر خواتین میں مقبول ہوتے ثقافتی شعور کو پراگندہ کرنے اور دوسری طرف ایران میں اقتدار کی منتقلی کے نازک مرحلے پہ ردِ انقلاب کو مہمیز دینے میں سہولت تلاش کرنے لگی ہیں۔ 16 ستمبر کو مہساامینی نامی ایک نوجوان لڑکی کی المناک موت کے بعد ابھرنے والی شورش میں اب تک 154 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں؛ تاہم حکومت نے اب تک 41 لوگوں کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ فی الوقت نوجوان لڑکیاں سیاسی، سماجی اور شخصی آزادیوں کے حصول کی خاطر اپنی تاریخ کے سیاسی انقلاب کی اساس بن گئی ہیں جو ایک رجعت پسند دور کے خاتمے کا علمبردار بن کے ابھر رہا ہے۔ اس مزاحمتی تحریک میں گرفتار ہونے والی پندرہ سے بیس سال اوسط عمر کی ہزاروں لڑکیوں نے جدید دنیا کے انسانی تخیل کو متاثر کیا ہے۔ ان کے حمایت میں لندن سے لے کر لاس اینجلس، سڈنی سے لے کر سیول اور ٹوکیو سے لے کر تیونس تک یکجہتی پر مبنی ریلیاں برپا ہیں۔ ان مظاہروں میں شاید پہلی بار خواتین کی سماجی آزادیوں کی تحریک ردِانقلاب کے لیے ایک ایسی چنگاری بن گئی جس نے نوجوان نسل کے دل و دماغ میں آگ لگانے کے علاوہ پورے معاشرے کو متحرک کر دیا۔ مغربی ماہرین کہتے ہیں کہ ایرانی خواتین کے مزاحمتی کردارکی مثال چند ممکنہ مماثلتوں کے ساتھ پیرس کی خاتون 'پوائسونیئرز‘ یا مارکیٹ ورکرزکی ان مزاحمتی تحریکوں سے دی جا سکتی ہے جنہوں نے بادشاہ کی منتخب اسمبلی کے خلاف کارروائی کی تھی اور فرانسیسی انقلاب کو کچلنے کی کوشش روکنے کی خاطر ورسیلز پر دھاوا بول دیا تھا؛ تاہم مذکورہ تحریکوں میں خواتین ازخود کوئی انقلاب لانے کے بجائے محض ردِ انقلاب کو روکنے میں حصہ دار بنی تھیں۔ اسی طرح روسی انقلاب کے دوران پیٹرو گراڈ میں خواتین کی قیادت میں روٹی کے فسادات نے بھی زارسلطنت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن ایرانی خواتین کا احتجاج منفرد و ممتاز ثابت ہواہے کیونکہ یہ صرف کسی تحریک میں خواتین کو شامل کرنے والی ہلچل نہیں بلکہ یہ تحریک خواتین کی مکمل سماجی و سیاسی آزادیوں کے حوالے سے ایک منظم اور مربوط سوچ کی عکاسی کرتی ہے؛ چنانچہ وسیع پیمانے کی گرفتاریوں اور موت کے خطرات کے باوجود مختلف نسلوں کی خواتین تخیلاتی طریقوں سے متحد ہو رہی ہیں۔
یہ چنگاری بائیس سالہ کرد مہسا امینی کی اچانک موت سے اس لمحے بھڑک اٹھی جب اسے تہران میں سکارف ڈھنگ سے نہ پہننے کے جرم میں 'اصلاحاتی‘ مرکز بھیجا گیا اور وہ پولیس کے مبینہ تشدد کے باعث تین دن تک کوما میں رہنے کے بعد 16 ستمبر کو انتقال کرگئی۔ اس کی موت کے خلاف احتجاجی نعرے نہایت تیزی کے ساتھ حکومت کی بیدخلی کے مطالبات میں ڈھلتے گئے۔ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی وڈیوز میں تہران میں سکول کی طالبات نہایت بے باکی کے ساتھ سکارف اتار کر کیمرے کی طرف اپنی پشت کرکے ''خوف کو اندر نہ آنے دیں‘‘ اور ''ہم متحد ہیں‘‘ کے نعروں سے ماحول کو گرماتی دکھائی دیں۔ اس احتجاج کے دوران کئی خواتین کو خفیہ طریقے سے قتل کرنے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ آرٹ کی ایک نوجوان طالبہ نیکا شکرامی نے آخری بار 20 ستمبر کو اپنی دوست کو فون کرکے بتایا کہ چند اہلکار سڑک پر اس کا پیچھا کر رہے ہیں، دس دن بعد اس کے اہلِ خانہ کو تہران کے حراستی مرکز میں اس کی لاش وصول کرنے کے لیے بلایا گیا۔ احتجاج کے نئے فلیش پوائنٹ سے بچنے کے لیے اسے خفیہ طور پر دفن کر دیا گیا۔ ایران میں سیاسی تحریکوں میں متحرک ہونے کے لیے طویل عرصے سے جنازے اہم وسیلہ رہے ہیں۔ اکثر چہلم پہ اموات کی یاد منانے کی رسم جذباتی مظاہروں میں بدل کر سکیورٹی فورسز سے تصادم کے نتیجے میں مزید اموات اور شورش کے کبھی نہ تھمنے والا سلسلوں کو جنم دیتی ہے۔ جنازوں کے انہی جلوسوں نے اُس انقلاب میں بھی جوش پیدا کیا تھا جس نے 1979ء میں شہنشاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کو فرار ہونے پر مجبور کر دیاتھا۔
مہسا امینی کی موت کے پانچ دن بعد ایک ٹک ٹاکر ہادیس نجفی نے احتجاج کے دوران ایک وڈیو پیغام ریکارڈ کراتے ہوئے کہا: مجھے امید ہے کہ چند سالوں بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں گے تو مجھے خوشی ہوگی کہ سب کچھ بہتری میں بدل چکا ہو گا۔ چندگھنٹوں بعد ہادیس نجفی کی بھی لاش ملی جس کے سر میں گولی ماری گئی تھی۔ سولہ سالہ وڈیو بلاگر سرینا اسماعیل زادہ نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی کہ میں ہمیشہ سوچتی ہوں، مجھے اس معاشرے میں پیدا ہونے کی کیا ضرورت تھی؟مبینہ طور پر کیراج میں ایک ریلی کے دوران اسے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مظاہروں پر قابو پانے کے لیے حکام نے ان خواتین کو بھی نشانہ بنایا جو کبھی اسلامی انقلاب کی علمبردار تھیں، جن میں سابق صدر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی سرفہرست ہیں، جنہیں فسادات بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ایک خیال یہ بھی ہے کہ حال ہی میں سعودی پرنس (اب وزیراعظم) محمد بن سلمان کی مساعی سے سعودی خواتین کو ملنے والی آزادیوں نے ایرانی خواتین کو بھی متاثر کیا ہے۔ کئی ہالی وُڈ اداکارائوں کی جانب سے بھی انسٹاگرام پر ایرانی خواتین کی حمایت میں تصاویر اور وڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔معروف ہالی وُڈ اداکارہ انجلینا جولی نے لکھا ''بہادر، غیرت مند اور نڈر خواتین سمیت وہ تمام لوگ جو کئی دہائیوں سے مزاحمت میں زندہ رہے اور آج سڑکوں پر موجود ہیں اور مہسا امینی اور ان جیسی تمام لڑکیوں کو سلام‘‘۔
یہ حقیقت ہے کہ انقلاب کے بعد ایران میں اعلیٰ تعلیم آسمان کو چھونے لگی تھی۔ بعض قدامت پسندوں کا خیال تھا کہ اسلامی نظام لڑکیوں کی اخلاقیات کو مغرب یا جدیدیت سے ہم آغوش ہونے سے بچائے گا۔ خواتین کی خواندگی 1976ء میں 30 فیصد سے بھی نیچے تھی لیکن چار دہائیوں بعد یہ 80فیصد تک بڑھ چکی تھی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایران کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔ حالانکہ وہ اب بھی لیبر فورس کا بیس فیصد سے بھی کم ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں خواتین زیادہ نمایاں اور سیاسی طور پر فعال ہیں، جو مملکت کی نائب صدرات کے علاوہ پارلیمنٹ میں بھی کئی نشستیں رکھتی ہیں۔ ایران کی شیریں عبادی نے 2003ء میں عدالت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا دفاع کرنے پر امن کا نوبیل انعام جیتا تھا جبکہ سمیرا مخمل باف کانز فلم فیسٹیول کیلئے (سترہ سال کی عمر میں) منتخب ہونے والی سب سے کم عمر ہدایت کار تھیں۔ 2016ء میں امام خمینی کی پوتی زہرہ اشراقی خمینی‘ جو خواتین کے حقوق کی کارکن ہیں اور جن کی شادی اصلاح پسند سابق صدر محمد خاتمی کے اُس بھائی سے ہوئی جسے پروگریسو خیالات رکھنے کی وجہ سے پارلیمنٹ کا انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا تھا‘ نے کہا تھاکہ ''حکومت اس فریب میں مبتلا ہے کہ وہ سماج کی فطری بوقلمونی کو مٹا کر یکساں سوچ پیدا کرکے فکری ارتقا کی راہ روک سکتی ہے۔ ایرانی خواتین چار دہائیوں سے اس لمحے کا انتظار کر رہی ہیں کہ وہ اپنی ذہنی ترقی کا سفر پورا کرسکیں‘‘۔
بلاشبہ ایران میں مظاہرے ایسے نازک وقت میں شروع ہوئے جب اقتدار کی ممکنہ منتقلی کا آغاز ہو رہا تھا۔ تراسی سالہ روحانی پیشوا خامنہ ای جو 2014ء سے پروسٹیٹ کینسر سے لڑ رہے ہیں‘ اپنے جانشین کے تعین کے پیچیدہ مسئلے سے بھی دوچار ہیں۔ اگرچہ صدر ابراہیم رئیسی نے گزشتہ ہفتے فون کرکے مہسا امینی کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے اور انہوں نے ملک میں عوامی سطح پر اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کے اعتراف کے ساتھ دشمنوں کو مایوس کرنے کی خاطر داخلی اتحاد کی اپیل بھی کی ہے لیکن یونیورسٹی کیمپسز میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے علاوہ خواتین کے ایک دوسرے گروہ کے جوابی مظاہروں کو متحرک کرنے کے الرغم اب تک کسی بھی کوشش نے عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا نہیں کیا۔ گزشتہ دنوں ابراہیم رئیسی کو تہران میں خواتین کی الزہرہ یونیورسٹی میں تقریر کے دوران طالب علموں کی طرف سے تلخ سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ہفتے کے روز ایک ہیکر نے ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کی نشریات کو ہیک کر کے احتجاجی تحریک میں ہلاک ہونے والی نوجوان لڑکیوں کی تصاویر کے ساتھ حکومت مخالف نعرے بھی نشر کیے جبکہ پس منظر میں 'عورت، زندگی، آزادی‘ کا نعرہ بھی سنائی دے رہا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved