تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     31-08-2013

سرخیاں اُن کی، متن ہمارے

منتخب حکومتیں اپنا کام کررہی ہیں …صدر زرداری صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ’’کراچی میں فوج بلانے کی ضرورت نہیں، منتخب حکومتیں اپنا کام کررہی ہیں‘‘ اگرچہ ہماری حکومت جیسا اچھا تو نہیں کررہیں کیونکہ اس کے لیے اچھے آدمیوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جبکہ موجودہ حکومت کے پاس یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، رحمن ملک اور میاں منظور وٹو جیسا کوئی بھی نیک پاک اور اچھا آدمی نہیں ہے جو حکومت کو اچھے طریقے سے چلاسکے، البتہ اگر حکومت چاہے تو ہم اسے یہ یگانۂ روز گار ہستیاں عاریتاً دے سکتے ہیں جو استعمال کے بعد قابلِ واپسی ہوں گی کیونکہ خطرہ یہی ہے کہ ایسی صورت میں حکومت ان کی کارگزاری دیکھ کر انہیں واپس کرنے میں لیت ولعل سے کام لے گی اور اس طرح ہمارا کام بالکل ہی رک کررہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’جان ومال کا تحفظ ہماری اوّلین ذمہ داری ہے ‘‘ حالانکہ یہ تحفظ اللہ میاں کی ذات ہی دے سکتی ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کو ہدایات دے رہے تھے۔ سراغ رساں کتا 8لاکھ کا، ریلوے کے پاس 8روپے بھی نہیں …سعد رفیق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق نے کہا ہے کہ ’’سراغ رساں کتا 8لاکھ کا ہے جبکہ ریلوے کے پاس 8روپے بھی نہیں ہیں ‘‘ اور چونکہ یہ کتے بہت ضروری ہیں اس لیے شہر کے آوارہ کتوں کو سراغ رسانی کی ٹریننگ دی جائے گی جس کے لیے پولیس کی خدمات حاصل کی جائیں گی؛ تاہم، جب سے کتوں کو ہمارے اس ارادے کا پتہ چلا ہے، زیادہ ترکتے ویسے ہی سڑکوں سے غائب ہوگئے ہیں کیونکہ سراغ رسانی کے دوران بھونکنے کی اجازت نہیں ہوتی اور بھونکے بغیر ان کا گزارہ ہی نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’شالیمار ایکسپریس چلانے والوں سے بھتہ مانگا جارہا ہے ‘‘جبکہ ریلوے تو ویسے بھی گھاٹے میں جارہی ہے البتہ بھتے کی مد میں ایک آدھ خراب انجن ان کی خدمت میں پیش کیا جاسکتا ہے جسے ٹھیک کروا کر وہ اپنی گاڑیاں چلاسکتے ہیں اگرچہ ان سے بھتہ مانگنے والے بھی پیدا ہوجائیں گے۔ آپ اگلے روز قومی اسمبلی میں سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ ایک ڈالر کی واپسی پر بھی نواز شریف سے ہاتھ ملا لوں گا …عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’’نواز شریف اگر زرداری کی لوٹی ہوئی رقم میں سے ایک ڈالر بھی واپس لے آئیں تو ان سے ہاتھ ملا لوں گا‘‘ ہمارے لیے وہ ایک ڈالر بھی بہت ہوگا کیونکہ پارٹی آج کل سخت اقتصادی بحران کا شکار ہے اور دھرنے دے دے کر کارکنوں کی نوبت فاقوں تک پہنچ چکی ہے اور وہ منتظر رہتے ہیں کہ کوئی پارٹی لیڈر کوئی تقریب منعقد کرے اور وہ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں جبکہ چھینا جھپٹی کے دوران وہاں سے کھانا اٹھا کر گھر لے جانے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جن کا اپنا پیسہ باہر پڑا ہو وہ کیسے دوسروں کا احتساب کریں گے ‘‘ اس لیے ایسے لوگ بھی اگر اپنے اپنے پیسے سے ایک ایک ڈالر واپس لے آئیں تو یہ قطرہ قطرہ پارٹی کے لیے دریا بلکہ سونامی کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے ، اور پارٹی تبدیلی لانے کے اپنے وعدے سے عہدہ برآ ہوسکتی ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔ بھتہ مافیا کے خلاف آپریشن کے لیے کمیٹی بنائیں گے …چودھری نثار وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ’’کراچی میں بھتہ مافیا کے خلاف آپریشن کے لیے کمیٹی بنائیں گے ‘‘ اور یہ کمیٹیاں جس تیز رفتاری کے ساتھ کام کرتی ہیں اس کے بارے میں کسی کو بھی کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اس لیے بھتہ مافیا اس دوران جس قدر بھی دال دلیا کرسکے یہ اس کی اپنی ہمت پر منحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کراچی میں امن کی بحالی مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ‘‘ اگرچہ ہم عاجز مسکین لوگ ناممکن کو ممکن اور مشکل کو آسان نہیں بناسکتے ۔ کیونکہ یہ خدائی کام ہیں اور ہم گنہگار بندے اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’شام پر امریکی حملے کی حمایت نہیں کی جائے گی ‘‘ اگرچہ ہمارے حمایت کرنے نہ کرنے سے کیا فرق پڑسکتا ہے لیکن آخر کہنے میں کیا حرج ہے اور باتیں کہنے ہی کے لیے تو ہوتی ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں روزنامہ ’’دنیا‘‘ سے گفتگو کررہے تھے۔ مہاجر ری پبلیکن آرمی، نیا شوشہ چھوڑا گیا …فاروق ستار متحدہ قومی محاذ کے مرکزی رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ’’مہاجر ری پبلیکن آرمی کا نیا شوشہ چھوڑا گیا ہے ‘‘ حالانکہ پرانے شوشے ہی ضرورت سے زیادہ تھے اور کوئی نیا شوشہ چھوڑنے کی ضرورت تھی نہ گنجائش ، اس لیے شوشے چھوڑنے والے عناصر اپنے ان شوشوں کو کسی مناسب وقت کے لیے سنبھال کر رکھیں اور فضول خرچی سے باز رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’کراچی میں پاکستان کو دائو پر لگایا جارہا ہے ‘‘ چنانچہ ہرچیز دائو پر لگانے والے ان جواریوں کا بھی سدباب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’90ء کی سیاست کو دُہرانا پاکستان کی سیاست کے لیے بُرا ہوگا‘‘ اس لیے ملک کی مستحکم اور صاف ستھری سیاست کو ایسے عناصر سے پاک رکھنا بے حد ضروری ہے اور کسی بات کو دہرانا ایسا ہی ہے جیسے سنا ہوا لطیفہ دوبارہ سنادیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا اپوزیشن کا کردار ہضم نہیں ہورہا ‘‘ اس لیے اگر مخالفین کے ہاضمے کا تقاضا بڑھا تو ہم حکومت میں شامل بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ آج کا مقطع ہاتھ آنکھوں پر رکھے گھر سے نکلتا ہوں ‘ ظفرؔ کیا بتائوں کوچہ و بازار کا کیا رنگ ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved