تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     18-12-2022

پاک افغان تنازعات ، حربی حل سے گریز کریں

پاکستان کی مغربی سرحد پر افغان فورسز کی پاکستانی شہریوں پر فائرنگ سے تشویش کی لہر دورڑ گئی ہے کیونکہ پاکستان کے عوام افغانستان سے اس رویے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ ایک ہفتہ کے دوران فائرنگ کا دوسرا واقعہ ہے جس میں سات افراد شہید جبکہ دو درجن کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ افغان فورسز کے اس طرزِ عمل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاک افغان سرحد پر ناخوشگوار واقعات پیش آنے کے بعد کمانڈر 12کور جنرل آصف غفور چمن پہنچے ‘ باب ِدوستی کو معمول کی تجارتی سرگرمیوں کیلئے کھول دیا گیا ہے اور پاک افغان بارڈر پر سرحدی فورسز کے درمیان فائر بندی ہو گئی ہے۔پاکستانی حکام حالیہ سرحدی تنازع کو مقامی عمائدین‘ علما کرام اور سماجی رہنماؤں کے ذریعے حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں‘ تاہم معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کیونکہ جب تک افغان قیادت اور عوام پاکستان سے متعلق دیرینہ تحفظات کو ختم نہیں کر لیتے ہیں افغان سرحد پر ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہیں گے۔ افغان میڈیا کو دیکھیں تو الٹا انہوں نے الزامات لگائے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے کارروائیاں ہو رہی ہیں۔
1893ء میں ڈیورنڈ لائن پر اتفاق رائے ہوا تھا مگر افغان ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد ماننے سے انکار کرتے ہیں۔جب 2017ء میں پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا آغاز کیا تو افغانوں نے اسے قبول نہ کیا۔ افغان اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ نہیں کیا تھا بلکہ پاکستان کو تو یہ افغانستان کے ساتھ سرحد کی حیثیت میں غیر منقسم بھارت سے ورثے میں ملی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں جو بھی حکمران آتا رہا وہ سرحد کے معاملے میں سخت مؤقف کا حامل رہا ہے۔ پاکستان نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انقلاب ثور اور ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت جانے کے بعد اور برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار کی آمد سے شاید پاکستان کے مفادات کو افغانستان کی سرزمین پر خطرات لاحق نہیں ہوں گے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کے بارے عام خیال یہ تھا کہ وہ سوویت یونین کے نمائندے ہیں‘مگر یہ الزام آج تک ثابت نہ ہو سکا۔اس وقت باقاعدہ طالبان نہیں تھے بلکہ مجاہدین کے تنظیمیں تھیں جو اسلامی نظریات کا علم بلند کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر نجیب اگرچہ لبرل ذہن کے حامل تھے اور افغان میں ایک طبقہ انہیں پسند بھی کرتا تھا مگر مجاہدین کی نگاہ میں وہ اسلام دشمن تھے‘ اس لیے بنیادی طور پر دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی قیادت میں جو خفیہ فورس تشکیل دی گئی وہ پاکستان مخالف کارروائیوں میں بھی ملوث تھی‘ وہ پاکستان کے سخت مخالف سمجھتے جاتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور ہی میں افغان عوام کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بوئے گئے ۔نجیب اللہ کو بھارت نواز سمجھا جاتا تھا‘ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی ہمدردیاں گلبدین حکمت یار اور برہان الدین کے ساتھ ہو گئیں کیونکہ یہ لوگ پاکستان اور اسلام کی بات کرتے تھے‘ لیکن کسے معلوم تھا کہ بعد کے حالات پہلے سے بھی بھیانک ثابت ہوں گے کیونکہ اسی دور میں کلاشنکوف کلچر‘ منشیات‘سمگلنگ اور بدامنی نے سر اٹھایا۔
نائن الیون کا واقعہ پیش آنے کے بعد طالبان حکومت کی مشکلات شروع ہوئیں اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کر دیا تو پاکستان بھی امریکہ کا نان نیٹو اتحادی تھا‘ پرویز مشرف نے شروع میں مؤقف اختیار کیا کہ ہمارے لیے جنگ میں شامل ہونے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں‘ تاہم جب افغان سفیر کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا تو پاکستان سے متعلق افغان عوام کی نفرت بڑھنے لگی۔ جب حامد کرزئی افغانستان کے صدر بنے تو پاکستان کو امید ہوئی کہ شاید اب پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات مثالی بن جائیں مگر جلد ہی حامد کرزئی کی ترجیحات اور اس کے اصل رنگ سامنے آنا شروع ہو گئے اور وہ بھی پاکستان پر بھارت کو ترجیح دیتے نظر آئے‘ پھر جب اشرف غنی حکومت میں آئے تو وہ بھی پاکستان کے معیار پر پورا نہیں اتر سکے یا انہیں پاکستان سے جو توقعات تھیں پاکستان نے وہ نہیں کیا۔اس دور میں پراکسی وار کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔ بھارت نے سفارتی اور انٹیلی جنس عملے اور قونصل خانوں کی تعداد میں اضافہ کر کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو پروان چڑھایا۔ اس مقصد کیلئے بھارت کو افغان حکومت کی مکمل حمایت اور سازگار ماحول میسر رہا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی افغان سرزمین پر اجارہ داری تھی‘ جسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔
افغانستان میں بیس برس تک قیام کے بعد اگست 2021ء میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد نیا دور شروع ہوتا ہے‘ طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر امید پیدا ہوئی کہ اب افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو خطرات لاحق نہیں ہوں گے کیونکہ امریکی ناکامی کے بعد بھارت کی عملداری ختم ہو گئی تھی‘ اسے اپنے کئی قونصل خانے ختم کرنے پڑے تھے‘ راء پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیوں کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتی تھی‘ انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے پر خوشی کا اظہار کیا‘ لیکن وقت کے ساتھ پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں شدت آنا شروع ہو گئی۔ پاکستان اور افغانستان میں رنجش کا تعلق دوطرفہ ہے‘ طالبان کی قیادت سمجھتی ہے کہ جس طرح ماضی میں ملا عمر کی حکومت کو پاکستان نے فوری تسلیم کر لیا تھا اس بار ان کی حکومت کو تسلیم کیوں نہیں کیا جا رہا‘ جبکہ پاکستان کو یہ شکایت ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا‘ مذاکرات کا عمل کئی بار معطل ہوا مگر پاکستان نے نہ صرف تمام فریقوں کو دوحہ میں مذاکرات کی میز پر بٹھایا بلکہ مذاکرات کامیاب کرانے میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔ دنیا کو افغانستان کی مدد پر قائل کرنا اور اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس طلب کر کے افغانستان کیلئے فنڈز اکٹھے کرنا‘ سب سے بڑھ کر ایسے حالات میں کابل میں سفارت خانہ کھولنا۔ ان احسانات کے علاوہ پاکستان کو یہ بھی شکایت ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان میں منظم ہو رہی ہے‘ افغانستان میں موجود بھارتی خفیہ ایجنسی راء پہلے پاکستان کیلئے خطرہ تھا اب داعش کی صورت میں خطرات موجود ہیں‘ اسی طرح افغان سرحد پر باڑ کے حوالے سے بھی پاکستان کو شکایات ہیں‘ جنوبی اور مغربی سرحد پر دراندازی کے واقعات میں تواتر کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ نیٹو کا چھوڑا ہوا آٹھ ارب ڈالر کا جنگی سازوسامان اور اسلحہ افغانستان میں موجود ہے جسے مختلف متحارب گروپ پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ ان متحارب گروپوں کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں تاجروں کو بھتے کی پرچیاں دیتے ہیں اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
دوطرفہ مسائل اور شکایات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغان عوام میں پائے جانے والے شکوے شکایات کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔ ڈاکٹر نجیب اللہ سے اب تک کے حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان عوام واضح طور پر کئی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ جب تک اس تفریق کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی‘ پاک افغان تعلقات کو مثالی بنانے کا چیلنج موجود رہے گا۔ حربی بنیادوں پر مسائل کا حل نکالنے کے بجائے افغانستان کو آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر دیکھنا ہو گا۔ سکیورٹی بندشوں کے برعکس صنعت و تجارت‘ معاشرتی طور پر میل جول اور عام لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved