تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     21-12-2022

سرخیاں ، متن اور ڈاکٹر نبیل احمد نبیلؔ

بجلی اور گیس کے صارفین پر کوئی
اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے:وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''بجلی اور گیس کے صارفین پر کوئی اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے‘‘ کیونکہ جتنا بوجھ اُن پر پہلے سے پڑا ہوا ہے، ان کے لیے وہی کافی ہے اور وہ خوش دلی کے ساتھ یہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں؛ اگرچہ ان کی چیخیں بھی نکل رہی ہیں لیکن انہیں ہمت سے کام لینا چاہئے کیونکہ حکومت تو یہی کوشش کر رہی ہے کہ اس بوجھ میں کوئی اضافہ نہ ہو اور اگر حکومت کی کوششوں کے باوجود اس میں اضافہ ہو جاتا ہے تو یہ اضافے کا قصور ہے‘ حکومت کا نہیں جبکہ ہم صرف ایک ہی اضافے کے حق میں ہیں جس سے جی بھر کے مستفید ہو چکے ہیں اور مزید کے بھی طلب گار ہیں جبکہ اضافے کا یہ بوجھ ویسے بھی کافی راس آ چکا ہے جو جفاکشی کا ایک ادنیٰ ثبوت ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
سینے میں بہت سے راز دفن ہیں کھولنے
کا یہ مناسب وقت نہیں: عثمان بزدار
سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ''سینے میں بہت سے راز دفن ہیں‘ کھولنے کا یہ مناسب وقت نہیں‘‘ جبکہ گڑے مردے اکھاڑنا ویسے بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے جبکہ اس سے مُردوں کو بھی تکلیف ہوتی ہیں اور ان کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؛ اگرچہ میرے سینے میں دفن راز میرے اور میرے ساتھیوں ہی کے بارے میں ہیں جبکہ ان میں سب سے بڑا راز میری بطور وزیراعلیٰ تعیناتی تھی جس کی میرے سمیت کسی کو بھی آخری لمحے تک خبر نہیں ہوئی اور شاید یہ عقدہ کبھی بھی نہ کھل سکے کیونکہ اس کا علم صرف پارٹی چیئرمین کو ہی ہو سکتا ہے لیکن وہ بتائیں گے نہیں کیونکہ یہ افشا کرنے والا راز نہیں ہے۔ آپ اگلے روز عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
'کون سچا، کون جھوٹا‘ کا بیانیہ لے کر
عوام میں جائیں گے: خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ''کون سچا، کون جھوٹا کا بیانیہ لے کر عوام میں جائیں گے‘‘ اگرچہ عوام کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون، لیکن اور کوئی چیز دامن میں ہے ہی نہیں جس کے بل بوتے پر عوام میں جا سکیں جبکہ عوام بھی زعمائے حکومت کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ نہیں کیے ہوئے ہیں کیونکہ حکومت کی کارگزاریاں انہیں اچھی طرح سے یاد ہیں اور وہ فر فر سنا بھی سکتے ہیں جبکہ عوام کے حافظے کا اتنا تیز ہونا بے حد تشویشناک ہے اور اگر ان کے حافظے کے حوالے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی تو کافی احتیاط سے بھی کام لے سکتے تھے لیکن جب چڑیاں کھیت چُگ جائیں تو پچھتانے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ آپ اگلے روز پارٹی کے ضلعی رہنمائوں کے ایک وفد سے ملاقات کر رہے تھے۔
بلاول نے مودی کو بے نقاب کیا: فاروق ایچ نائیک
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین فاروق حامد نائیک نے کہا ہے کہ ''بلاول نے مودی کو بے نقاب کیا‘‘ اگرچہ مودی کے منہ پر کوئی نقاب نہیں ہے اور وہ کھلے بندوں سب کچھ کرتا پھرتا ہے اس لیے اسے بے نقاب کرنا کوئی خاص معنی نہیں رکھتا؛ البتہ امریکہ و یورپ کو مودی سرکار کا اصل چہرہ دکھانا بھی لازم تھا تاکہ بھارت کی مظلوم اقلیتوں اور مقہور و مجبور کشمیریوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے؛ تاہم کچھ دیگر چیزوں کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جو وہ اپنی مصروفیات کے باعث سرانجام نہیں دے سکے؛ اگرچہ وہ سب کو اچھی طرح سے معلوم بھی ہیں؛ البتہ اس ضمن میں طریقہ ہائے کار کافی پیچیدہ ہیں، اگرچہ وہ بھی کھلے عام ہی سرانجام پا رہے ہیں لیکن پیچیدہ اتنے ہیں کہ کسی کے پلے کچھ نہیں پڑتا اور سبھی ادارے سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں؛ تاہم ان کے انتہائی دلچسپ ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
ڈرامے کی ڈیمانڈ ہو تو تھپڑ کھانے
پر کوئی اعتراض نہیں: انوشے عباسی
اداکارہ انوشے عباسی نے کہا ہے کہ ''ڈرامے کی ڈیمانڈ ہو تو تھپڑ کھانے پر کوئی اعتراض نہیں‘‘ اس لیے اگر کوئی تھپڑ رسید کرے تو اسے پوچھ لینا چاہئے کہ اس نے تھپڑ ڈرامے کی ڈیمانڈ پر مارا ہے یا کسی اور وجہ سے، کیونکہ بغیر کسی وجہ اور جواز کے تھپڑ کھانا بڑے دل گردے کا کام ہے جبکہ ویسے بھی تھپڑ کھا کھا کر آدمی اس کا عادی ہو جاتا ہے اور پوچھنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں رہتی؛ نیز کئی افراد تفریحاً بھی تھپڑ مارنے کے عادی ہوتے ہیں اور عادت سے مجبور آدمی سے کوئی شکایت کرنا کوئی اچھی بات نہیں اور عدم برداشت کی علامت ہے اس لیے فکرمندی کی کوئی بات نہیں کیونکہ ایک آدھ تھپڑ کھانے سے آپ کا کچھ نہیں بگڑتا‘ بشرطیکہ یہ سب کچھ سکرپٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق ہو۔ آپ اگلے روز سوشل میڈیا پر سوالات کا جواب دے رہی تھیں۔
اور‘ اب ڈاکٹر نبیل احمد نبیلؔ کی غزل:
کبھی جو موجِ گرداب سے نکلتا ہے
گلِ یقیں اُسی تالاب سے نکلتا ہے
عجیب رنگ سے دامن پہ پھیل جاتے ہیں
جب اشک دیدئہ خوناب سے نکلتا ہے
وہ اپنی سمت بلاتا ہے روز ہی مجھ کو
جو سوز و ساز سا مضراب سے نکلتا ہے
کتابِ زیست کسی کام کی نہیں رہتی
وفا کا باب جہاں باب سے نکلتا ہے
جلانے لگتا ہے تعبیر کے سبھی امکاں
اک ایسا شعلہ ترے خواب سے نکلتا ہے
جلے بجھے ہوئے منظر دکھائی دیتے ہیں
دُھواں سا وادیٔ شاداب سے نکلتا ہے
مرے بدن سے مری جان کھینچ لیتا ہے
وہ تیر جو صفِ احباب سے نکلتا ہے
تری جدائی کا تازہ خیال آتے ہی
شرار سا دلِ بے تاب سے نکلتا ہے
آج کا مطلع
اٹھ اور پھر سے روانہ ہو ڈر زیادہ نہیں
بہت کٹھن سہی منزل سفر زیادہ نہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved