تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     06-09-2013

سرخیاں اُن کی‘ متن ہمارے

کراچی میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: نوازشریف وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ’’کراچی میں امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘‘ کیونکہ دیگر بہت سے معاملات پر جو سمجھوتوں کی پوری پوری گنجائش موجود ہے بلکہ بھارت کے اشتراک سے ایک سمجھوتہ بس بھی چلا رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو کرنا پڑا، کریں گے‘‘ حتیٰ کہ کسی دن ایک وقت کا کھانا بھی چھوڑا جا سکتا ہے اور اس سے بڑی قربانی کیا ہوسکتی ہے۔ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ’’لوڈشیڈنگ اور بدامنی پر سیاست نہیں کریں گے‘‘ اور دوسرے معاملات پر جو سیاست کررہے ہیں فی الحال اس کو کافی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لیاقت جتوئی کی حکومت اپنے ہاتھوں سے ختم کی تھی‘‘ اس لیے موجودہ حکومت کو بھی کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ حکومتیں ختم کرنا حکم ربی ہوتا ہے اور یہ کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہیں جیسے کہ 99ء میں ہماری حکومت ختم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسئلے کا پائیدار حل تلاش کیا جائے‘‘ چاہے تلاش گمشدہ کے تحت اخبارات میں اشتہار ہی کیوں نہ دینا پڑیں۔ آپ اگلے روز گورنر ہائوس کراچی میں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ جے یو آئی کراچی میں فوجی آپریشن کے خلاف ہے: فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جے یو آئی (ف) کراچی میں فوجی آپریشن کے خلاف ہے کیونکہ جب تک ہمارے حق میں کوئی ایسا آپریشن نہ کیا جائے جو نظر بھی آئے، اس وقت تک ہم ہر قسم کے آپریشن کے خلاف رہیں گے جبکہ حکومت کی رفتار سے یہی لگتا ہے کہ اسی امید اور انتظار میں یہ پانچ سالہ میعاد بھی ختم ہوجائے گی اور ہم عوامی خدمت سے یکسر محروم رہیں گے لہٰذا حکومت کو خوف خدا کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی طور پر کسی نتیجے پر پہنچ جانا چاہیے۔ پیشتر اس کے کہ اس کے بڑے نتائج برآمد ہونا شروع ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’19ہزار کنٹینرز کے غائب ہونے اور نوگو ایریاز کا تدارک کرنا ہوگا‘‘۔ اور اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہمارے لیے 19کنٹینرز بھی نہیں چھوڑے گئے، آخر ہم یہاں نسوار بیچنے کے لیے تو نہیں بیٹھے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ضرورت پڑے تو سیاست میں ملوث پولیس کو کسی دوسرے صوبے میں ٹرانسفر کر دیا جائے‘‘ تاکہ اسے وہاں سیاست میں ملوث کیا جاسکے اور یوں اس کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ 100دنوں میں کرپشن کی کوئی کہانی سامنے نہیں آئی: رانا ثنائاللہ صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ’’100دن میں ہماری کرپشن کی کوئی کہانی سامنے نہیں آئی‘‘ البتہ واقعات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا جبکہ کہانیوں کے لیے کسی تجربہ کار افسانہ نگار کی ضرورت ہوتی ہے اور کہانی ہوتی بھی بچوں کے لیے ہے جبکہ نانی اماں نے یہ کام برسوں سے چھوڑ رکھا ہے اور ویسے بھی کرپشن کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی ٹھوس واقعے پر مشتمل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حلقہ بندیوں پر کوئی عدالتی حکم نہ آیا تو دسمبر میں بلدیاتی الیکشن کرا دیں گے‘‘۔ تاہم اس سلسلے میں بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نظام کے تحت ڈپٹی کمشنر منتخب نمائندے کو کسی وقت بھی کان سے پکڑ کر فارغ کرسکتا ہے۔ البتہ یہ اس نمائندے کا آپشن ہوگا کہ اسے کون سے کان سے پکڑ کر بھیجا جائے جبکہ اسی وجہ سے ہی معزز ارکان اسمبلی بلدیاتی الیکشن کرانے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اگرچہ طوعاً و کرہاً ہی ہوئے ہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک قومی روزنامہ کو انٹرویو دے رہے تھے۔ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز ختم کیے جائیں: عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’’کراچی میں سیاسی پارٹیوں کے مسلح ونگز ختم کیے جائیں‘‘ بلکہ ان کے غیر مسلح ونگز بھی ختم کیے جائیں کیونکہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں کوئی پرندے نہیں ہیں جبکہ غیر مسلح ونگز کسی وقت بھی مسلح ونگز کی صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ اس لیے فساد کو اس کی جڑ سے ہی ختم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عدالتی حکم پر عملدرآمد کرایا جائے‘‘ کیونکہ جب سے عدالت نے مجھے توہین عدالت کیس میں بری کیا ہے میں مکمل طور پر اس کا طرفدار ہوگیا ہوں، اگرچہ میرے وکیل نے مجھے اندر کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سابقہ حکومتوں میں مسئلہ حل کرانے کی اہلیت تھی نہ نیت‘‘ جبکہ موجودہ حکومت میں یہ دونوں چیزیں موجود تو ہیں لیکن ذرا مشکوک واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی خونریزی کے باعث کراچی کے مسئلہ پر فوری توجہ کی ضرورت ہے‘‘ اور چونکہ توجہ دینے والوں میں مجھے شامل نہیں کیا گیا اس لیے اس توجہ کا انجام سب کو صاف نظر آرہا ہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک بیان جاری کررہے تھے۔ آپریشن صرف کراچی نہیں، پورے ملک میں ہونا چاہیے: رحمن ملک سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ ’’آپریشن صرف کراچی نہیں پورے ملک میں کیا جانا چاہیے‘‘ کیونکہ خاکسار نے خطرناک اسلحہ کے لائسنس صرف کراچی نہیں، پورے ملک میں بانٹے تھے جن میں انتہائی جدید اسلحہ بھی شامل ہے اور ظاہر ہے کہ اسلحہ جتنا زیادہ جدید ہو اس کی فیس بھی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ جاری کرنا ہی باعث برکت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کراچی میں دہشت گردی میں لشکر جھنگوی ملوث ہے‘‘ اور بہلا پھسلا کر ان لوگوں نے بھی مجھ سے اسلحہ لائسنس حاصل کرلیے تھے کیونکہ اس وقت مجھے کچھ اتنا زیادہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک کو اس وقت مختلف مسائل کا سامنا ہے‘‘ جن میں سے ایک یہ خاکسار بھی تھا اور جو اب رفع ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک اس وقت الزام تراشی کا متحمل نہیں ہوسکتا‘‘ اس لیے مجھ پر بھی الزام تراشیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ آپ اگلے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ آج کا مطلع عکس میں افتادگی تھی، نقش میں ناسور تھا کہُر خواب آہنگ منظر موت کا مستور تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved