تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     30-12-2022

ریشماں جوان ہو گئی

مبارک ہو پاکستانیو! صرف آٹھ ماہ اور21دن کے عرصہ میں 9 اپریل کو پیدا ہونے والی ریشماں جوان ہو گئی۔ ماسوائے خاندانِ غلام ابنِ غلاماں کے جز وقتی یا کل وقتی ملازموں کے‘ باقی سارے 22 کروڑ اِس جوانی کی تپش کو محسوس کر رہے ہیں۔ وطنِ عزیز کی عمر کے 75سال میں سے عمران خان کے ساڑھے تین سال میں ساری خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ باقی ساڑھے اکہتر سال ہر گھر کے باہر شانزے لیزے جیسی سٹریٹ دوڑا کرتی تھی۔
ملک سکینڈے نیویا سے بھی اچھا۔ مملکتِ خداداد فلاحی اسلامی ریاست تھی۔ نہ کوئی ٹیکس تھا نہ کوئی ٹیکس چوری۔ دودھ‘ دوائیں اور روٹی مفت بانٹی جاتی۔ کپڑے سِلے سلائے‘ بجلی اور گیس لنڈے کے بھائو۔ دُور دیش کے لوگ لاہور کے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے آتے تھے۔ ہر ایئر پورٹ پر ہر دوسرے‘ تیسرے منٹ ایک انٹرنیشنل فلائٹ لینڈ کرتی تھی یا ٹیک آف۔ 22 کروڑ لوگوں کی جیبوں میں ڈالر‘ ماتھے پہ سونے کا جھومر‘ کلائی میں سونے کے کنگن‘ پائوں میں جادو کی کھڑاویں‘ بدن پر ریشم کا پیرہن اور خواب گاہ میں بسترِ اطلس و کم خواب بچھے ہوئے تھے۔
پاکستان کے طول و عرض میں نواب شاہ کے شہد بہتی تھیں۔ ہر طرف ماڈل ٹائون کے دودھ کی ندیاں نظر آتی تھیں۔ انصاف ایسا کہ جس سے انصاف کی دیویاں بھی شرما جائیں۔ کوئی بھی بادشاہ نہ تھا‘ سب رعایا تھے۔ صدر اور وزیراعظم سر کے نیچے ہاتھ رکھے‘ اکثر سڑک کے کنارے درختوں کے نیچے لیٹے ہوئے پائے جاتے تھے۔ ہر طرف زنجیرِ عدل لٹکی ہوئی تھی‘ جسے کھینچ کر مظلوم فوراً ظالم کے گریباں تک پہنچ جاتا تھا۔ ہماری ڈرائی پورٹس اور شپنگ پورٹس کئی کئی سال کے لیے بک تھیں۔
امن و امان ایسا کہ زیور سے لدّی ہوئی دوشیزہ رائے ونڈ سے رانی کورٹ تک دن رات پیدل آ جا سکتی تھی۔ گھوڑے سبزیاں کھاتے تھے اور گدھے سیب۔ پبلک سرونٹس سوالی بن کر دکھی انسانیت کوڈھونڈتے پھرتے تھے کہ ہے کوئی ایسا پاکستانی جسے کوئی مسئلہ درپیش ہو‘ خدمت اتنی عروج پر کہ خادمِ اعلیٰ سے لے کر خادمِ ادنیٰ تک‘ سب لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرتے تھے۔ بھٹکے ہوئے راہی کو گھر تک چھوڑ کر آتے۔ والدین کے خون پسینے کی کمائی سے دیسی گھی کی چوری غریبوں کو کھلاتے ہوئے نظر آتے تھے۔ خادمِ اعلیٰ سائیکل پر اور اُس کے نیچے گریڈز (Groups) تین پہیوں والی موٹر سائیکل پر گروپ کی صورت میں لوڈ ہو کر سفر کرتے تھے۔ نہروں اور دریائوں میں پانی چھلیں مار مار کر کنارے توڑ رہا تھا ۔
کہیں خشک سالی نہ تھی بلکہ خوش حالی اور ہر یالی کے نہ ختم ہونے والے نظارے‘ کچی پکی‘ پہلی جماعت سے شروع کرکے ماسٹر ز‘ ایم فِل اور پی ایچ ڈی تک تعلیم مفت تھی۔ ادھر ڈگری ملی اُدھر ایمپلائرز ہاتھ باندھ کر ڈگری ہولڈرز کو دفتر لے جاتے اور دفتری گاڑی میں Appointmentلیٹر سمیت گھر پہنچا کر آتے۔ مذہبی سیاست کے ذریعے غیر مذہبی نظامِ حکومت میں آنے والے درویش کھڑاویں پہنے‘ ہاتھ میں حلوے کے تھال لیے‘ زکوٰۃ لے لو‘ صدقات لے لو‘ خیرات لے لو‘ عُشر لے لو‘ امداد لے لو اور خُمس لے لو کی صدائیں لگاتے پھرتے تھے۔ نہ کوئی بدحال تھا‘ نہ کہیں دستِ سوال۔ ہر طرف حضرالموت والے عبداللہ ابنِ سَبا والی جنت سے بھی زیادہ سہولتیں‘ حوریں اور مفت میووں کے باغات تھے۔
پھر ایک دن بستی کے چند سر پھرے اکٹھے ہوئے‘ امن و امان کی باریاں لگا کر قوم کی خدمت کرنے والوں کو چیلنج کیا۔ یہ نوجوان اور بچے گلی کوچوں میں نکل آئے۔ انہیں سرکاری خرچ پر ملنے والا من و سلویٰ پسند نہ آیا۔ جسے خریدنے کے لیے بڑی محنت کے ساتھ ساڑھے 71سال کے حکمران آئی ایم ایف‘ ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘ ورلڈ بینک اور عرب و عجم کے امدادی و خیراتی بینکوں سے مفت امداد کما کر لاتے تھے جس میں سے تھوڑے سے Rainy Dayکے لیے بچا کر مے فیئرز یو کے‘ عزیزیہ سعودی عرب‘ Business Bay یو اے ای اور نیو یارک جیسے غریب ملکوں میں صرف سماج سیوک کی حیثیت سے جمع کرا نے جاتے تھے تاکہ پاکستان کے ساتھ ساتھ اُن غریب ملکوں میں بھی بے آسرا لوگوں کے سر پر ہاتھ رکھ سکیں۔
ان بپھری ہوئی ناآسودہ روحوں کے نعرے اور ترانے باغیانہ تھے۔ یہ اجنبی آوازیں تھیں۔ ہاں البتہ انسانی مخلوق کی آوازیں تھیں جن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے کہ وطن عزیز میں شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے سب کھا اور پی رہے ہیں۔ لہٰذا یہاں اس طرح کی روحوں کی گنجائش کہاں ہے؟ ایک ترانہ ایسا تھاجو پتا نہیں اُن روحوں تک کس نے پہنچا دیا؟
جس دیس میں مائوں بہنوں کو اغیار اُٹھا کر لے جائیں
جس دیس میں قاتل غنڈوں کو اشرار چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کے چپے چپے پر پولیس کے ناکے لگتے ہوں
جس دیس کے مندر مسجد میں ہر روز دھماکے ہوتے ہوں
جس دیس میں جان کے رکھوالے خود جانیں لیں معصوموں کی
جس دیس کے عادل بہرے ہوں آہیں نہ سنیں مظلوموں کی
جس دیس کی گلیوں کوچوں میں ہر سمت فحاشی پھیلی ہو
جس دیس میں بنتِ ہوا کی چادر بھی داغ سے میلی ہو
جس دیس میں آٹے چینی کا بحران فلک تک جا پہنچے
جس دیس میں بجلی پانی کا بحران فلک تک جا پہنچے
جس دیس میں ہر چوراہے پر دو چار بھکاری پھرتے ہوں
جس دیس میں روز جہازوں سے امدادی تھیلے گرتے ہوں
جس دیس کے عہدے داروں سے عہدے نہ سنبھالے جاتے ہوں
جس دیس کے سادہ لوح انساں باتوں سے ٹالے جاتے ہوں
اُس دیس کے رہنے والوں پر آواز اُٹھانا واجب ہے
اُس دیس کے ہر اِک ڈاکوکو سولی پہ چڑھانا واجب ہے
شاعر کا نہ تو احتساب ہو سکتا ہے نہ کوئی شاعر کو گرفتار کر سکتا ہے۔ نہ ہی اسے FIAکا ڈر ہے۔ اس کے لباس تک بھی کوئی دست درازی نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ اس طرح کے شعر لکھنے والے راج دربار سے دُور چاک دامان پھرتے ہیں۔
پچھلے سال ان دنوں 9 اپریل والی ریشماں کئی طرف سے مہنگائی مارچ کر رہی تھی۔ ریشماں اتنی تجربہ کار نکلی کہ وہ صنعتیں‘ ادارے اور کاروبار‘ جو کورونا کی وبا کے دوران بھی کئی سال کھلے رہے‘ ریشماں نے اُنہیں بند کرکے دِکھا دیا۔
شہرِ اقتدار کی سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ ریشماں مائنس آل ہونے والی ہے‘ اسی لیے پارلیمنٹ کے استعفوں کو منظور کرنے کے بجائے ریشماں اسے ٹام اینڈ جیری کا کھیل سمجھ بیٹھی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved