تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     16-01-2023

ٹیڑھی اینٹیں اور جونکیں

پنجاب اسمبلی ٹوٹ چکی ہے‘ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور سیاست دان کس طرح کے پینترے بدلتے ہیں‘ جمہوریت کا حسن مزید کیسے کیسے جلوے بکھیرتا ہے‘خدا خیر کرے میرے آشیانے کی۔مسلم لیگ (ن) پنجاب میں نوے دن کے اندر الیکشن کے لیے تیار جبکہ پی ٹی آئی پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات کروانے پر بضد ہے‘ مگر الیکشن 90روز میں ہوں یا 190روز میں نتیجہ اور حالات تو وہی رہیں گے۔ جیتنے والے اپنی جیت کو عوام اور جمہوریت کی فتح قرار دیں گے اور ہارنے والے دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹتے سڑکوں پر سراپا احتجاج اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کرتے نظر آئیں گے۔ یہی منظر نامہ وطنِ عزیز کا مستقبل منظر بنتا چلا جا رہا ہے۔
2013ء کے انتخابات کے نتائج عمران خان نے تسلیم کرنے سے انکار کرکے چند مخصوص حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کر ڈالا اور مطالبات تسلیم نہ کرتے ہوئے ایک سال بعد ملکی تاریخ کا طویل ترین دھرنا دے کر احتجاج اور مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کر ڈالی۔ اس طرح 2018ء کے الیکشن کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتیں (بالخصوص مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی) عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم قرار دیتے ہوئے انتخابات کو غیر شفاف قرار دے کر قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کرتی رہیں‘ جسے وزیراعظم عمران خان بلا جواز قرار دے کر نہ صرف مسترد کرتے رہے بلکہ اپوزیشن کے اس مطالبے کو غیر جمہوری رویہ ثابت کرنے کے لیے بہت سے جواز اور منطقیں بھی پیش کرتے رہے۔
عدمِ اعتماد آنے کے بعد عمران خان نے اسمبلی توڑ کر پی ڈی ایم کے وار ناکام بنانے کی کوشش کی تو عدالت نے ان کے اس اقدام کو کالعدم قرار دے کر قومی اسمبلی بحال کر دی۔ پی ڈی ایم کے برسرِاقتدار آنے کے بعد عمران خان نے اسے غیر ملکی سازش قرار دے کر فوری الیکشن کا مطالبہ کر ڈالا۔ اس مطالبے کو مزید تقویت دینے کے لیے انہوں نے پنجاب اسمبلی تحلیل کر کے ترپ کا وہ پتا کھیلا ہے جو ملک بھر میں قبل از وقت عام انتخابات کروانے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ 10سال کا منظرنامہ یہ ہے تو اگلے 10سال کیونکر مختلف ہو سکتے ہیں ؟ اس تناظر میں ایک اور سوال تقویت اختیار کر جاتا ہے کہ مملکتِ خداداد کو درپیش حالات اور مسائل کا حل کیا صرف انتخابات میں پوشیدہ ہے ؟ کیا ضمانت ہے کہ انتخابات کے بعد جمہوری قدریں بحال اور حالات کی پریشانی ختم ہو جائے گی ؟ اس سوال کا جواب تو شاید اب ہنرمندانِ سیاست کے پاس بھی نہ ہو۔
الیکشن کرواکے ماضی کے حالات کا الیکشن رِی پلے مزید بدصورتیوں کے ساتھ چلانے کے بجائے کچھ توجہ اس طرف بھی کر لینی چاہیے کہ یہ سبھی کچھ ملک و قوم کیا مزید برداشت کر پائیں گے؟ من مانی کی طرزِ حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کی خریدوفروخت سے لے کر گورننس اور میرٹ کی درگت کب تک بنتی رہے گی ؟ قانون اور ضابطے ہوں یا پالیسیاں اور اقدامات سبھی کچھ کب تک سماج سیوک نیتاؤں کے دھندوں اور ایجنڈوں کے تابع رہے گا؟ سرکاری وسائل کب تک مصلحتوں اور مجبوریوں کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے ؟ بندہ پروری یا کنبہ پروری کا بوجھ ملکی خزانے پر کب تک رہے گا ؟ راج نیتی کب تک ذریعۂ معاش بنی رہے گی ؟ سیاست کو تجارت بنانے والے کب تک ضرورتوں کی دلالی کرتے رہیں گے ؟ کیا اسمبلیوں اور دیگر معتبر اداروں کا وقار الیکشن کے بعد بحال ہو سکے گا ؟ ہارنے والے اپنی شکست تسلیم کر پائیں گے ؟ جینے والے حق ِحکمرانی ادا کر سکیں گے ؟ ان سبھی سوالات پر سبھی ہنرمند خاموش اور لاجواب نظر آتے ہیں۔
خدارا! اس نہ ختم ہونے والی مشقِ ستم کا کہیں تو انت ہونا چاہیے کہ جب تک اس مشقِ ستم کا انت نہیں ہوگا اس وقت تک ملک و قوم اُس طرح آباد نہیں ہوسکتے جس کا خواب مصورِ پاکستان علامہ اقبالؒ اور بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ نے دیکھا تھا۔ علامہ اور قائد کی روحیں خلدِ بریں میں بے چین ہوں گی کہ مملکتِ خداداد کیسے کیسوں کے ہتھے چڑھ چکی ہے۔ جمہوری چیمپئن برسراقتدار آتے ہیں تو ان پر آمریت سوار ہو جاتی ہے اور اگر آمر برسرِ اقتدار آجائیں تو انہیں جمہوریت کا بخار چڑھ جاتا ہے۔ سبھی کنفیوژ اور ضرورت مند ہی ثابت ہوئے ہیں جو اپنی اپنی ضرورتوں اور مجبوریوں کے غلام بنے ملک و قوم کے مفادات سے بے نیاز نوبت یہاں تک لے آئے ہیں کہ ہر خاص و عام کے منہ پر ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم دیوالیہ ہونے جا رہے ہیں؟ کیا ان سبھی نے مل کر ملک کوUngovernable نہیں بنا ڈالا ؟ جس ریاست میں گورننس شرمسار اور میرٹ تار تار ہو وہاں طرزِ حکمرانی زیادہ سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے ؟جہاں شکم پروری‘ کنبہ پروری اور بندہ پروری ہی طرزِ حکمرانی ہو تو وہاں من مانی کا دور دورہ ہوتا ہے۔ اس من مانی کی طرزِ حکمرانی نے سسٹم کی چولیں اس طرح ہلا ڈالی ہیں کہ ذرا سے دھچکے یا دھمک سے ہی ایسا لرزہ طاری ہوجاتا ہے کہ عوام مزید مایوسیوں کے گڑھے میں جاگرتے ہیں۔ روز بروز بڑھتے خدشات اور تحفظات نے ایسے وسوسوں اور اندیشوں سے دوچار کر ڈالا ہے کہ ہر سو غیر یقینی کے ڈیرے دکھائی دیتے ہیں۔ پرویز مشرف کے برسرِ اقتدار آنے کے اقدام کو عدالت نے جس طرح مخصوص مدت کے لیے مُہرِ توثیق ثبت کر کے انہیں کلیئرنس دی تھی‘ آج ان بنیادوں پر درد مندانِ وطن پر مشتمل ایک ٹیم کی اشد ضرورت ہے جو غیر متنازع نیشنل ایجنڈے کی تکمیل تک ملک کا انتظام چلانے کی اہلیت رکھتی ہو۔ اُن ٹیڑھی اینٹوں کو بھی نکالنے کی ضرورت ہے جو نظریۂ ضرورت اور مصلحتوں کے تحت وطنِ عزیز کے سسٹم کی بنیادوں میں فٹ کر دی گئی تھیں۔ ان جونکوں سے بھی آزادی ناگزیر ہے جو ملک و قوم کا خون چوس چوس کر سانڈبن چکی ہیں۔ وہ ٹیم سیاسی اشرافیہ ہو یا انتظامی سبھی کو بے رحم اور بلا امتیاز احتساب کی چکی میں برابر پیسنے کی جرأت بھی رکھتی ہو۔ اس تعمیر ِنو پر سیاست کرنے والے ہوں یا مزاحمت کرنے والے سبھی کو سچی مچی کے آہنی ہاتھ سے نپٹا جائے تاکہ دوبارہ کسی کو اس کارِ خیر کو سبوتاژ کرنے کی جرأت نہ ہو۔
انتخابات کروانے کا شوق ضرور پورا کریں لیکن اس بار انتخابات سے پہلے خدارا وہ بنیادی نقائص اور خرابیاں ضرور دور کر لیں جو انتخابات کے بعد بگاڑ اور مزید بدصورتی کا باعث بنتی چلی آئی ہیں۔ کوئے اقتدار میں جگاڑ لگا کر داخل ہونے والے ہوں یا مال لگا کر ان سبھی گھس بیٹھیوں کی اخلاقی‘ فکری و سیاسی بلوغت تک انہیں راج نیتی سے دور رکھنا ہی ملک و قوم سے بڑی نیکی ہوگی۔ یہ نیکی کمانا ہی اصل قومی خدمت اور دھرتی سے محبت کا استعارہ ہو سکتی ہے۔ مسندِ انصاف پر براجمان منصفوں اور ہنرمندانِ ریاست و سیاست کی خاص توجہ کے طلبگار عوام اب مزید بھٹکنے اور ہر دور میں مرگِ نو کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ الیکشن سیاسی اشرافیہ کے مسائل اور ضرورتوں کا حل تو ہو سکتا ہے لیکن عوام کے مصائب اور مسائل کا حل کسی الیکشن میں نہیں نکلا تو آئندہ کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔ تاہم کنویں سے ہر بار چند بوکے نکالنے کے بجائے انہیں نکالا جائے جو کنویں کو آلودہ کیے ہوئے ہیں‘تب کہیں جاکر کنواں پاک ہو گا۔ کنواں پاک کرنے کے بعد الیکشن کرائیں یا ریفرنڈم‘سیاسی اشرافیہ کے بجائے ملک و قوم کو ترجیح بنا کر تو دیکھیں یہ نیکی رائیگاں نہیں جائے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved