تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     30-01-2023

جسٹس وجیہ الدین احمد اور ذوالفقار احمد چیمہ کے نام

اپیل تو پاکستان کے مشہور اور غیر مشہور امرا سے کرنا تھی جیسے زرداری صاحب‘ شریف برادران‘ گجرات کے چودھری صاحبان‘ جہانگیر ترین‘ علیم خان‘ اسحاق ڈار‘ میاں منشا‘ ہمایوں اختر خان‘ ان کے بھائی‘ اور سینکڑوں دوسرے کھرب پتی! کے پی کی نگران کابینہ کے حوالے سے خبر ہے کہ ارب پتی منظور آفریدی کے مختلف کاروبار ہیں جبکہ ان کی کئی قیمتی پراپرٹیز بھی ہیں‘ ضلع خیبر سے ہی تاج محمد آفریدی کو بھی نگران وزیر بنایا گیا ہے‘ تاج محمد آفریدی بھی ارب پتی ہیں۔اس کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے حاجی غفران سابق گورنر خیبرپختو نخوا سردار مہتاب احمد خان کے سمدھی اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ کے قریبی ساتھی ہیں‘ وہ پیشے کے لحاظ سے صنعتکار ہیں اور ان کے بھی اربوں روپے کے اثاثے ہیں۔ بلاول اور مونس الٰہی‘ دونوں‘ اسمبلی کے ریکارڈ کی رُو سے ارب پتی ہیں۔ حنا ربانی کھر بھارت کا دورہ کرتی ہیں تو ان کے انتہائی قیمتی ہینڈ بیگ اور دھوپ کے چشمے کی دھوم مچ جاتی ہے۔مریم نواز کے صاحبزادے کی شادی خانہ آبادی کے اخراجات ہم آپ جیسے عامیوں کے تصور سے بھی ماورا ہیں۔ عام پاکستانی کراچی سے حیدر آباد‘ یا پنڈی سے لاہور جانے سے پہلے سو بار سوچتا ہے اور کرائے کا یا پٹرول کا حساب کرتا ہے جبکہ تازہ خبر یہ ہے کہ بلاول‘ اپنی بہن آصفہ کے ساتھ دبئی روانہ ہو گئے ہیں۔ شریف برادران کے خاندان کا زیادہ حصہ لندن کا مستقل باسی ہے۔ پاکستان آتے ہیں تو قصر نماز ادا کرتے ہوں گے اور لندن میں پوری نماز پڑھتے ہوں گے! مونس الٰہی پچھلے دنوں کتنی ہی بار یورپ گئے! یہ تو وہ امرا ہیں جن کے ہمیں نام معلوم ہیں اور جو خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ مگر کھرب پتیوں کی کمی نہیں۔ سینکڑوں امیر صنعتکار‘ جاگیردار‘تاجر‘اور مختلف صنعتوں کے ٹائیکون ہیں جن کی دولت کا خود انہیں بھی اندازہ نہیں۔لندن کے مہنگے علاقوں میں عربوں کے اتنے محلات نہیں‘ جتنے پاکستانیوں کے ہیں!
درخواست تو ان امرا سے کرنا تھی۔وہ یہ کہ خدا کے لیے اپنی تجوریوں کے منہ پورے نہیں تو ذرا ذرا ہی کھول دو۔ وطن پر مشکل وقت آن پڑا ہے۔ دھرتی ماں پکار رہی ہے۔ دودھ کا واسطہ دے رہی ہے۔ اے ارب پتیو! اے کھرب پتیو! اے ان گنت ڈالروں اور بے شمار روپوں کے مالکو! جس رقم کے لیے ملک آئی ایم ایف کے سامنے ناک سے لکیریں کھینچ رہا ہے اور امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیک کر گڑ گڑا رہا ہے‘ وہ رقم تمہارے بائیں ہاتھ کا میل ہے۔ کچھ خیال کرو! یہ سب تم نے‘ جیسے بھی کمایا ہے‘ جس طرح بھی بنایا ہے‘ اسی ملک سے کمایا اور بنایا ہے‘ اس سے پہلے کہ یہ ملک دیوالیہ ہو جائے‘ اپنا فرض ادا کرو! اکٹھے بیٹھ جاؤ ! اپنا اپنا حصہ ڈالو! ایک مشترکہ فنڈ تشکیل کرو! آئی ایم ایف سے جو رقم ہم مانگ رہے ہیں‘ اور جو مستقبل قریب میں مانگنی ہو گی وہ جمع کر کے قومی خزانے کو پیش کرو! جو ڈالر سینت سینت کر‘ ذخیرہ کر چکے ہو‘ انہیں بازار میں لاؤ تا کہ پاکستانی روپیہ سانس بحال کر سکے !
یہ اپیل امرا سے کرنی تھی مگر مشاہدہ‘ تجربہ اور عقل سمجھاتے ہیں کہ ان تلوں میں تیل نہیں ! یہ ایک روپیہ تو دور کی بات ہے‘ ایک پیسہ بھی نہیں دیں گے۔ یہ تو چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے کے اصول پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ تو '' ھل من مزید‘‘ کے لیے خود جھولیاں پھیلائے بیٹھے ہیں۔یہ تو اَلھاکُم التکاثر والے ہیں۔ یہ تو وہ ہیں جنہوں نے ''قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ کا ڈھکوسلا کھڑا کیا جس کا آج تک کوئی حساب کتاب نہیں دیا گیا۔ یہ تو وہ ہیں جنہوں نے میزان ماتھے پر سجا کر‘ ڈیم فنڈ اکٹھا کیا جسے آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ! انہوں نے کچھ کرنا ہوتا تو ملک سے باہر نو آبادیاں بنا کر نہ بیٹھے ہوتے اور ملک کے اندر آسمان بوس فصیلوں والے محلات میں نہ رہتے۔ ملک کو آئی ایم ایف کے جبڑوں سے نکالنے کا کام اب صرف عام لوگ کریں گے۔ ہم آپ کریں گے۔ ڈالر کا مقابلہ بھی ہم کریں گے اور اپنے روپے کی پشتیبانی بھی ہم کریں گے۔ بقول مفتی صدر الدین آزردہ ؎
کامل اس فرقۂ زہّاد میں اٹھا نہ کوئی
کچھ ہوئے تو یہی رندانِ قدح خوار ہوئے
اب اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ عوام خود یہ کام کریں اور ملک کو بچائیں۔ یہ قلمکار جسٹس وجیہ الدین احمد اور نیک نام سابق پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ کی خدمت میں درخواست کرتا ہے کہ اٹھیں اور دونوں باہم مل کر اس مہم کا بیڑہ اٹھائیں۔ یہ فقیر اپنی طرف سے اس فنڈ کا آغاز کرتے ہوئے پچاس ہزار روپے کا حقیر حصہ ڈالتا ہے۔ نہیں معلوم یہ تحریر دونوں معزز صاحبان تک براہ راست پہنچتی ہے یا نہیں! جو کوئی بھی یہ تحریر پڑھے اور اگر جسٹس وجیہ الدین صاحب کو جانتا ہے یا ان تک رسائی رکھتا ہے‘ تو ازراہ کرم ان تک یہ درخواست پہنچا دے۔ ذوالفقار چیمہ صاحب تک اس فقیر کی رسائی ہے۔ ان کی خدمت میں یہ درخواست پہنچا رہا ہوں۔
اے اہلِ وطن! جتنی تمہاری بساط ہے‘ اس سے بڑھ کر دو۔ لاکھ دے سکتے ہویا بیس لاکھ‘ ہزار دے سکتے ہو یا دس ہزار‘ سو دے سکتے ہو یا پچاس‘ دو ضرور! اگر عزم صمیم ہو‘ اگر نیت صاف ہو‘ اگر کامیابی کا یقین ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مہم کامیاب نہ ہو۔
اس کام میں کسی سینئر‘ جونیئر کا مسئلہ ہے نہ کسی پروٹوکول کا سوال! کوئی درجے میں بڑا ہے نہ چھوٹا۔ کوئی افسر ہے نہ ماتحت ! اس تحریک کے لیے مجھے اگر چپڑاسی کی ڈیوٹی بھی دی جائے تو باعثِ فخر ہو گا! ہم اہلِ سیاست سے پناہ مانگتے ہیں ! سب آزمائے جا چکے۔ جن پر بہت تکیہ تھا انہوں نے بھی ہوا کے سوا کچھ نہیں دیا۔ جن کی دیانت و امانت کا بہت چرچا تھا وہ بھی برہنہ ہو چکے۔ اس حمام میں سب ننگے نکلے۔ سب اہلِ غرض ثابت ہوئے۔ کسی نے کابینہ پچپن افراد کی بنائی تو کسی نے پچھتر کی! وطن کی ناؤ کو اب بھنور سے وہی نکال سکتے ہیں جنہیں جاہ کی طلب ہے نہ جلال کی! یہ کام فقیروں کا ہے‘ امیروں اور وزیروں کا نہیں !! کب تک یہ ملک‘ در در بھیک مانگتا رہے گا؟ کب تک ارب پتی سیاستدان عوام کے نام پر دنیا بھر سے مال اکٹھا کرتے رہیں گے؟ کب تک ہر بار ایک ہی سوراخ سے ڈسے جاتے رہو گے؟ اٹھو!اپنے پیسوں سے اپنا قرض خود اتارو! کسی میاں‘ کسی چو دھری‘ کسی سائیں‘کسی مولانا پر اعتبار نہ کرو!جہاز ہچکولے کھا رہا ہے۔ لہریں ہر طرف آسمان تک اُٹھ رہی ہیں ! اس سے پہلے کہ پیندے میں سوراخ ہو جائے‘ اس سے پہلے کہ پانی عرشے تک پہنچ جائے‘ اس سے پہلے کہ جہاز کے حصے ٹوٹ کر بکھرنے لگیں‘ اٹھ کھڑے ہو ! ہم نے اور تم نے یہیں رہنا ہے۔ ہمارا گھر لندن ہے نہ دبئی نہ نیو یارک ! یہ لوگ تو جہازوں میں بیٹھیں گے اور بھاگ جائیں گے !
پس نوشت: چیئرمین کرنسی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن ملک بوستان نے کہا ہے کہ افغان ٹرانزٹ ہمارا بہت بڑا ناسور ہے‘افغان ٹرانزٹ ہماری معیشت اورزرمبادلہ کو ختم کررہا ہے‘ امپورٹر مافیا نے افغانستان کا راستہ چُنا ہے کیونکہ وہ ڈیوٹی فری ہے‘ افغان ٹرانزٹ سے وہاں دوارب ڈالرز ماہانہ جارہے ہیں۔کیا وزیر اعظم نے اس ہولناک صورتحال کا نوٹس لیا ہے ؟ کیا وزیر خزانہ اور وزیر تجارت بیدار ہوئے ہیں ؟ افغانستان کے لیے کب تک اپنے ہی ملک کے حلقوم پر چھری چلائی جاتی رہے گی؟؟ یہ نااہلی ہے یا بے حسی یا ملک سے بیوفائی؟؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved