تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     10-02-2023

زلزلوں سے بچنے کا حل

سائنسی نظریے کے مطابق ہماری زمین قریب چار ارب سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ سورج سے ایک ٹکڑا الگ ہوا‘ پھر خلا سے برفیلے چٹانی ٹکڑے زمین سے ٹکرائے اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو گئی۔ قارئین کرام! اس ٹھنڈی سطح سے جوں جوں نیچے جائیں‘ حرارت بڑھتی چلی جاتی ہے حتیٰ کہ جب 130 کلو میٹر کے فاصلے پر سائنسی آلات نے جائزہ لیا تو پتا چلا کہ وہاں درجہ حرارت 2600ڈگری فارن ہائیٹ ہے۔ سیلسیئس (Celsius) کے پیمانے کے مطابق 1400ڈگری ہے۔ زمین کے گولے کے درمیان میں حرارت کا یہ حال ہے کہ وہاں گویا بیک وقت کئی ایٹم بم پھٹ رہے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آٹھ ارب انسان ایک ایسے ایٹمی گولے پر زندگی گزار رہے ہیں جس پر انسانوں کے دو سو سے زائد ممالک ہیں۔ ان سب ممالک کے انسانوں کی زندگی ایک بہت بڑے ایٹم بم کی ٹھنڈی سطح پر گزر رہی ہے۔ اس ٹھنڈی سطح پر سمندر بھی موجود ہیں۔ زمین کے خشک ٹکڑے بھی موجود ہیں۔ برفانی میدان بھی ہیں۔ ریگستان بھی ہیں۔ سبز و شاداب اور خشک پہاڑ بھی ہیں۔ زمین کے گولے‘ جسے منطقہ یا کور(Core)کہا جاتا ہے‘ کے درمیان جو ایٹمی حدّت ہے‘ اس کی لہریں (Waves) زمین کی ٹھنڈی سطح سے باہر نکلتی ہیں اور زمین کے اندر ایسی کشش پیدا کر دیتی ہیں کہ جو ٹھنڈی سطح پر موجود ہر شئے کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھتی ہیں۔ اسے مقناطیسی قوت بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک نظام ہے جو اربوں سالوں سے مسلسل چل رہا ہے۔ انسان آ رہے ہیں اور جا رہے ہیں۔ جب آتے ہیں تو کسی گھر‘ عمارت وغیرہ میں پیدا ہوتے ہیں جب جاتے ہیں تو زمین کی ٹھنڈی سطح پر تین‘ چار فٹ نیچے چلے جاتے ہیں۔ پھر کچھ عرصے کے بعد زمین کی سطح یعنی مٹی میں مل کر مٹی بن جاتے ہیں۔
چھ فروری 2023ء کو ''جرنل نیچر جیو سائنس‘‘ نے ایک تازہ سائنسی ریسرچ شائع کی ہے۔ اس ریسرچ کے پیچھے ٹیکساس یونیورسٹی کی محنت ہے۔ اس مشقت و محنت میں دیگر درجنوں یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔ ریسرچ کا خلاصہ یہ ہے کہ زلزلے کے بارے میں پہلے جس قدر بھی نظریات تھے‘ ان میں سقم تھا۔ جدید سائنسی نظریہ کچھ اس طرح سمجھ آیا ہے کہ ''مولٹن لیئر‘‘ یعنی سطحِ زمین کے 130کلو میٹر بعد جو زمینی پلیٹیں ہیں‘ ان کے نیچے Asthenosphere کی جو پرت ہے‘ یہ ایک نرم باؤنڈری ہے جس نے پورے زمینی گولے کو گھیر رکھا ہے۔ پلیٹوں کو یہی باؤنڈری حرکت دیتی ہے اور جہاں سے حرکت دیتی ہے‘ وہاں کی اوپری سطحِ زمین پر زلزلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ حرکت ہمہ وقت پیدا ہوتی رہتی ہے مگر زیادہ تر حرکت مدہم ہوتی ہے لہٰذا اہلِ زمین سکون میں رہتے ہیں مگر جب حرکت زیادہ ہو جاتی ہے تو زمین کا وہ حصہ‘ جو حرکت کے مقام سے متعلق ہوتا ہے‘ ہلنے لگ جاتا ہے اور زلزلہ برپا ہو جاتا ہے۔ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہیں۔ سینکڑوں‘ ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں لوگ اس زلزلے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نرم باؤنڈری‘ جس نے پوری زمین کو گھیر رکھا ہے‘ وہ ساری زمین پر بیک وقت زلزلہ پیدا نہیں کرتی؟ وہ گزشتہ چار ارب سالوں سے کسی ایک حصے پر ہی زلزلہ پیدا کر رہی ہے؟ جواب ایک ہی ہے کہ بے چاری ''ایستھینو سفیئر‘‘ کی باؤنڈری تو خود ایک نرم سی مخلوق ہے‘ اس پر آرڈر کسی اور کا چلتا ہے۔ زمین کے جس حصے کے بارے میں آرڈر ملتا ہے‘ وہاں زلزلہ برپا ہو جاتا ہے۔ اس پورے نظام کا خالق و مالک ایک ہی ہے۔ وہ اپنی آخری کتابِ ہدایت قرآنِ مجید میں تمام انسانوں کو مخاطب کر کے انتباہ فرماتا ہے۔ ''کیا تم اس حقیقت سے بالکل ہی نڈر ہو گئے ہو کہ (اس تمام نظام کا خالق) تم لوگوں کو کسی زمینی ٹکڑے پر (زلزلہ پیدا کر کے) دھنسا ڈالے یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی چلا دے‘ پھر تم لوگوں کو بچانے والا کوئی حمایتی نہ ملے گا‘‘ (بنی اسرائیل:68)
آئے روز کے زلزلے ہم انسانوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ انسانوں کا یہ گھر‘ جس کا نام زمین ہے‘ انتہائی ناپائیدار اور خطرناک ہے۔ اس کی بنیاد اور اساس ایٹم بموں کے ایک گولے پر ہے۔ اس کے بعد اس کی دوسری بنیاد ایک ایسے لاوے پر ہے جو چٹانوں کا پگھلا ہوا مادہ ہے۔ ایسی خوفناک بنیادوں پر زمین کی سطح بنائی گئی ہے تو جس دن ساری زمین ہی زلزلوں کی زد میں آ گئی‘ اس دن کیا بنے گا؟ ہاں! اس دن نے آ کر رہنا ہے۔ اس دن جو ہوگا‘ ہمارے حضور کریمﷺ پر نازل ہونے والی آخری کتاب نے وہ بھی بتا دیا ہے۔ فرمایا ''اے انسانو! اپنے رب سے ڈر جاؤ کیونکہ قیامت کا زلزلہ (جو ساری زمین پر برپا ہوگا) وہ ایک عظیم شئے ہوگا۔ اس دن کو تم اس طرح دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پینے والے (بچے) سے غافل ہو جائے گی۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا ڈالے گی۔ آپ اس روز لوگوں کو مدہوش دیکھیں گے۔ (مگر نہیں!)وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ اللہ کا عذاب ہی انتہائی شدید ہوگا‘‘۔ (الحج:1 تا 2)
مجھے 8اکتوبر 2005ء کی وہ صبح نہیں بھولتی۔ میرے تینوں بچے سکول میں تھے۔ سب سے چھوٹا بیٹا پانچ سال کا تھا۔ وہ میری گود میں تھا۔ سردیوں کے دن تھے اور رمضان المبارک کا مہینہ۔ میں سورج کی گرم کرنوں سے سردی کو دور ہٹا رہا تھا۔ یہ ایک بارہ مرلے کے گھر کا لان تھا۔ یہ دو منزلہ مکان تھا۔ نیچے مالک مکان رہتا تھا‘ جو گھر میں اکیلا تھا۔ اوپر والی منزل پر میری اہلیہ تھیں۔ میں گھاس پر بیٹھا تھا۔ اچانک کیا ہوا کہ میرے سامنے جو چھوٹا سا درخت تھا‘ یکایک اس پر بیٹھی چڑیوں نے شور مچا دیا۔ میں نے ان کو دیکھا تو وہ صرف شور ہی نہیں کر رہی تھیں‘ وہ ایک ٹہنی سے دوسری اور پھر تیسری‘ لگاتار ٹہنیاں بدل بدل کر‘ پھدک پھدک کر اپنی پریشانی کا اظہار کر رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ شاید کسی بلی کو دیکھ کر ڈر رہی ہیں مگر اردگرد کوئی بلی موجود نہ تھی۔ یا اللہ! یہ کیوں پریشان ہیں؟ اب یہ ہواکہ زمین لرزنے لگی۔ ڈبل سٹوری بلڈنگ ہلنے لگی۔ یوں لگا جیسے ابھی یہ عمارت گر پڑے گی۔ گود میں بیٹھا بچہ اور اس کی ماں کا خیال‘ سکول میں بچوں کا خیال۔ اللہ کی یاد... اور پھر کچھ دیر میں زلزلہ تھم گیا۔ یہ پوری بات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جانوروں کے دماغ میں ان کے خالق نے ایسے سنسرز ضرور رکھے ہیں جو جانوروں کو زلزلے کی اطلاع کر دیتے ہیں۔ ابھی ترکیہ اور شام میں زلزلہ آیا ہے۔ وہاں سے بھی زلزلے سے قبل پرندوں اور جانوروں کی پریشانی کی وڈیوز سامنے آئی ہیں۔ میرا تو اس حوالے سے ذاتی تجربہ ہے۔ جرمنی کے ایک سائنسدان ڈاکٹر مارٹن (Martin Wikelski) مندرجہ بالا موضوع پر ایک مقام رکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مارٹن جرمنی میں ''ڈپارٹمنٹ آف مائیگریشن آف دی میکس پلانک انسٹیٹیوٹ آف اینیمل بیہیویئر‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔وہ امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی کے بھی پروفیسر رہے ہیں۔ وہ جرمنی نیشنل سائنس اکیڈمی کے الیکٹڈ ممبر بن چکے ہیں اور 2021ء میں آرڈر آف میرٹ لے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرندے جو ہجرت کرتے ہیں وہ اپنے Sensor Network کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس موضوع پر ڈاکٹر مارٹن نیشنل جیوگرافک سوسائٹی سے ایوارڈ بھی لے چکے ہیں۔ اٹلی کا مشرقی علاقہ‘ جہاں کثرت سے زلزلے آتے ہیں‘ ڈاکٹر مارٹن نے وہاں چھ گائیاں، 5بھیڑیں اور دو کتے رکھے۔ زلزلے سے 20 گھنٹے پہلے ان کے رویے میں تبدیلی دیکھی گئی۔ وہ ڈر رہے تھے، اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ اس کے بعد 4.0 شدت کے زلزلے کو بھی محسوس کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جانوروں کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایسے سنسرز لگائے ہیں جو مختلف ویوز کو Detect کرتے ہیں۔
اس ضمن میں حکومتِ پاکستان کی خدمت میں میری ایک تجویز ہے کہ وہ علاقے جو زلزلے کی رینج میں ہیں‘ وہاں چڑیا گھر (Zoo) بنائے جائیں‘ ان چڑیا گھروں میں زلزلے سے متعلق ایک سنٹر بنایا جائے جو جانوروں کے رویے پر نظر رکھے۔ جانوروں کے غیر معمولی رویے پر زلزلے کی وارننگ جاری کی جائے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو ہارپ نامی نام نہاد ٹیکنالوجی کے ذریعے زلزلے کی باتیں کی جا رہی ہیں‘ میں سمجھتا ہوں کہ وہ فضول اور محض جہالت کا شاخسانہ ہیں۔ ترکیہ اور شام کے زلزلے کی جس پیشگوئی کا بڑا چرچا ہے‘ وہ محض ایک اتفاق ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ٹھوس سائنسی ریسرچ نہیں ہے۔ پاکستان‘ افغانستان اور بھارت کے بارے میں بھی انہی صاحب کی ایک رائے محض رائے کا ہی درجہ رکھتی ہے۔ اس طرح کی باتوں کو لے کر عوام میں خوف اور سنسنی پھیلانا غیر شرعی اور خلافِ انسانیت فعل ہے۔ زلزلے ایک قدرتی آفت ہیں‘ ان سے بچائو کے حفاظتی انتظامات کیے جا سکتے ہیں مگر ان کو روکا نہیں جا سکتا۔ جو لوگ اس میں شہید ہوئے ہیں‘ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو فردوس عطا فرمائے‘ زخمیوں کو صحت عطا فرمائے اور تمام انسانیت کی حفاظت فرمائے،آمین!
قیامت کے زلزلے میں جانوروں کے رویے کا اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بھی ذکر فرمایا ہے ''اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے‘‘۔ (التکویر:6)اس آیت مبارکہ میں 'وحوش‘ کا لفظ آیا ہے جو 'وحشی‘ کی جمع ہے۔ ''لسان العرب‘‘ میں ہے کہ ہروہ شئے جو انسانوں سے اُنس نہ رکھے‘ وہ وحشی ہے۔ قیامت کا زلزلہ ایسا خوفناک ہوگا کہ انسان اور وحشی جانور خوف کے مارے اکٹھے ہو جائیں گے۔ یہ مناظر آج بھی (ہلکی صورت میں) دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ثابت یہی ہوا کہ چھوٹے زلزلوں کو دیکھ کر اُس رب کریم کی طرف پلٹیں جو ایک بڑا زلزلہ لانے والا ہے۔ آئیے! ہم سب اپنے اللہ کریم سے توبہ اور اعمالِ صالح کی توفیق کے طلبگار بن جائیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved