تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     15-02-2023

نارمل تو کوئی بھی نہیں

آج کل ذہنی امراض کا بہت رونا رویا جارہا ہے۔ ہر شخص یہ سمجھ رہا ہے کہ اس کے علاوہ باقی سب ذہنی مریض ہیں۔ کوئی ذرا سی بھی ایسی ویسی بات کردے جو دل کو نہ لگتی ہو تو اُسے ''سائیکو‘‘ قرار دینے میں قباحت محسوس کی جاتی ہے نہ تاخیر ہی کی جاتی ہے۔ کیا واقعی ایسا ہے کہ ہم میں ذہنی امراض بڑھ گئے ہیں؟ فی زمانہ ذہنی امراض کا پایا جانا حیرت انگیز امر نہیں مگر کیا ہر معاملے کو ذہنی مرض قرار دینے کی روش درست ہے؟
ماہرین سے پوچھئے تو وہ کہتے ہیں کہ ہر الجھن یا پیچیدگی کو ذہنی مرض قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور عمومی اخلاقی معیار کے اعتبار سے بھی درست نہیں۔ جب کسی کے بارے میں تواتر سے کہا جاتا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہے تو اس پر ایک چھاپ سی لگ جاتی ہے۔ پھر لوگ اُسے سب ذہنی مریض ماننے لگتے ہیں۔ ذہنی امراض کے مختلف درجے ہیں۔ ماہرین سے بات کیجیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف ذہنی امراض موجود ہوتے ہوئے بھی محسوس نہیں ہوتے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جسے ہم ذہنی مریض سمجھ رہے ہوتے ہیں‘ وہ بے چارہ کسی بھی درجے میں ذہنی مریض نہیں ہوتا بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی بھی شخص تلخ حقائق سے آشنا کرا رہا ہوتا ہے‘ تب ناقابلِ قبول ٹھہرتا ہے اور لوگ اُسے ذہنی مریض قرار دے کر اپنے سے دور کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں! ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں ذہن پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ کوئی بھی انسان اپنے آپ کو مجموعی ماحول سے الگ نہیں رکھ سکتا۔ ہر کسی کو دوسرے لوگوں سے ملنا پڑتا ہے، اُن کے ساتھ معاملات کرنا پڑتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے کر اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی کے کام بھی آنا پڑتا ہے۔ کام نہ آسکیں تو کون ہمیں قبول کرے گا؟ اور کیوں؟ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں کہ سمجھ میں نہ آسکے۔ ہاں‘ سمجھ کر بھی ہم سمجھنا نہ چاہیں اور دیکھے کو اَن دیکھا کرنا چاہیں تو اور بات ہے۔
فی زمانہ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ سامنے کی بات کو بھی سمجھنا اور قبول نہیں کرنا چاہتے۔ جو بات مفاد سے ٹکراتی ہو اُسے غلط قرار دینے میں تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ لوگ چاہتے ہیں کہ سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہوتا رہے۔ ایسا ممکن نہیں! معاشرے میں مفادات کے تصادم کی کیفیت قدم قدم پر رونما ہوتی رہتی ہے۔ جس کے مفادات پر ضرب لگتی ہے وہ فریقِ ثانی کا دشمن ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جب کسی اور بات پر بس نہ چلے تو اُسے ذہنی مریض قرار دے کر دل کا بوجھ ہلکا کرلیا جاتا ہے۔ کسی کو نارمل کب قرار دیا جاسکتا ہے؟ اور اِس سے بھی بڑھ کر یہ کہ نارمل آخر کس سطح کا نام ہے۔ کیا کوئی بھی صورتِ حال نارمل کہی جاسکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ نارمل کی کوئی تعریف متعین نہیں کی جاسکتی۔ انگریزی کے لفظ norm کا مفہوم ہے: طور یا طریقہ۔ چلن بھی کہہ سکتے ہیں۔ جو کچھ چلن کے مطابق ہو وہ normal کہلاتا ہے۔ معاشرے میں کئی طبقات ہوتے ہیں۔ ہر طبقے کا نارمل الگ ہوتا ہے۔ غریبوں میں یومیہ بنیاد پر کام کرنا، ضرورت سے کہیں کم کمانا اور پریشان ہوتے رہنا نارمل ہے۔ متوسط طبقے میں اچھا کھانا پینا نارمل ہے۔ گھومنا پھرنا بھی اُن کے لیے نارمل کے درجے میں ہے۔ اعلیٰ طبقے میں جو کچھ باقاعدگی سے ہوتا ہے وہ اُن کے لیے نارمل ہوتا ہے۔ مثلاً غریب کے لیے سیر سپاٹا نہ کر پانا نارمل ہے اور امیروں کے لیے سال میں متعدد بار بیرونِ ملک وقت گزارنا اور سیر و تفریح کرنا نارمل ہے۔ اگر کسی ماحول میں روزانہ دال یا سبزی کھائی جاتی ہے تو یہ اُس ماحول کی نارمل بات ہے اور کہیں روزانہ مرغن غذائیں کھانا نارمل ہے۔ کسی کے لیے روزانہ بسوں میں دھکے کھانا نارمل ہے تو کسی کے لیے گھر سے مقامِ کار تک پرتعیش کار میں سفر کرنا نارمل ہے۔
آج ہر انسان کا ذہن کسی نہ کسی حد تک اٹکا ہوا ہے۔ ماحول میں ایسا بہت کچھ ہے جو انسان کو قدم قدم پر الجھن سے دوچار کرتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہوش رُبا پیش رفت نے کسی کو بھی اس قابل نہیں چھوڑا کہ پوری آزادی و خود مختاری کے ساتھ متوازن فیصلے کرسکے۔ ہر فیصلے پر مختلف عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ بہت کچھ ہے جو نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھنا اور قبول کرنا پڑتا ہے۔ دنیا کا یہی چلن رہا ہے اور یہی رہے گا۔ ماحول کو بدلنے کی کوشش فضول ہے۔ اس حوالے سے توقعات اور امیدیں بھی لاحاصل ہیں۔ بدلنا ہے تو آپ کو! کچھ کرنا ہے تو آپ کو! دوسرے آپ کی مدد کرسکتے ہیں مگر ایک خاص حد تک۔ انہیں اپنے معاملات بھی دیکھنا ہوتے ہیں۔ وہ آپ کی خاطر ایک خاص حد تک ہی جاسکتے ہیں۔ اُن زمانوں کو گزرے ہوئے بھی زمانے گزر چکے ہیں جب کسی بھی انسان کے لیے زندگی زیادہ پیچیدہ نہیں تھی۔ زندگی کی عمومی رفتار خاصی کم تھی۔ لوگ بہت حد تک اپنی مرضی کے مطابق جی لیتے تھے۔ معاشی الجھنیں تب بھی تھیں مگر اُن کی نوعیت کچھ اور تھی۔ معاشرتی پیچیدگیاں تب بھی تھیں؛ تاہم اُن کے اثرات مختلف تھے اور نوعیت بھی۔ تب انسان شدید دباؤ میں بھی کسی نہ کسی طور ڈھنگ سے جینے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ معاشی بوجھ زیادہ نہ تھا۔ زندگی مجموعی طور پر سادہ تھی۔ اخراجات زیادہ اور بلا جواز نہیں تھے۔ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا تب عام چلن تھا۔ کوئی ایک معاملہ بہت سے معاملات پر خطرناک حد تک اثر انداز نہیں ہوتا تھا۔ آج کی طرح چین ری ایکشن والی کیفیت نہ تھی۔ کسی ایک معاملے میں پیدا ہونے والی پیچیدگی تمام معاملات میں بگاڑ پیدا کرنے کا باعث نہیں بنتی تھی۔ زندگی مجموعی طور پر الجھی ہوئی نہیں تھی اس لیے اس کی باگ ہاتھ میں تھی۔ بیشتر معاملات میں اپنی پسند و ناپسند کے مطابق رِسپانس دینا ممکن تھا۔
آج کیفیت یہ ہے کہ انسان چاہے بھی تو محض اپنی مرضی کے مطابق نہیں جی سکتا۔ بہت سے معاملات میں اُسے اپنی مرضی کے خلاف جانا پڑتا ہے۔ بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت انسان کو پژمردگی کی طرف لے کر جاتی ہے۔ انسان جب بیشتر معاملات میں اپنے آپ کو مجبور پاتا ہے تو اُس کا ذہن مزید الجھ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ڈھنگ سے جینے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتے ہیں اُنہیں بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ بعض معاملات میں اُنہیں ایثار کا مظاہرہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ حالات کا دباؤ انسان کو قنوطیت کی طرف دھکیلتا رہتا ہے۔ اِس سے بچنے کے لیے ذہن کی کارکردگی کو سمجھنا لازم ہے۔ ذہنی پیچیدگیوں کو اپنے طور پر سمجھنا کم ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ اس کے لیے کونسلنگ کا سہارا لینے میں کچھ حرج نہیں۔ بیشتر کا یہ حال ہے کہ اپنے حلقۂ احباب میں حالات اور اپنے معاملات کا دُکھڑا روتے رہتے ہیں یا پھر خاندان کے کسی فرد کو اپنے دُکھوں کا راگ سُنانے کو کافی سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں! اگر ذہن الجھا ہوا ہے تو نفسی امور کے ماہرین سے رجوع کرنا ہوتا ہے۔ جنہوں نے نفسی امور کی پیچیدگیاں دور کرنے کے حوالے سے خصوصی تعلیم و تربیت پائی ہو وہی موزوں راہ نمائی کرسکتے ہیں۔ اُن سے مشاورت کی صورت میں انسان اپنے معاملات کو ڈھنگ سے سمجھنے کے قابل ہو پاتا ہے۔
یہ بات خصوصی طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب سبھی کے ذہن الجھے ہوئے ہیں اس لیے کسی کو زیادہ موردِ الزام ٹھہرانے کی ضرورت نہیں۔ انسان کو اپنے معاملات درست رکھنے پر متوجہ رہنا چاہیے۔ اگر کوئی معاملات کو بگاڑنا چاہتا ہے تو اُسے روکا جائے اور اُس سے کنارہ کش ہوا جائے۔ جو لوگ دوسروں کے لیے الجھنیں پیدا کرتے ہیں اُن سے دور رہنے ہی میں عافیت ہے۔ آج کا انسان چونکہ بیشتر معاملات میں مجبور ہے اِس لیے اب بہتر طرزِ فکر و عمل یہ ہے کہ کوئی کسی کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے معاملات کی درستی پر متوجہ ہو۔ کسی کو ابنارمل کہنے سے معاملات درست نہیں ہوسکتے اور نارمل ہونے کا دعویٰ کرنے سے بھی بات نہیں بن سکتی۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے جینے کی کوشش کی جائے۔ یہی نارمل رہنے کی بہترین صورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved