تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-09-2013

سرخیاں ، متن اور ڈاکٹر خورشید رضوی

پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع کیا جائے… نوازشریف وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ’’پی آئی اے کی نجکاری کا عمل شروع کیا جائے‘‘ اور اسی طرح رفتہ رفتہ حکومت کی نجکاری بھی شروع کردی جائے گی کیونکہ مسائل اس قدر گمبھیر ہیں کہ کسی طور حل ہوتے نظر نہیں آتے حالانکہ انتخابات سے پہلے یہ بالکل بائیں ہاتھ کا کھیل نظر آ رہے تھے جبکہ اب ان کے لیے دایاں ہاتھ بھی ناکافی اور معذور نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تمام بیمار ریاستی اداروں میں اصلاحات لائیں گے‘‘ چنانچہ سب سے پہلے ان بیمار اداروں کا علاج کیا جائے گا جس کے لیے کسی ماہر حکیم کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور اگر ایک حکیم دستیاب نہ ہوا تو دو نیم حکیموں سے کام چلانے کی کوشش کی جائے گی جو ملکِ عزیز میں ماشاء اللہ با افراط پائے جاتے ہیں‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ’’انتخابی وعدے پورے کیے جائیں گے‘‘ اور اگر اس بار پورے نہ ہو سکے تو اگلی بار ا پنی باری آنے پر پورے کر دیں گے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ جماعت ضرور ہوگی‘ کارکن صفیں بچھانے کی تیاری کریں… طاہر القادری شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ’’جماعت ضرور ہوگی‘ کارکن صفیں بچھانے کی تیاری کریں‘‘ جبکہ میں بھی کنٹینر میں سے امامت کرانے کے لیے پوری طرح سے تیار بیٹھا ہوں جس کا مقصد محض کارکنوں کی بخشش کی کوشش کرنا ہے کیونکہ خاکسار تو بخشی ہوئی روح ہے‘ صرف کارکن گناہوں کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں جن کی دستگیری کرنا چاہتا ہوں اگرچہ ان سے روزِ حشر خاکسار کی اندھا دھند پیروی کا حساب بھی لیا جائے گا کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی وہ اتنی آسانی سے باتوں میں آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک کروڑ نمازیوں کے لیے صفیں درکار ہوں گی‘‘ اور جب تک یہ ایک کروڑ نمازی مہیا نہیں ہو جاتے خاکسار کو امامت سے معذور سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’کارکنان عوامی تحریک زمین پر اپنا کام تیز کردیں‘‘ جبکہ آسمان پر کام تیز کرنا میرا کام ہے اور میرے کام کو ماشاء اللہ ساری دنیا جانتی ہے۔ آپ اگلے روز عوامی تحریک کی سنٹرل ورکنگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ پولیس میں تبادلوں سے سندھ حکومت کے عزائم سامنے آ گئے… بابر غوری متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شپنگ اینڈ پورٹ بابر غوری نے کہا ہے کہ ’’پولیس میں تبادلوں سے سندھ حکومت کے عزائم سامنے آ گئے ہیں‘‘ کیونکہ ہم نے جو بندے میرٹ پر بھرتی کیے تھے‘ ان سب کو تبدیل کردیا گیا ہے اور جب تک میرٹ کے خلاف کام ہوتے رہیں گے ملک ترقی نہیں کر سکتا‘ حالانکہ جو لوگ ان کی جگہ لائے گئے ہیں ان کا میرٹ کے ساتھ دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تعینات کیے گئے کسی بھی افسر کا تعلق کراچی سے نہیں‘‘ اور یہ کراچی والوں کے ساتھ زیادتی ہے‘ نیز یہ لوگ اندھا دھند کارروائی کریں گے اور کوئی تمیز ہی باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر متحدہ کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں تو متحدہ پُرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے‘‘ جبکہ اگلے روز بھی ہم نے یہ حق استعمال کیا اور جو کچھ بھی ہوا وہ کراچی میں معمول کی کارروائی تھی جس پر کسی کو حیران یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ پاکستان ہمسایوں سے مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے… گورنر پنجاب گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ ’’پاکستان ہمسایوں سے مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے‘‘ جس کے لیے بنیادی طور پر خود مضبوط ہونا ضروری ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان کا ہاتھ خود تنگ ہے‘ اس لیے سب سے پہلے ملک کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے جس کے لیے مقویّات کا استعمال ضروری ہے اور جو کہیں سے بھی میسر آ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایران اور پاکستان کے تجارتی تعلقات میں مزید وسعت کی ضرورت ہے‘‘ البتہ گیس پائپ لائن کا منصوبہ قدرے سست رفتاری کا شکار ہے حالانکہ امریکہ مسلسل زور دے رہا ہے کہ اسے جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے لیکن حکومت چونکہ مکمل طور پر آزاد خارجہ پالیسی پر یقین رکھتی ہے‘ اس لیے امریکہ کو چاہیے کہ اپنے کام سے کام رکھے اور ہمارے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہ کرے ورنہ امریکہ ہمیں اچھی طرح سے جانتا ہے کہ ہم ڈٹ جاتے ہیں اور کھڑے کھڑے پائوں بھی پڑ سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز ایران کے کونسل جنرل حسین بن اسدی سے ملاقات کر رہے تھے۔ اور اب آخر میں ماہنامہ ’’ الحمرا‘‘ کی تازہ اشاعت میں شائع ہونے والی ڈاکٹر خورشید رضوی کی غزل کے چند شعر : آسماں دل پہ قیامت کی گرانی لایا جو سنائی نہیں جاتی وہ کہانی لایا خلق نے کھیت پہ بارش کی دعا مانگی تھی ابر گلیوں میں گرجتا ہوا پانی لایا اب تو آنسو بھی ٹپکتا ہے تو ڈر لگتا ہے کہ یہ قطرہ بھی اگر عزم روانی لایا دامن موج میں بہتے ہوئے خاشاک کا ڈھیر کس کے گھر کی کفِ سیلاب نشانی لایا نہیں معلوم کہاں تھے وہ نشیمن، وہ شجر ایک طائر کوئی پیغام زبانی لایا زندگانی کی اٹھائی گئی پانی پہ اساس موت کیوں اس کے لیے پھر یہی پانی لایا آج کا مطلع جھونکا یہ تروتازہ تبھی جان میں آیا اتنا سا جو رخنہ مرے ایمان میں آیا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved