تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     22-04-2023

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند ِ قبا دیکھ

آصف علی زرداری سے لے کر میاں نواز شریف اور پی ڈی ایم کے دیگر لیڈران اور ترجمان‘ سب کے سب اس سیاسی بیانیے پر متفق نظر آتے ہیں کہ اگر اس ملک پر وقفے وقفے سے ڈکٹیٹرز مسلط نہ ہوتے تو آج ہم دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہوتے۔ سیاسی قیادت کے مطابق ملک میں جتنی بھی خرابیاں ہیں ان کے تانے بانے ڈکٹیٹروں کی پالیسیوں اور ان کے ادوار سے جا کر ملتے ہیں۔ محترم زرداری صاحب اور نواز شریف کا فرمانا بالکل بجا ہے لیکن ان دونوں جماعتوں اور ملکی سیاسی منظر نامے پر موجود بڑی سیاسی جماعتوں کی ترتیب، ان کے جنم اور ان کی پرورش کی تاریخ کا جائزہ لیں تو ان سب کی جڑیں انہی ادوار میں جا کر ملتی ہیں۔
آج ملک کے سنجیدہ طبقات دو صوبوں کے عوام کو حقِ رائے دہی سے محروم رکھنے اور آئین شکنی پر سخت رنجید ہ نظر آ رہے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ جب آمروں کے لگائے گئے پودوں کی آبیاری کی جائے گی، انہیں بھرپور کھاد فراہم کی جائے گی، وسیع تر ملکی مفاد کے نام پر صریح قانون شکنیوں سے پردہ پوشی کی جائے گی تو اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔ وہ سب سیاسی عناصر جو کل تک اپنے بزرگوں کی جانب سے آئین سازی کا کریڈٹ لے رہے تھے‘ آج آئین شکنی کا جواز یہ کہتے ہوئے فراہم کر رہے ہیں کہ اگر آئین کی دو‘ چار شقوں پر عمل نہ کیا جائے تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اگر اسی دلیل کو معیار بنایا جائے تو ان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ جب چار بار آئین کو معطل کر کے مارشل لاء لگایا گیا تھا، قیامت تو اس وقت بھی نہیں ٹوٹی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خاندانی لمٹیڈ کمپنیوں کی طرز پر بنائی جانے والی سیاسی جماعتوں کی تربیت ہے۔ اگر ملک میں صحیح معنوں میں جمہوریت ہوتی، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری اقدار پائی جاتیں تو پھر کوئی آئین شکنی پر اس طرح خاموش نہ بیٹھا ہوتا۔ آئینی شقوں سے انحراف کے راستے نہ تلاش کیے جا رہے ہوتے۔ اگر ڈکٹیٹروں کی نرسریوں میں سایہ دار درخت اور پھل دار پودے لگائے جاتے تو آج ہر طرف سبزے‘ پھولوں اور پھلوں سے لدے پودوں کی بہار ہوتی لیکن برا ہو ان آمروں کا‘ جنہوں نے آتے ہی ایسے کانٹے دار درختوں کی آبیاری شروع کر دی جس نے سرسبز چمن کو آکاس بیل کا اسیر بنا کر رکھ دیا۔ اس ملک کی سالمیت، معیشت اور آئین کے ساتھ تو انہوں نے جو کرنا تھا سو کیا‘ لیکن سب نے ایسے دو‘ چار درخت بھی لگا دیے کہ جنہوں نے ہر طرف کانٹے پھیلا دیے اور گلشنِ وطن میں کسی اور کونپل کو پھوٹنے ہی نہ دیا۔
گزشتہ دنوں اپنی تقریر میں میاں نواز شریف نے با لکل درست کہا کہ اس ملک کو ڈکٹیٹروں نے تباہ کر کے رکھ دیا۔ ان کی پارٹی کے دیگر افراد بالخصوص خواجہ صاحبان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی یہ کہتے نہیں تھکتے اور ہم سب بھی یہ سنتے نہیں تھک رہے کہ اس ملک کو بس انہی نے تباہ کیا۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ آمروں کے لگائے گئے پودوں نے اس گلشن کا کیا حشر کیا۔ اس ملک میں آنے والے سب سے پہلے ڈکٹیٹر ایوب خان تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ہمیں ایک حکمران تیار کر کے قوم کو عطا کیا۔ ان کے بعد جناب نواز شریف کے بقول‘ ملک کا بیڑا غرق کرنے والے ضیاء الحق صاحب تشریف لائے اور پوری قوم کو افغان جنگ میں جھونکنے اور اپنی باقی ماندہ عمر اپنے سیاسی جانشین کے نام کر کے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تیس سال تک ڈکٹیٹر وں نے اپنے پیچھے چھوڑ جانے والوں کو اس ملک کا ایسا وارث بنایا کہ ان کی اولادیں خود کو سیاستدان نہیں بلکہ ''حکمران خاندان‘‘ کے نام سے پکارتی ہیں۔ گویا یہ سلطنت ان کے اجداد نے فتح کی تھی۔
آمروں کے جانے کے بعد ایک ایسا کھیل شروع کر دیا گیا جس نے تیس برس تک قوم کو اپنی انگلیوں پر نچائے رکھا اور بد قسمتی دیکھئے کہ کھیل تماشوں میں گم رہنے والی یہ قوم اس کھیل میں اس قدر مگن رہی کہ اسے دنیا جہان کا ہو ش ہی نہ رہا۔ فضا میں ہر وقت زندہ باد اور مردہ باد کے نعروں کی گونج سنائی دیتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی جان کے اس طرح دشمن بن گئے تھے کہ لگتا تھا کہ قوم دو متحارب گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ کسی کے خلاف فتوے لگائے جا رہے تھے تو کسی کو غدار ثابت کیا جا رہا تھا۔ کسی کو منافق تو کسی کو ڈاکو کا خطاب دیا جا رہا تھا۔ اس نفرت نے معاشرے کی بنیادوں میں وہ آگ بھری کہ روزانہ کی بنیاد پر دسیوں‘ بیسیوں افراد اس جہنم میں جل رہے تھے۔ الزامات کی ریس اس حد تک شرمناک ہو گئی تھی کہ نہ کسی کی عزت سلامت تھی اور نہ کسی کا گھر محفوظ تھا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ اس ملک کی حکمران سیاسی جماعتیں ہیں جو کئی کئی بار ملک اور صوبوں پر حکومتیں کر چکی ہیں۔ عوام کو دو حصوں میں اس طرح کاٹ دیا گیا تھا کہ دونوں دھڑوں پر ایک دوسرے کے لیبل لگا کر باہم برسر پیکار اور ایک دوسرے کے خلاف صف آ را کر دیا گیا۔ دونوں فریقوں کے ایک دوسرے پر لگاتار لگائے جانے والے الزمات سننے کے بعد لگتا تھا کہ ملک کے ان حالات کے ذمہ دار یہی ہیں اور یہ دونوں دھڑے ہی اس ملک کو چاٹ رہے ہیں۔ بندوقوں کے زور پر سیاست ہو رہی تھی۔ ایک عرصے تک کراچی اس آگ میں جھلستا رہا۔ قتل کرنے والے بھی نہیں جانتے تھے کہ وہ کسے اور کیوں قتل رہے تھے، جو قتل ہو رہے تھے وہ بھی اس بات سے بے خبر ہی رہے کہ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا۔ یہ لڑائی محض سیاسی جلسوں یا بیانات تک ہی محدود نہیں تھی۔ اسمبلیوں کے اندر بھی ہنگامے، ایک دوسرے پر لعن طعن اور گالی گلوچ جاری تھی۔ یہ وہ ملکی سیاسی تاریخ ہے جو اس وقت کے اخبارات اور جرائد میں محفوظ ہے۔ ہر روز ہڑتالیں کرائی جا رہی تھیں تاکہ ملک کی رہی سہی معیشت بھی زمین بوس ہو جائے۔ اپنے ڈیروں اور گھروں پر ہڑتال کرنے والوں، نعرے لگانے والوں، ٹائر جلانے والوں اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کیلئے کھلے عام دیگیں پکوائی جا رہی تھیں۔
اس سیاسی جنگ میں یہ بالکل فراموش کر دیا گیا کہ ان ہڑتالوں سے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں مزدوروں کے گھروں میں فاقے ہو رہے تھے۔ شاید اس لیے کہ انہیں اپنی سیاست سے غرض تھی‘ بھوکے عوام‘ ان کے بلکتے بچوں اور سسکتے‘ بیمار بوڑھے ماں باپ سے نہیں۔ ہر کامیاب ہڑتال کے بعد ان کے چہروں کی لالی میں مزید اضافہ ہو جاتا لیکن بھوک سے مرتے لوگوں کا خون نچڑ کر رہ جاتا۔ ملک کو برباد کرنے والے آمروں کے ان پروردہ اور قوم کے سروں پر بٹھائے گئے مہربان خاندانوں نے اپنے اپنے شہیدوں کا گدی نشین بن کر تین دہائیوں سے زائد عرصہ تک اس ملک پر حکومت کی۔ اس دوران ملک اور قوم کو جس ذلت و خواری میں دھکیلا گیا‘ اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ پوری قوم اس داستانِ الم کے حرف حرف سے واقف ہے۔ ان دو دھڑوں نے سیاست نہیں کی بلکہ اس ملکِ پاکستان کو اپنی وراثتی جائیداد کا تنازع بنا لیا۔ دونوں باری باری ہمارے حکمران بنتے رہے اور ملک و قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے اور دوسرے کے پیٹ سے لوٹا ہوا پیسہ نکلوانے کے دعوے کرتے رہے۔ جب بھی یہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے تو سارے عوامی نعرے انہیں بھول جاتے۔ چونکہ انہوں نے ملک کو اپنے مابین متنازع وراثتی جائیداد سمجھ رکھا تھا‘ اس لیے ان کا آپسی انداز بھی ان بھائیوں جیسا تھا جو باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد کی خاطر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ اس جنگ میں مخالفین کے خلاف کیا کیا مہمیں نہیں چلائی گئیں۔ کبھی ان کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے اور کبھی دیگر انداز سے توہین کی گئی۔ آج یہ سب اس ماضی کو بھول بھال کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر میڈیا پر ایک ہی گردان دہرائے جا رہے ہیں کہ ملکی سیاست میں تلخ نوائی، ذاتیات اور زہر فشانی کا آغاز عمران خان نے کیا تھا؛ گویا 1980ء اور 90ء کی دہائی میں سیاست کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی تھی۔
اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بندِ قبا دیکھ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved