تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     08-05-2023

ماں

زندگی اس وقت تک بہت خوشگوار اور پرکشش محسوس ہوتی ہے جب تک آپ کے والدین اور آپ کے قریب ترین اہلِ خانہ آپ کے ساتھ موجود ہوں۔ویسے تو ماں اور باپ دونوں ہی بچے کی پرورش میں دن رات ایک کر دیتے ہیں‘ اسے ہر طرح کی خوشیاں اور آرام دینے کیلئے اپنی خوشیاں اور اپنا آرام قربان کر دیتے ہیں لیکن اس ضمن میں ماں کا درجہ باپ سے زیادہ ہے۔احادیث میں بھی ماں کے رتبے کو کئی جگہ والد سے اوپر بیان کیا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ماں بچے کی دنیا میں ولادت سے قبل نو مہینے تک تکلیف اٹھاتی ہے اور اس کے بعد بھی دن رات اس کا خیال کرتی ہے۔ دوسری جانب معاش کی ذمہ داری زیادہ تر باپ اٹھاتا ہے۔ وہ جب چاہے سو بھی لیتا ہے‘ دفتری کام کے دبائو کا کہہ کر ذمہ داریوں سے عہدہ برا بھی ہو جاتا ہے‘ ہفتہ وار چھٹی میں بھی دوستوں کے ساتھ آئوٹنگ کر لیتا ہے لیکن ماں ایسا نہیں کر سکتی۔ اس نے بچوں کو بھی دیکھنا ہے‘شوہر اور دیگر اہلِ خانہ کے کھانے‘ صفائی‘کپڑوں اور گھر کے دیگر کاموں کو بھی نمٹانا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسے ہفتہ وار کوئی بھی چھٹی میسر نہیں ہوتی۔ کئی مائیں تو ایسی ہوں گی کہ جنہیں عمر بھر چھٹی نصیب نہ ہوتی ہو۔
ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو مائوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس روز کوئی مسلمان ہو‘ عیسائی یایہودی‘ ہر کسی کو اپنی ماں ضرور یاد آتی ہے۔ جن کی مائیں حیات ہیں شاید انہیں اس دن کی اہمیت کا احساس نہ ہو سکے کیونکہ ان کے پاس یہ خزانہ ان کی آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ بچوں کیلئے مائیں شاید الہ دین کا چراغ ہوتی ہیں کیونکہ بچپن سے ہی وہ جب چاہتے ہیں جو کھانا چاہتے ہیں ماں سے کہہ دیتے ہیں اور ماں بنا دیتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے سر میں درد ہے‘ ٹانگوں میں کمزوری ہے یا بخار کی کیفیت ہے۔ شاید ہی کوئی ماں ایسی ہو جو بچے کو یہ کہتی ہو کہ میرے سر میں درد ہے آج کھانا نہیں مل سکتا یا مجھے نیند پوری کرنی ہے۔ مائیں تو بچوں کے دلوں کا حال پہلے ہی جان لیتی ہیں۔ وہ ان کے پاس آتے ہیں تو ماں کو پہلے ہی پتا چل جاتا ہے کہ بچہ کیوں آیا ہے۔
بچے کی تربیت میں ماں کا بہت زیادہ ہاتھ ہوتا ہے کیونکہ اس کے ابتدائی برسوں کا پل پل ماں کی آغوش میں گزرتا ہے۔بڑوں کا ادب کرنا ہے‘ صفائی کا خیال رکھنا ہے‘ بلاوجہ وقت ضائع نہیں کرنا‘رات کو جلدی سونا ہے‘ نماز روزے کی پابندی کرنی ہے‘ فضول لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہیں‘ یہ سب کوئی سکول بچے کو نہیں بتاتا‘ ماں ہی بتاتی ہے اور یہ باتیں بچے کے بلیک باکس میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جاتی ہیں۔مجھ جیسے لوگوں کیلئے مئی کے یہ دن خاصے کٹھن ہوتے ہیں کہ جن کی مائوں کا انتقال عین اس دن ہوا جس دن دنیا ماں کا عالمی دن منا رہی ہوتی ہے۔ آٹھ برس بیت گئے۔ آٹھ مئی کو ایک قیامت تھی جو آئی اور گزر گئی لیکن اس کے اثرات آج تک دل و دماغ پر نقش ہیں۔ یہ آٹھ برس یہی سوچتے گزر گئے کہ واقعی ماں چلی گئی ہے یا یہ کوئی خواب ہے جو ختم ہو جائے گا اور گھر کے آنگن میں‘ کسی صوفے پر‘ کسی کرسی پر ماں اسی طرح قرآن کریم پڑھ رہی ہو گی جیسے بچپن سے اسے دیکھتے آئے ہیں۔ یہ خواب مگر بہت زیادہ طویل ہو گیا ہے اور دل اس پر یقین کرنے کو بھی تیار نہیں۔ ہر کسی نے دنیا سے جانا ہے یہ تو بچپن سے سنتے آئے ہیں اور قرآن کے احکامات بھی یہی ہیں لیکن مائیں واقعی چھوڑ جاتی ہیں یہ یقین کرتے کرتے زندگی بیت جاتی ہے‘ حتیٰ کہ ایسا وقت آتا ہے کہ انسان خود لبِ گور پہنچ جاتا ہے۔
یہ دنیا کا واحد دکھ ہے جس کیلئے نہ الفاظ ملتے ہیں نہ جذبات۔ بس انسان گم سم ہو کر یہی سوچتا ہے کہ جب ماں نے بھی اس دنیا سے چلے جانا ہے تو اس دنیا سے دل لگانے کا فائدہ۔ پھر یہ دنیا بھی بے کار اور بے معنی محسوس ہوتی ہے اورقرآن کی وہ آیات بھی سامنے آتی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دنیا تو محض ایک عارضی ٹھکانہ ہے‘ اصل زندگی تو آخرت کے بعد شروع ہونی ہے۔مائیں جب پاس ہوتی ہیں تب نہ کسی چیز کی فکر ہوتی ہے نہ کوئی دبائو اتنا محسوس ہوتا ہے۔ اگر کوئی فکر یاپریشانی ہوتی بھی ہے تو انسان سوچتا ہے گھر میں ماں ہے جا کر اسے سب بتا دوں گا اور یوں غم ہلکا ہو جائے گا۔ ماں نہ ہو تو کئی باتیں اور کئی غم ایسے ہیں جو انسان اس طرح کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتا۔ماں کے وہ دلاسے‘ وہ پیار‘ وہ تھپکیاں‘ وہ دعائیں کہیں سے نہیں مل سکتیں۔ ماں کا ہونا ہی بچے کیلئے کافی ہوتا ہے چاہے وہ اس کیلئے کچھ نہ بھی کر سکتی ہو‘ بچے کو کم از کم یہ احساس ہوتا ہے کہ میرے سر پر میری ماں موجود ہے جو میری غم خوار بھی ہے اور میری ہمدرد بھی۔بہت سے لوگ ہیں جو مائوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن دیارِ غیر میں ہونے کی وجہ سے نہیں کر پاتے۔ بہت سے ہیں جو ان کے پیار کیلئے ترستے ہیں اور کسی مجبوری کی وجہ سے ان سے دور ہیں۔جب ماں نہیں ہوتی تب احساس ہوتا ہے وہ وقت جو ادھر اُدھر ضائع کیا‘ کاش ماں کے ساتھ بِتایا ہوتا۔ جن دوستوں اور جس آئوٹنگ کیلئے ہم ماں کو نظر انداز کرتے ہیں وہ آپ کو چند ماہ یا چند برس بعد یاد بھی نہیں رہتے لیکن مائیں جب دنیا سے پردہ فرما لیتی ہیں تو کوئی پل ایسا نہیں ہوتا جب ماں یاد نہ آتی ہو۔ اس لیے جن کی مائیں حیات ہیں وہ انہیں جتنا وقت دے سکتے ہیں‘ دیں۔ ان کی صحت‘ آرام کا بھرپور اور ہر ممکن خیال کریں۔ہفتہ وار آئوٹنگ میں کبھی ماں کو بھی گاڑی میں بٹھائیں اور کسی اچھے ریستوران‘ کسی پارک میں جائیں۔ انہیں بھی اچھے کپڑے‘ خوشبو‘موبائل فون گفٹ کریں۔ ان کا بستر صاف رکھیں‘ روزانہ چادر بدلیں‘ان کے جوتوں کو اس طرح رکھیں کہ پلنگ سے اترتے وقت انہیں پائوں کی سیدھ میں پڑے ملیں اور انہیں ڈھونڈنے نہ پڑیں۔ باتھ روم میں صابن تولیہ ٹشو اور صفائی کا خیال رکھیں۔ اگر انہیں شوگر بلڈ پریشر یا کوئی اور بیماری ہے تو گھر اور دورانِ سفر تمام ادویات ساتھ رکھیں۔ انہیں ان کی سہیلیوں‘ رشتہ داروں سے ملوائیں اور ان سے بھی احترام سے پیش آئیں۔ رات کو ان کے سرہانے پانی‘ بسکٹ‘نمکو جیسی کوئی چیز رکھیں کہ بھوک لگے تو انہیں دور نہ جانا پڑے۔ماں کیساتھ کبھی ایسا رویہ نہ رکھیں جس سے تنگدلی اور کنجوسی ظاہر ہوتی ہو‘ہو سکے تو جب ممکن ہو ان سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے رہیں۔اپنے کمرے میں ریموٹ بیل لگائیں کہ آدھی رات کو انہیں ضرورت ہو تو وہ بٹن دبا کر آپ کو بلا سکیں۔ اللہ موقع اور استطاعت دے تو ان کے ساتھ حج و عمرہ کریں‘ انہیں زیارات پر لے جائیں‘شمالی علاقوں میں تفریحی مقامات پر آبشار اور جھرنوں کے درمیان ہر سال گرمیوں میں ان کے ساتھ چند دن گزاریں۔ یقین کریں اگر آپ یہ سب کریں گے تو آپ کو اپنے بچوں کو ماں کا ادب سکھانے یا رٹانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ آپ کی دیکھا دیکھی اپنی ماں اور آپ کی اہلیہ کی اُس وقت دیکھ بھال کریں گے جب آپ کی کمر میں خم آ جائے گا‘ جب آپ کے منہ سے بھی ہر بات سے پہلے کھانسی نکلے گی‘ جب آپ بھی دوستوں رشتہ داروں کے نام اور تاریخیں بھولنے لگیں گے‘جب آپ کو بھی بیڈ سے باتھ رُوم کا سفر ہزاروں میل طویل محسوس ہو گااور جب آپ کو بھی تنہائی کی جونکیں سر سے پائوں تک کاٹ رہی ہوں گی تب یہ بچے آپ کے ساتھ‘ اپنی ماں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہے ہوں گے اور آپ کا بھی اسی طرح سے خیال کر رہے ہوں گے جیسا کہ آپ نے اپنی ماں کا رکھا تھا۔ دعا ہے جن کی مائیں حیات ہیں اللہ ان کے بچوں کو ان کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور جن کی پردہ فرما چکیں‘ انہیں صبر کی توفیق دے اور انہیں ان کیلئے صدقہ جاریہ بنا دے، آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved