تحریر : عرفان صدیقی تاریخ اشاعت     09-05-2023

’’پراجیکٹ ‘‘طوائف الملوکی اور منصوبہ ساز

بیانیوں‘ خوش گمانیوں اور خواب خرامیوں کے باوجود‘ درو دیوار پہ لکھی حقیقت یہ ہے کہ ہم بھنور میں گھمن گھیریاں کھا رہے ہیں اور ساحل دکھائی نہیں دے رہا۔ عربی زبان سے نسبی تعلق رکھنے والا ایک دولفظی مرکّب اُردو میں مستعمل ہے''طوائف الملوکی‘‘۔ انگریزی میں اس کا متبادل ہے''انارکی‘‘ (Anarchy)۔ مختلف اردو لغت میں ''طوائف الملوکی‘‘ کے معنی ہیں افراتفری‘ آپا دھاپی‘ ہڑبونگ‘ سکھا شاہی‘ انتشار‘ اندھیر نگری‘ دھینگا دھینگی اور بدانتظامی وغیرہ۔ ان میں سے کس کس لفظ کا جامۂ زیبا ہمارے قدوقامت پہ سجتا ہے‘ اس کا انحصار آپ کی یاسیّت یا رجائیت پر ہے۔ میرے پیش نظر صرف یہ سادہ و معصوم سا سوال ہے کہ کیا 2008ء سے 2018ء (پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار) تک‘ کسی آن بھی قومی منظر نامہ اس طرح کی طوائف الملوکی کا نقشہ پیش کررہا تھا؟ اسی کے بطن سے پھوٹتا ایک ضمنی سوال ہے کہ کیا یہ موجودہ حکومت کا کیا دھرا ہے؟ تعصّب کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ تو کیا کسی سیّارے سے اُتری نادیدہ مخلوق نے ہمارے ہاتھ پائوں باندھ کر منہ میں کپڑا ٹھونسا اور اس پاتال میں دھکیل کر غائب ہو گئی؟ ایسا بھی نہیں۔ تو پھر مستقیم راہوں پر چل نکلنے والے پاکستان کو کس نے ''طوائف الملوکی‘‘ میں جھونکا؟ اب یہ کوئی معمہ نہیں رہا۔ سب کردار جانے‘ پہچانے جا چکے۔ سب زندہ وسلامت ہیں اور پاتال میں پڑے پاکستان کی چیخ وپکار سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ کسی ایک کی راتیں بے خواب نہیں ہو رہیں‘ کسی ایک کا ضمیر نشتر نہیں چلارہا‘ کسی ایک کی آنکھیں نم نہیں ہو رہیں‘ کسی ایک کے دل میں قوم سے معافی مانگنے کی تڑپ انگڑائی نہیں لے رہی۔ یہ الگ بات کہ ''پراجیکٹ عمران‘‘ کے نام پر پاکستان کو اس حال سے دوچار کرنیوالے کرداروں پر اب ''پراجیکٹ مکافاتِ عمل‘‘ کا باب وا ہو چکا ہے۔ چار سُو رسوائیاں رقص کررہی ہیں‘ ان کے حقیقی خدوخال نمایاں ہورہے ہیں اور تاریخ سوچ رہی ہے کہ ان کا تذکرہ بیاضِ سیاہ کے کن اوراق کی زینت بنایا جائے کہ برسوں پڑھنے والوں کو گھن آتی رہے۔
مشرف کی نو سالہ آمریت کے بعد 2008ء میں پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنا پارلیمانی کردار نباہنے کا فیصلہ کیا۔ ججوں کی بحالی کے عہد پر کچھ عرصے کیلئے حکومت کا حصہ بنی۔ اسی مسئلے پر الگ ہو گئی۔ باہمی تلخی کا ایک ایسا مرحلہ بھی آیا کہ ڈوگر کورٹ کے ذریعے وزیراعلیٰ شہباز شریف کا تختہ الٹ کر پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) پھر بھی سڑکوں پر سرکس لگانے کے بجائے قومی اسمبلی میں توانا اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی۔ 2009ء میں ججوں کی بحالی کیلئے نواز شریف کی قیادت میں نکلنے والا لانگ مارچ‘ حصولِ مقصد کے ساتھ ہی گوجرانوالہ میں ختم ہو گیا حالانکہ گورنر راج کے خلاف اُسے متحرک رکھا جا سکتا تھا۔ اپنی اپنی سیاسی جماعت اور اپنی اپنی جماعتی سیاست کے باوجود دونوں نے افہام و تفہیم سے اٹھارہویں ترمیم منظور کی۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلی قومی اسمبلی تھی جس نے پانچ سال کی آئینی عمر پائی۔ آصف علی زرداری نے اپنی آئینی معیاد مکمل کی۔ 2013ء کے انتخابات پر پیپلز پارٹی نے ''آر او انتخابات‘‘ کی پھبتی ضرور کسی لیکن خان صاحب کی طرح ہنگامہ و پیکار کا میدان نہ سجایا۔ جمہوری روایت کے تحت پارلیمان کا حصہ بن کر حزبِ اختلاف کے بینچوں پر بیٹھ گئی۔ جون 2013ء کے اوائل میں مسلم لیگ (ن) نے حکومت سنبھالی۔ آصف زرداری تین ماہ بعد (9 ستمبر2013ء) تک صدر رہے۔ انہوں نے عارف علوی کی طرح نہ تو اپنی حریف جماعت کیلئے مشکلات پیدا کیں‘ نہ کوئی بل روکا نہ کوئی ریفرنس داغا۔ ہماری ناقابلِ رشک سیاسی تاریخ نے یہ دل کشا منظر بھی دیکھا کہ پہلی بار (اوراب تک آخری بار) وزیراعظم نواز شریف نے رخصت ہونے والے صدر کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ ہمیشہ خفا اور آتش زیرپا رہنے والی تحریک انصاف واحد جماعت تھی جس نے اس کا بائیکاٹ کیا۔
بدقسمتی سے جمہوریت کی پختگی‘ سیاسی جماعتوں کی بلوغت اور نظام کی استواری‘ ہماری روایتی تلاطم مزاج مقتدرہ کیلئے کوئی اچھی پیش رفت نہ تھی۔ دونوں روایتی جماعتوں کو بے دخل کرکے گملے میں ایک نیا گُلِ صد برگ اُگانے کا فیصلہ ہوا۔ ''پراجیکٹ عمران‘‘ کا سنگ بنیاد اکتوبر 2011ء کے لاہوری جلسے میں رکھا جا چکا تھا۔ عمران خان کو یقین دلایا جا چکا تھا کہ 2013ء کے انتخابات سے ان کی وزارتِ عظمیٰ کا آفتاب طلوع ہونے کو ہے۔ خان صاحب اسے جزوِ ایمان بنا چکے تھے لیکن جنرل اشفاق پرویز کیانی نے رخصت ہوتے ہوئے صاف ستھرے انتخابات کو اپنی سب سے اہم ترجیح بنا لیا۔ انتخابات ہوئے۔ خان صاحب شکستِ خواب کا جانکاہ صدمہ برداشت نہ کر سکے۔ مدتوں انگاروں پہ لوٹتے اور سڑکوں پہ رلتے رہے۔ سپریم کورٹ کے ایک کمیشن نے انتخابات کے دھاندلی سے پاک ہونے کی تصدیق کر دی لیکن خان صاحب کے دل و دماغ میں پڑی گرہیں پھر بھی نہ کھلیں۔ 35پنکچروں جیسی کانا پھونسیاں ان کے نزدیک الہامی صداقتوں کا درجہ حاصل کر گئیں۔ نومبر2013ء میں جنرل راحیل شریف کی آمد سے بھی کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی۔ مشرف سے قریبی رشتہ و تعلق اور مدتِ ملازمت میں توسیع کی آرزو نے جنرل راحیل شریف کو وزیراعظم سے دور کردیا۔ وہ جلد ہی ''پراجیکٹ عمران‘‘ کا حصہ بن گئے جو اب ادارہ جاتی مشن بن چکا تھا۔ نومبر 2016ء میں آرمی چیف بننے کے کچھ ہی عرصہ بعد جنرل باجوہ بھی دل و جان سے اس پراجیکٹ میں شامل ہو گئے۔ باقی سب تاریخ ہے۔
آج وطنِ عزیز جس ہمہ جہتی زوال‘ ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ‘ معاشی انحطاط‘ انتشار اور بے یقینی کا شکار ہے اس کی ذمہ داری عمران خان سے کہیں زیادہ ''پراجیکٹ عمران‘‘ کے منصوبہ سازوں کے سَر ہے۔ وہ جنہوں نے اپنے منتخب وزیراعظم کے خلاف سازش کی‘ اپنے اللہ اور آئین سے باندھا گیا عہدِ وفا توڑا‘ مطلوبہ فیصلوں کیلئے ججوں کو دھمکایا‘ برسوں کی محنت ضائع ہو جانے کی دہائی دی‘ جھوٹے مقدمے بنائے‘ سرینا کے شاپرز میں فیصلے فراہم کیے اور مستحکم جمہوری روایات کی طرف بڑھتے ہوئے جمے جمائے سیاسی عمل کو ''طوائف الملوکی‘‘ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ سقوطِ ڈھاکہ سے کچھ کم سانحہ نہیں۔ آگے بڑھنے کے بجائے ہم اس کوشش میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں کہ کس طرح پاکستان کو 2017ء کی سطح پر واپس لے کر آئیں۔''طوائف الملوکی‘‘ رقص کناں ہے۔ ادارہ جاتی کشمکش تھمنے میں نہیں آرہی۔ عدلیہ اب مقننہ بھی بن چکی ہے اور انتظامیہ بھی۔ اس نے آزاد و خود مختار آئینی ادارے الیکشن کمیشن کے اختیارات بھی سلب کر لیے ہیں۔ سیاست کے میدان میں دھاڑتا چنگھاڑتا سوموٹو‘ وطنِ عزیز کو تماشا بنانیوالوں کا رُخ کرتے ہی خرگوش کی طرح کسی جھاڑی میں دبک جاتا ہے۔ پارلیمنٹ خود کو تمام اداروں کی ''ماں‘‘ سمجھتے ہوئے اپنی مادرانہ عزت و عظمت کیلئے پورے قد سے اٹھ کھڑی ہوئی ہے لیکن ''جری ماں‘‘ کو بھی ہمت نہیں ہورہی کہ اپنے ناخلف بیٹوں کا نام تک لے۔ اُدھرنہایت ذوق و شوق سے'طوائف الملوکی‘ کی فصل کاشت کرنے‘ اپنے اداروں کی حرمت وآبرو کو کھاد کے طور پر استعمال کرنے اور اُس کی نگہداشت کیلئے اپنے ادارے کو خار دار باڑ بنا لینے والے سارے زندہ و موجود کردار‘ اپنی تمام تر مراعات اور سہولیات سے لطف اٹھاتے ہوئے پُرتعیش گھروں کی بالکونیوں میں بیٹھے‘ سگار پیتے‘ گرماگرم کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے 'طوائف الملوکی‘ کے بھنور میں غلطاں پاکستان کا نظارہ کر رہے ہیں‘ کوئی نہیں جو پاکستان کو پاتال میں دھکیلنے والے فتنہ گروں کو کٹہرے میں لائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved