تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     20-09-2013

سرخیاں اُن کی، متن ہمارے

حکومت اہداف کے حصول کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے …نواز شریف وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ’’حکومت اہداف کے حصول کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے‘‘ اگرچہ ہماری نظر یں مال پر بھی ہیں لیکن ابھی اس کے لیے مناسب وقت نہیں آیا، اسی لیے کافی حدتک ہاتھ روکے ہوئے ہیں ، اور جہاں تک مالا کا تعلق ہے تو اقتدار کی یہ کانٹوں بھری مالا غیبی فرشتوں نے خواہ مخواہ ہمارے گلے میں ڈال دی ہے، چنانچہ ان میں سے فالتو صلاحیتیں ہم ایکسپورٹ بھی کرسکتے ہیں تاکہ دنیا والوں کا بھی کچھ بھلا ہوجائے، ہیں جی؟انہوں نے کہا کہ ’’5سال میں کم لاگت کے 5لاکھ گھر تعمیر کریں گے ‘‘ اور اگر مزید 5سال مل جائیں تو یہ گھر 10لاکھ ہو جائیں گے اور اسی طرح قیامت تک یہ سلسلہ فی سال ایک لاکھ مکانات کے حساب سے بڑھتا رہے گا بلکہ کوشش کریں گے کہ قیامت کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ترک سرمایہ کاروں کو تمام سہولتیں دیں گے‘‘ کیونکہ ہم ماشاء اللہ سہولتوں سے بھی مالا مال ہیں جو ہماری مجموعی صورت حال سے صاف ظاہر ہے ، آپ اگلے روز استنبول میں بزنس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ این اے 25میں وزیراعلیٰ نے انتخابی مہم چلائی …فضل الرحمن جمعیت علما ئے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ’’این اے 25میں وزیراعلیٰ نے انتخابی مہم چلائی جس کا ہمیں بروقت پتہ ہی نہ چلا جس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ موصوف نے سلیمانی ٹوپی پہن کر یہ سارا کام کیا کیونکہ وہ ایسا کرتے ہوئے ہمیں نظر ہی نہیں آئے جبکہ ذرا فاصلے سے دیکھا جائے تو وہ بمشکل ہی نظر آتے ہیں؛ چنانچہ ہم الیکشن کمیشن سے اس کی شکایت بھی نہ کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’سرکاری وسائل استعمال کیے گئے ‘‘ اس کے علاوہ پیپلزپارٹی سمیت جملہ غیراسلامی قوتیںہمارے خلاف اکٹھی ہوگئی تھیں کیونکہ زرداری صاحب مجھ سے ناراض تھے حالانکہ ناراض مجھے ہونا چاہیے تھا کیونکہ 50کروڑ کا ٹیکہ وہ مجھے لگاچکے تھے نہ کہ میں، اس لیے ناراض تو مجھے ہونا چاہیے تھا لیکن میں نے صبر کیا کیونکہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے، اگرچہ ضمنی الیکشن میںہارنے کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی ، حتیٰ کہ کوئی غیر معقول وجہ بھی سمجھ میں نہیں آرہی۔ آپ اگلے روز ڈیرہ اسمٰعیل خاں میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ طالبان سے مذاکرات شروع ہوچکے ہیں …پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ’’طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہوچکے ہیں ‘‘ اگرچہ طالبان نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم حکومت اور ایجنسیوں نے جو طالبان گرفتار کیے تھے، ان سے بات چیت جاری ہے کیونکہ دیگر طالبان نے جو شرائط پیش کی ہیں، انہیں تسلیم تو کیا جاسکتا ہے، لیکن ان کا اعلان کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے جبکہ کچھ علاقوں سے ان کے مطالبے پر فوج بھی واپس بلانے کا اعلان کردیا گیا تھا جس میں وزیراعلیٰ پختونخواکا اقدام جرأت مندانہ اور قابل تعریف تھا لیکن عدلیہ نے ایک نہیں چلنے دی اور یہ واپسی روکنی پڑ گئی، اس لیے طالبان حضرات کے سامنے ہماری پوزیشن واضح ہے کہ ہم نے تو ان کا ایک مطالبہ ایک طرح سے مان ہی لیا تھا، اس لیے ہم پروہ راضی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’امن کے لیے تمام رکاوٹیں دور کریں گے ‘‘ جبکہ ان کے بندے بھی ملابرادر سمیت ایک ایک کرکے رہا کیے جارہے ہیں، نیز ان کے علاوہ بھی ان کا کوئی معقول مطالبہ ہوا تو اس پر بھی ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد پریس کلب میں خطاب کررہے تھے۔ شہباز شریف وزیراعظم بننے کی ریہرسل میں مصروف ہیں …محمودالرشید اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمودالرشید نے کہاہے کہ ’’میاں شہباز شریف وزیراعظم بننے کی ریہرسل میں مصروف ہیں ‘‘ اس کے علاوہ ایسا لگتا ہے کہ میاں نواز شریف ان کی جگہ وزیراعلیٰ بننے کی درپردہ کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب کو اچھی طرح سے سنبھال لیں گے جس کے لیے انہیں ریہرسل کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ ایک بار وہ وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں جبکہ شہباز شریف ابھی ایک بار بھی وزیراعظم نہیںبنے،اگرچہ اندرخانے حمزہ شہبازبھی اسی تیاری میں لگے ہوئے ہیں اور ہوسکتا کہ نواز شریف کو مجبوراً صدر بننا پڑجائے تاکہ ملک کو ان تینوں عہدوں کے لیے ادھر ادھر نہ دیکھنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حمزہ شہباز ہیلی کاپٹر استعمال کررہا ہے جو غریب عوام پر ظلم ہے ‘‘ کیونکہ یہ بناہی غریب عوام کے لیے ہے اور جب ہماری حکومت آئی تو ہم اسے غریب عوام کے لیے مخصوص کردیں گے جو دن رات میٹروبسوں میں خوار ہوتے پھرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت 100دنوں میں مکمل ناکام ہوچکی ہے ‘‘ اور، یہ بات مجھے دوتین کارکنوں نے بتائی ہے۔ آپ اگلے روز اسمبلی ہال کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ ایم کیوایم کے پاس کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ ہے…فیصل سبزواری ایم کیوایم کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ ’’ایم کیوایم کے پاس کراچی کا 85فیصد مینڈیٹ ہے ‘‘ اور باقی 15فیصد بھی ہمارا ہی تھا جسے سازش کے تحت ہتھیالیا گیا کیونکہ ایم کیوایم کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس سازش کی اطلاع الطاف بھائی بھی دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’حقوق پامال کرنے کی کوشش کی گئی تو آواز اٹھائیں گے ‘‘ جبکہ ہمارا آواز اٹھانے کا طریقہ دوسروں سے ذرا مختلف ہے اور جو سب کو معلوم بھی ہے۔ انہوں نے کہا ’’نئے اضلاع بنانے کا فیصلہ دانشمندی نہیں ‘‘ بلکہ اگر کراچی کا ایک ہی ضلع بنادیا جائے تو یہ عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہوگا اور اس طرح ہم اپنا 15فیصد مینڈیٹ بھی حاصل کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس کو پہلے بھی اسمبلی کے فورم پر چیلنج کرچکے ہیں ‘‘ کیونکہ ضلعے بنانے کی نسبت ملک میں نئے صوبے بنانے پر توجہ دینی چاہیے جس کا مطالبہ الطاف بھائی کئی بار کرچکے ہیں، چنانچہ اس فیصلے کو آئندہ بھی چیلنج کریں گے۔ آپ اگلے روز سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ آج کامطلع ڈوبا ہے گھر ورساد ماں کچھ تو بھی کر ورساد ماں (’’ورساد ماں‘‘ گجراتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں برسات میں)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved