تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     22-05-2023

سیاسی کالموں کی کڑی دھوپ میں

'' ملتان کے دور دراز علاقے موضع پیر تنوں میں چاہ کوڑے والا کے مقام پر میری پیدائش ہوئی جہاں صرف دو گھر تھے‘ ایک ہمارا دوسرا کسی اور کا تھا۔باقی دور دور تک صحرا تھا۔ایک کنارے پر ہماری کچھ زمین تھی۔میرے والد خود ہی کھیتی باڑی کرتے تھے۔ جب میں ساڑھے تین سال کا تھا تو ایک شام جب اندھیرا پھیل چکا تھا‘ میں اور میرے والد گھر کی طرف آ رہے تھے تو انہیں میرے سامنے قتل کر دیا گیا۔ میں کماد کے اس کھیت میں چھپ گیا جہاں وہ لوگ چھپے ہوئے تھے۔وہ انہیں مارنے کے بعد اٹھا کر لے گئے اور آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اور ساری زندگی ڈھونڈنے کے باوجود میں اپنے والد کی قبر بھی تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اور نہ ہی والد کی شبیہ میرے ذہن میں محفوظ رہ سکی‘‘۔
یہ الفاظ طارق نعیم کے ہیں۔ تقریباً نصف صدی پیشتر جب میں طالب علم تھا اور اسلام آباد میں وارد ہوا تو '' گوشۂ ادب نامی تنظیم کے زیر اہتمام مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ بعد میں یہ تنظیم ایک تاریخی ادارہ بن گئی اور آج بھی زندہ اور سرگرم ہے۔ جس اولین دور کی بات کی جا رہی ہے اس میں وفا چشتی‘ شیدا چشتی مرحوم‘اختر شیخ مرحوم‘ ناصر عقیل‘ رفیق سندیلوی‘ انجم خلیق اور بہت سے دوسرے احباب شامل تھے۔ طارق نعیم بھی انہی میں تھا۔ میں اسے گزشتہ پچاس برس سے دیکھ رہا ہوں‘ مل رہا ہوں۔یوں لگتا ہے آج بھی وہ اپنے مقتول اور مظلوم والد کی قبر تلاش کر رہا ہے اور کمال خاموشی اور متانت سے تلاش کر رہا ہے۔ اس تلاش میں اسے کامیابی تو نہ نصیب ہوئی مگر اس کی شاعری میں ایک دھیمی آنچ ضرور در آ ئی جو اسے تو جلا تی ہی رہی ہے‘ اس کے پڑھنے والوں کو بھی اداس کرتی رہی ہے۔اس عرصہ میں اس نے ملازمتیں کیں۔ کاروبار کیے۔ادبی جریدوں کا مدیر رہا‘ مگر جو کام اس نے جم کر کیا اور جو اس کا مستقل ساتھی رہا وہ شاعری تھی۔ شاعری میں اس نے اپنا مقام بنایا۔اس کی غزل چونکا دینے والی ہے۔جس طرح کسی دانہ دار شے کو پانی میں ڈالیں تو وہ اوپر سطح تک آجاتی ہے اسی طرح طارق نعیم کی شاعری بھی‘ ہجوم میں‘ اوپر آتی گئی یہاں تک کہ ممتاز ہو گئی۔ دو وصف اس کی شاعری میں نمایاں ٹھہرے۔ ایک تو اس نے اپنی شاعری کو مفرّس اور معرّب ہونے سے بچایا۔ اضافتوں کا ستعمال کم سے کم کیا۔دوسرے‘ اس نے مطالعہ تو سب شاعروں کا کیا مگر پَرتو کسی کا اپنی شاعری پر نہیں پڑنے دیا۔ اگر اس کی شاعری میں کوئی رنگ ہے تو اس کا اپنا رنگ ہے۔ کئی سال پہلے میں نے جب اس کا یہ شعر سنا
یونہی تو کنجِ قناعت میں نہیں بیٹھا ہوں
خسروی‘ شاہ جہانی مری دیکھی ہوئی ہے
تو مجھ پر سکتہ طاری ہو گیا! کیا شعر ہے اور کیا طمطراق اور جلال ہے ! عباس تابش کے ایک شعر نے اسی طرح دم بخود کر دیا تھا
حالتِ جنگ میں آدابِ خور و نوش کہاں
اب تو لقمہ بھی اٹھاتا ہوں میں تلوار کے ساتھ
طارق نعیم نے شعری کلیات چھپوائی ہے۔'' آنکھ سے آسمان جاتا ہے‘‘۔صُوَری حسن اس کا معنوی حسن سے کم نہیں! سیاسی کالموں کی اس کڑکتی دھوپ میں‘ آئیے! کچھ دیر طارق نعیم کی شاعری کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں چادر بچھا کر‘ بیٹھتے ہیں ! دیکھیے! نرم ہوا کے جھونکوں میں کتنا سکون ہے !!
تم آئے تھے تو مجھے مل کے ہی چلے جاتے
یہیں زمین پہ تھا اور میں کہاں گیا تھا
پلٹ کے دیکھ نہ لیتا اگر وہ جاتے ہوئے
تو میرا جان سے جانا بھی رائگاں گیا تھا
٭......٭......٭
اب آسمان کی بابت نہ مجھ سے پوچھا کرو
بہت دنوں سے مرا آنا جانا ختم ہوا
عجب خراب سی عادت پڑی ہوئی ہے اسے
جہاں وہ ہوتا نہیں ہے‘ وہاں بتاتا ہے
٭......٭......٭
تری گلی کا پتہ جس کسی نے بھی پوچھا
میں ساتھ چلتا گیا راستہ بناتے ہوئے
٭......٭......٭
فرضِ محال تم ہی خدا بن گئے تو پھر
خلقِ خدا کے سامنے آیا کروگے کیا
٭......٭......٭
آسماں تو مرا ہدف نہیں تھا
میرے پیچھے زمیں پڑی ہوئی تھی
٭......٭......٭
میں کائنات کے بارے میں کیا بتاؤں تمہیں
مجھے تو ٹھیک سے اپنا بھی کچھ پتہ نہیں ہے
٭......٭......٭
ہم نے جس شخص کو مسند پہ بٹھایا ہوا ہے
اس نے تو ایک تماشا سا بنایا ہوا ہے
ایسے لگتا ہے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں
واعظِ شہر بھی فردوس میں آیا ہوا ہے
میں اسے دیکھ کے آیا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
شہر کا شہر مجھے دیکھنے آیا ہوا ہے
پہلے رہنے ہی نہ دیتے تھے مجھے شہر کے لوگ
اب مرے نام پہ اک شہر بسایا ہوا ہے
٭......٭......٭
تجھے قسم ہے مرے ہمسفر! سفر کے بعد
کوئی بھی بات کسی کو نہیں بتانی مری
عدو بھی ہو تو اسے خوش رخی سے ملتا ہوں
میں کیا کروں یہ روایت ہے خاندانی مری
٭......٭......٭
کچھ دنوں کے لیے یہاں میرا
عارضی انتظام ہو گیا ہے
٭......٭......٭
بادشاہی تو فقیری میں بھی ہو جاتی ہے
تخت سے تاج سے دربار سے ہوتا کیا ہے
٭......٭......٭
میں داستان سرائے میں جاتا رہتا ہوں
کہیں کہیں سے یہ قصہ مرا سنا ہوا ہے
ستارو آؤ ذرا دیر مل کے بیٹھتے ہیں
ستارہ ساز کہیں کام سے گیا ہوا ہے
٭......٭......٭
میں کائنات کو آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں
سنی سنائی پہ جاتا تو مار کھا جاتا
٭......٭......٭
ہوتی اگر نہ کوئی گواہی مرے خلاف
پھر بھی امیر شہر تو تھا ہی مرے خلاف
٭......٭......٭
پڑنے لگا تھا ایک خلل سا اڑان میں
رستے سے آسمان ہٹانا پڑا مجھے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved