تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     28-05-2023

کچھ دھیان ادھر بھی میرے وزیر اعظم!

عمران خان کو سیاست سے کیسے آؤٹ کیا جائے ؟ جس رفتار سے کھلاڑیوں کی وکٹیں گر رہی ہیں تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہو گا ؟ کیا تحریک انصاف کا حال بھی وہی ہونے والا ہے جو ماضی میں مسلم لیگ (ق) اور پیپلزپارٹی کا ہوا تھا یا پھر تحریک انصاف کو دو دہائیاں پہلے اسی مقام پر لے جایا جا رہا ہے جہاں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والوں کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا؟ نو مئی کے واقعات کی آڑ میں حکومت تحریک انصاف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے الیکشن سے باہر کرنے کا پلان تو نہیں بنا رہی ؟ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہونے کے دعویدار عمران خان کے آؤٹ ہونے کے بعد منظر نامہ کیا ہوگا؟ علی زیدی گئے‘ فواد چودھری بھی چھوڑ گئے‘ اسد عمر بھی چھوڑ گئے‘ مسرت چیمہ اور جمشید چیمہ بھی خیر باد کہہ گئے شیریں مزاری نے بھی راہیں جد کرلیں‘ اب اگلا کون ہوگا؟ آج کون پریس کانفرنس کرے گا ؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل ہر کسی کی زبان پر ہیں‘ کوئی ادبی پروگرام ہو‘ کوئی ٹی وی پروگرام ہو‘ دوستوں کے ساتھ نجی محفل ہو یا شادی بیاہ کی تقریب‘ ہر جگہ گفتگو انہی سوالات کے گرد گھومتی ہے‘ حکومت بھی اس وقت سوچ رہی ہے کہ کسی طریقے سے عمران خان کو سیاست سے باہر کیا جائے‘ اگر کسی چیز کے متعلق حکومت نہیں سوچ رہی تو وہ ہیں ملکی معاشی حالات جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔مانا کہ سانحہ نومئی ایک بڑا سانحہ تھااور اس میں ملوث افراد کیخلاف فوجی کارروائی بھی ہونے جارہی ہے۔اگر عمران خان براہ راست اس میں ملوث تھے تو ان کیخلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔مگراس ملک کا بڑا مسئلہ اس وقت معیشت ہے جس کے بارے میں عالمی ریٹنگ ایجنسیز کہہ چکی ہیں کہ اگر پاکستان کی معیشت کو امداد کی آکسیجن نہ لگی تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ جب ان کی حکومت آئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ یہی بات عمران خان بھی کرتے رہے ہیں مگر اُس وقت شہباز شریف سمیت پوری( ن) لیگ یہ شور ڈالتی تھی کہ عمران خان اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے اس طرح کے جواز بنا رہے ہیں۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ مہنگائی اتنی ہے کہ وہ کہاں منہ چھپائیں۔تو اس کے لیے عرض یہ ہے کہ منہ چھپانے کی بجائے معیشت پر توجہ دیں۔ مہنگائی کو کم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کریں۔
شہباز شریف اور اتحادیوں نے حکومت لی ہی اس دعوے سے تھی کہ عمران خان نے معیشت کو تباہ کر دیا۔وہ خود کو تجربہ کار اور عمران خان کو اناڑی کہتے تھے۔تو شہباز شریف صاحب اب کہاں گئی آپ کی تجربہ کاری کہ اب آپ کو منہ چھپانا پڑ رہا ہے۔شہباز شریف کے اس بیان میں یہ اعتراف ہے کہ ان کی معاشی ٹیم مہنگائی کو کم کرنے اور معیشت کو سنبھالنے میں بُری طرح ناکام ہوچکی ہے۔اب تو وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب سے بھی میڈیا کے لوگ مزہ لینے کیلئے پوچھتے ہیں کہ ڈار صاحب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کب ہوگا۔جس کے بعد اسحاق ڈار نظریں چُرا کر نکل جاتے ہیں۔یہ وہی اسحاق ڈار تھے جو کہہ تھے کہ وہ لندن سے پاکستان آئے تو اس وجہ سے ڈالر نیچے آگیالیکن آج ڈالر 300 سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ صورتحال ایسے ہی رہی تو شاید آنے والے دو سے تین ماہ میں ڈالر 400 تک جا پہنچے۔سچ تو یہ ہے کہ آج حکومت سے معیشت سنبھل نہیں رہی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شہباز شریف کو اسحاق ڈار نے مروایا ہے۔یہ وہی اسحاق ڈار تھے جو مفتاح اسماعیل یعنی اپنے ساتھی پر ہی سخت تنقید کیا کرتے تھے اور اب وہ بھی انہی پالیسیوں کو فالو کر رہے ہیں جن کو اپنانے سے وہ گریزاں تھے۔بنیادی طور پر اسحاق ڈار کو بس وزارت خزانہ کی کرسی پر بیٹھنا تھا۔وہ سمجھ رہے تھے کہ یہ 2013ء کا دور چل رہا ہے جس میں وہ چُٹکی بجاتے ہی معیشت کو سنبھال لیں گے۔ڈار صاحب کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ چھ سالوں سے باہر بیٹھے تھے اور پاکستان میں معیشت کے حالات بہت بدل چکے ہیں۔ میں ادارہ شماریات کی رپورٹ کی بات کروں تو اس کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان کی فی کس آمدنی میں 198 ڈالرکی کمی ریکارڈ کی گئی۔ موجودہ مالی سال فی کس آمدن 1568 ڈالر رہی جو پچھلے مالی سال 1766 ڈالر تھی‘ یعنی ایک سال میں فی کس آمدن میں 11.38 فیصد کمی آئی۔ادارہ شماریات کے مطابق ملکی معیشت کے مجموعی حجم میں 33.4 ارب ڈالرکی کمی ریکارڈ ہوئی ہے‘ سال 23-2022ء میں معیشت کا حجم 375 ارب ڈالر سے کم ہوکر341.6 ارب ڈالر پر آگیا۔اس سے بھی حیران ا ور پریشان کن اعداد وشمار شرح نمو کے حوالے سے سامنے آرہے ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کو معاشی اہداف کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق رواں مالی سال 23-2022ء کے دوران جی ڈی پی گروتھ سمیت کوئی بھی معاشی ہدف پورا نہیں ہوسکا‘ شرح نمو 5 فیصد کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں صفراعشاریہ 8 فیصد رہی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کوئی بھی معاشی ہدف پورا نہ ہوسکا‘ جبکہ سیلاب اور ڈالرکے بڑھتے ایکسچینج ریٹ نے جی ڈی پی کونقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے کی شرح نمو کا ہدف 3.9 فیصد مقرر کیا گیا تھا‘ مگر صرف سیلاب سے زراعت کو 297 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ سیلاب سے کپاس کی فصل کو 205 ارب‘ کھجور7کو ارب اور چاول کی فصل کو 50 ارب کا نقصان برداشت کرنا پڑا جس کی وجہ سے مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ عمران خان بڑی حد تک آئی ایم ایف کا معاہدہ نہ ہونے کے ذمہ د ار ہیں۔انہوں نے پہلے معاہدہ توڑا اور اس کے بعد شہباز حکومت کو کافی مشکلات پیش آئیں لیکن بدقسمتی سے ڈار صاحب نے بھی وہی کیا اور عمران خان کی طرح انہوں نے بھی آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ دیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف وہ شرائط بھی منوا رہا ہے جو معاہدے کا حصہ ہی نہیں۔عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں چار وزرائے خزانہ تبدیل کیے‘معیشت پر تجربے کیے‘جس کا نتیجہ یہ نکلا کے آج معیشت کھوکھلی ہورہی ہے۔میں ان سے بھی یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ اقتدار میں آنے کیلئے ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر فرض کریں وہ اقتدار میں آجاتے ہیں تو ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہوگی جس کی وجہ سے وہ معیشت کو پھر سے پٹری پر چڑھانے میں کامیاب ہوجائیں گے؟میں سمجھتا ہوں کہ حکومت ہو یا پھر عمران خان دونوں معیشت کی تباہی کے برابر کے ذمہ دار ہیں‘لیکن افسوس کوئی بھی یہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ایک طرف اقتدار کے حصول کی جنگ جاری ہے اور دوسری جانب اقتدار بچانے کیلئے جنگ لڑی جارہی ہے۔جس میں کوئی جیتے یا نہ جیتے لیکن عوام ضرور ہار جائیں گے۔ اگر ہماری معیشت کی حالت مزید نازک ہوگئی تو پھر معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کہلانے والے متوسط طبقے کو بھی کھانے کے لالے پڑسکتے ہیں‘لیکن بظاہر ہمارے سیاستدانوں کو صرف اپنی سیاست بچانے کی پڑی ہے۔ماہرین معیشت کے بقول ہماری معیشت سری لنکا سے بھی برے حالوں میں ہے۔سری لنکا تو ڈیفالٹ کرچکا ہے‘اگر خدانخواستہ ہم ڈیفالٹ کرگئے تو پھر بات کہاں تک پہنچ جائے گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ حکومت جانتی ہے کہ وہ معیشت سنبھالنے میں ناکام ہے اس لیے الیکشن سے بھی راہِ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ الیکشن ہوگئے تو اس حکومت کی مہنگائی اور بری معیشت کی وجہ سے جھاڑو پھر سکتا ہے‘اس لئے وزیر اعظم صاحب آپ سے یہی درخواست ہے کہ اپنی گونا گوں مصروفیات میں سے تھوڑا سا وقت نکال کر ڈوبتی معیشت کی طرف بھی دھیان دیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved