تحریر : آصف عفان تاریخ اشاعت     29-05-2023

اگلی منزل‘ اگلی گھات

احسان فراموشیوں‘ موقع پرستیوں‘ خود غرضیوں اور شخصیت پرستی کا جہاں ایک اور عہد اپنے انجام کو پہنچا وہاں پچھتاوؤں اور پشیمانیوں کا وہ سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے جو چلنے والوں کے لیے یقینا کٹھن اور دشوار گزار ہوگا۔ دھرتی ماں کا یہ المیہ رہا ہے کہ اس نے جنہیں حکمرانی اور اختیارات جیسی نعمتوں سے مالا مال کیا وہ اسے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے چلے آرہے ہیں۔ ماضی کے سبھی حکمرانوں سے لیکر لمحۂ موجود تک سبھی نہلے پہ دہلے اور ایک سے بڑھ کر ایک ریاکار‘ بے وفا اور بد عہدی کے چیمپئن ثابت ہوئے ہیں۔ مقامِ شکر ہے کہ سبھی نام نہاد لیڈروں اور رہنماؤں کے نیت اور ارادوں سے لیکر دلوں کے بھید بھاؤ اور سبھی دھندے اور ایجنڈے بے لباس ہو چکے ہیں۔ کوئی ایسا سماج سیوک نیتا لائن میں نہیں جسے آزمانا باقی رہ گیا ہو۔ کسی کے پاس کوئی عذر ہے نہ جواز کہ اسے اقتدار ملتا تو وہ عوام کے لیے ستارے بھی توڑ لاتا۔ اسے مینڈیٹ ملا ہوتا تو وہ انقلابی اصلاحات کر ڈالتا جس کے نتیجے میں دودھ کی نہریں بہتیں اور ملک بھر میں خوشحالی اور ہریالی ہوتی‘ قانون کی بالا دستی اور سماجی انصاف طرزِ حکمرانی ہوتا‘ نہ میرٹ تار تار ہوتا نہ گورننس شرمسار رہتی۔عوام سبھی کو بھگت چکے ہیں۔
آئندہ الیکشن میں خدا جانے کون کیا چورن بیچے گا‘ کون سا نیا جھانسا یا دلاسا دے کر مینڈیٹ ہتھیانے کی کوشش کریں گے۔ کارکردگی اور ساکھ سمیت کسی کے پَلے کچھ نہیں‘ کہیں بیانیوں کی پٹاری بھی خالی ہو چکی ہے تو کہیں دلفریب وعدوں اور جھانسوں سے لے کر گمراہ کن اعداد و شمار پر مبنی معاشی استحکام اور اقتصادی اصلاحات کا ٹوکرا اُلٹا پڑا ہے۔ چند سال قبل کس طرح پی ٹی آئی کی چھتری پر غول در غول پرندے جا بیٹھے تھے‘آج سبھی ایک ایک کر کے اس طرح اُڑتے جا رہے ہیں کہ ہر طرف اُلّو بول رہا ہے۔ پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کے اپنے اپنے عذر‘ جواز اور مجبوریاں ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کے بجائے یہ پہلو زیادہ اہم اور غور طلب ہے کہ یہ سبھی کون ہیں اور کہاں سے آئے تھے؟ 2018ء کے الیکشن سے پہلے لائن میں لگ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے ہر دور میں شریکِ اقتدار رہنے کے گُر سے بخوبی واقف ہیں۔ پی ٹی آئی کا ٹائٹینک ڈوبتا دیکھ کر یہ بھی چھلانگیں مار کر بھاگ نکلے۔اگلی منزل اور اگلی گھات کا تعین یقینا اگلا اشارہ ہی کرے گا۔ یہ سبھی اشاروں کی زبان بخوبی سمجھتے ہیں‘ اشارہ ملتے ہی قائد اور پارٹی اس طرح بدل لیتے ہیں جیسے گرگٹ رنگ بدلتا ہے۔ ان سبھی کا کردار اور تاریخ گواہ ہے کہ جو جتنا بڑا قدآور وہ اس سے کہیں بڑ اضرورتمند ثابت ہوتا ہے۔ ان کی ضرورتیں ہی انہیں دربدر بھٹکاتی پھرتی ہیں۔
تعجب ہے! بدترین حریف سیاسی جماعت میں شامل ہو کر سابقہ جماعت پر تنقید کا ظرف اور حوصلہ کہاں سے لاتے ہیں؟ ہر دور میں شریکِ اقتداررہ کر بھی سابقہ ادوار کی طرزِ حکمرانی پر کس ڈھٹائی سے تنقید بھی کیے چلے جاتے ہیں۔ آئین و حلف سے انحراف سے لے کر عوام سے بے وفائی اور دروغ گوئی کی داستان اس قدر طویل اور دردناک ہے کہ ایسے درجنوں کالم بھی ناکافی ہیں۔ تحریک انصاف کی راج نیتی میں داخل ہونے سے پہلے مملکتِ خداداد پر دوپارٹی نظام چل رہا تھا جو باریاں لگا کر اقتدار کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو زیر عتاب رکھنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ عمران خان نے نئے پاکستان اور تبدیلی کا نعرہ لگایا تو عوام سچ سمجھ بیٹھے مگر 2018ء انتخابات کے بعد نئے پاکستان کے رنگ ڈھنگ‘ طور طریقے اور اندازِ حکمرانی کے روپ بہروپ دیکھ کر پرانے پاکستان کو ترس گئے۔ تبدیلی کا سونامی عوام کی اُمیدوں‘ آسوں اور خوش گمانیوں کو اس طرح بہا لے گیا کہ عوام بے اختیار چیخ اٹھے کہ: بہار آئے نہ آئے خزاں چلی جائے۔
انصاف سرکار نے گورننس اور میرٹ کی درگت بنانے کے ساتھ ساتھ سماجی انصاف اور کڑے احتساب کے بیانیے کا جو حشر نشر کیا اس نے تو پورے سسٹم کی چولیں ہلا ڈالیں۔ وزیروں‘ مشیروں سے لے کر مصاحبین اور سرچڑھے سرکاری بابوؤں نے ایسے ایسے چاند چڑھائے کہ عوام کے سبھی خواب گہنا کر رہ گئے۔ نامعلوم اہلیت اور صفر کارکردگی کے حامل چیمپیئنز کی ٹیم نے عمران خان کے ویژن سے لے کر سبھی دعوؤں اور وعدوں کو رن آؤٹ کروا ڈالا۔ انتظامی عہدوں کی بندر بانٹ اور بولیاں اس طرح دیکھ کر منڈی کا گماں ہوتا تھا۔ شریف برادران اور زرداری اینڈ کمپنی کی جن وارداتوں کی گھنٹوں داستانیں سنایا کرتے تھے‘ ان کی کرپشن اور طرزِ حکمرانی کے وائٹ پیپر لہرایا کرتے تھے‘ ان کے جن فیصلوں اور اقدامات سے آپ گھن کھایا کرتے تھے‘ برسرِ اقتدار آتے ہی ان سبھی کے ریکارڈ کئی اضافوں کے ساتھ توڑتے چلے گئے۔
امریکی مداخلت اور بیرونی سازش کا بیانیہ جس لیبارٹری میں تیار کیا گیا تھا اس کے سبھی کیمیا دان ایک ایک کر کے نہ صرف منحرف ہو چکے ہیں بلکہ یہ عقدہ بھی کھول ڈالا ہے کہ یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ محض جناب کی ذہنی اختراع تھی۔ عوام کو گمراہ کرنے اور جذبات سے کھیلنے کا جو ڈھونگ آپ نے رچایا تھا اس کا پول تو کب کا کھل چکا ہے۔ حصولِ اقتدار کے لیے ماضی کے سبھی حکمرانوں کی طرح آپ نے کون سا جھوٹ نہیں بولا؟ عوام کو گمراہ کرنے سے لے کر بے وفائیوں کے وہ سبھی ریکارڈ تنِ تنہا بنا ڈالے جو ماضی کے سبھی حکمران مل کر بھی نہ بنا سکے تھے۔ کوئے اقتدار سے نکالے جانے کا صدمہ آپ کو اس مقام پر لے آیا کہ غیرتِ قومی سے لے کر قومی سلامتی کے تقاضے بھی فراموش کر بیٹھے۔ بھارت جو نقصان 75سالوں میں بھی نہ پہنچا سکا وہ جناب کی شعلہ بیانیوں نے چند مہینوں میں اس طرح پہنچایا کہ اس کی تلافی اور ازالہ ممکن نظر نہیں آتا۔ پاک فوج کی شخصیات پر الزام تراشی اور ہرزہ سرائی تو ایک طر ف میر جعفر اور میر صادق کے استعارے استعمال کرنا وطن دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ گرفتاری کے روز اسلام آباد روانگی سے قبل جاری کردہ ویڈیو پیغام میں عوام کو ورغلانے‘ اکسانے اور بھڑکانے کے علاوہ اداروں کے خلاف کون سا زہر نہیں اگلا‘ اپنے بچوں اور دیگر اہل خانہ کو کو گھروں میں رہنے کی تاکید کرکے عوام بالخصوص نوجوانوں کو ذاتی خوہشات اور عزائم کی تکمیل کیلئے غیر قانونی اور تخریبی سرگرمیوں کا ایندھن بنا ڈالا۔ عمران خان صاحب! افسوس‘ صد افسوس آپ کو بھی ہوس اقتدار کے مارے ہی نکلے‘ عوام نے مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی کی باریوں سے تنگ آکر مینڈیٹ دیا تھا‘ ان خوابوں میں حقیقت کے رنگ بھرنے کیلئے منتخب کیا تھا جو آپ انہیں تواتر سے دکھاتے آرہے تھے‘ ان بنیادی حقوق کے حصول کیلئے اقتدار کا موقع دیا تھا جو بحیثیت شہری آج تک انہیں ملے ہی نہیں‘ صرف آپ ناکام نہیں ہوئے‘ عوام بھی مایوس اور نامراد رہے ہیں‘ افسوس آپ بھی انہی حکمرانوں کا تسلسل نکلے جن سے بیزار عوام نے جناب کو حکمرانی کا تاج پہنایا تھا۔ کبھی فرصت ملے تو اپنی ناکامیوں کی وجہ اپنے فیصلوں اور طرزِ سیاست میں تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ان موقع پرستوں اور خوشامدیوں پر بھی غور کریں جو جی حضوری کے علاوہ اوٹ پٹانگ مشوروں کی فیکٹری تھے۔ اس وقت بھی باور کراتا رہا ہوں کہ ارد گرد پائے جانے والے اکثر ڈیوٹی پر ہیں‘ ڈیوٹی ختم ہوتے ہی اگلی منزل‘ اگلی گھات کی طرف روانہ ہوجائیں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved