تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     16-06-2023

فرمانِ رسولﷺ کی روشنی میں قائداعظمؒ کا ماٹو

اللہ تعالیٰ کے محبوب‘ آخری رسول حضور نبی کریمﷺکا ایک ایسا فرمان ہے جو رحمت کا ایک سمندر ہے‘ ایک عظیم تحفہ ہے‘ جس میں مؤمن کے لیے دنیا و آخرت کی کامرانی کا خوش کن پیغام ہے۔ حضور اکرمﷺ فرماتے ہیں ''نضر اللہ اِمراً‘‘ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا چہرہ شاداب رکھے۔ جی ہاں! حضورﷺ کی دعا ہے مگر مشروط ہے۔ پیغام یہ ہے کہ شرط پوری کر دو اور مولا کریم کے محبوب حضور کریمﷺ کی نورانی دعا کے نورانی محل میں داخل ہو جائو۔
حضرت محدث امام یحییٰ بن شرف نوویؒ(و فات 676ھ) ''نضر‘‘ کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ چہرے اور حسن کی رونق ہے۔ دل کی فرحت، سرور اور لذت ہے۔ یہ ظاہری اور باطنی لذتیں ایسے شخص کے لیے ہیں جو حضور کریمﷺ کے فرمان کی شرط کو پورا کرے گا۔ امام نووی دلیل کے طور پر قرآنِ مجید کی تین آیات لائے ہیں، جن میں ''نضرۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ فرمایا ''قیامت کے دن کے مصائب سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بچائے گا‘ انہیں چہرے کا حسن اور دل کا سرور عطا فرمائے گا‘‘(الدھر: 11)۔ ''بہت سارے چہرے اس روز پُررونق ہوں گے‘‘ (القیامہ: 22)۔ ''(میرے محبوب) آپ ان لوگوں کے چہروں پر حسن و رونق کی نعمت کو واضح اور عیاں پائیں گے‘‘ (المطففین: 24)۔
قارئین کرام! واضح ہو گیا کہ جو شخص رب کریم کے رسول کریمﷺ کی دعا کے دائرے میں داخل ہو گیا‘ اسے اطمینان، سرور اور شادابی کی نعمت دنیا میں بھی ملے گی‘ قبر میں بھی میسر آئے گی‘ حشر کی حشرسامانیوں میں بھی ملے گی اور جنت میں تو ضرور بالضرور ملے گی۔
آئیے! اب اس نعمت کے ملنے کی جو شرط ہے‘ اسے ملاحظہ کریں: حضرت رسول کریمﷺ فرماتے ہیں کہ ''للہ تعالیٰ ایسے شخص کا چہرہ شاداب رکھے جس بندے نے میرے فرمان (حدیث) کو سنا، اسے توجہ سے سنا، پھر اسے حفظ کر لیا، اس کے بعد اسے آگے پہنچا دیا۔ (کیونکہ) ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث کے سننے والے ایسے لوگوں تک میرا فرمان پہنچا دیتے ہیں جو علمی طور پر زیادہ دانشور (زیادہ یاد رکھنے والے اور عملی زندگی پر اطلاق کرنے والے) ہوتے ہیں‘‘۔ اللہ اللہ ! ثابت ہوا کہ جو شخص حضور کریمﷺ کے دیے ہوئے علم کو آگے پہنچائے گا وہ حضور کریمﷺ کی دعا کے نورانی محل کا مکین بن جائے گا۔
جو شخص حضور اکرمﷺ کی حدیث اور سنت کو پھیلانے کا کام کرے گا‘ اس کے حوالے سے درج بالا حدیث کی شرح میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہونے والے فضیلۃ الشیخ علوی بن عبدالقادر السّقاف فرماتے ہیں: حضور نبی کریمﷺ کی دعا کا اطلاق قیامت تک ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور ان کے بعد ایسے سب لوگوں کے لیے ہے جو حضور اکرمﷺ کے پیغام کو آگے پہنچائیں گے۔
قارئین کرام! اس کے بعد ایسے داعی لوگوں کے لیے اللہ کے رسولﷺ رزلٹ اور نتیجہ بھی سناتے ہیں یعنی دنیا میں ان کا کردار کیسا ہوگا؟ ارشاد فرمایا '' تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مؤمن کا دل خیانت نہیں کرتا۔1: اللہ کو خوش کرنے کے لیے اخلاص کے ساتھ کردار ادا کرتا ہے۔2: مسلمان حکمرانوں کے لیے خیر خواہی کرتا ہے۔3: مسلمانوں کی اجتماعیت(اجتماعی مفاد کے امور) میں شامل رہتا ہے۔ لہٰذا ان کی دعا اور دعوت ان کو حفاظتی تحویل میں لیے رکھے گی‘‘ (ابن ماجہ: 3056، ترمذی2658، اسناد الحدیث صحیح) واضح رہے کہ حدیث شریف کے آخر پر ''دعوۃ‘‘ کا لفظ آیا ہے، محدثین نے اس سے دعا اور دعوت دونوں مراد لیے ہیں یعنی یہ دعوت دی جائے گی تو تین خوبیاں بھی پیدا ہوں گی اور حضور کریمﷺ کی دعا کا حصار بھی ملے گا جو دنیا و آخرت میں کام آئے گا۔
قارئین کرام! مذکورہ حدیث شریف میں ایک لفظ ''یغل‘‘ آیا ہے۔ شیخ السقاف فرماتے ہیں کہ ''ی‘‘ پر پیش ہو تو اس کا معنی ہے کہ وہ خیانت نہیں کرتا اور اگر ''ی‘‘ پر زبر ہو تو اس کا مطلب ہے وہ کینہ اور بغض نہیں رکھتا۔ امام شمس الدین المعروف ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص اس قدر صاف شفاف دل والا ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کا ولی بن جاتا ہے۔(مدارج السالکین، 2/90) یاد رہے! مندرجہ بالا کردار کو امام ابن تیمیہؒ دنیا و آخرت کا نظم (ڈسپلن) قرار دیتے ہیں۔(مجموع الفتاویٰ،18/1)امام ابن تیمیہ مزید فرماتے ہیں کہ حضرت فضل بن عیاضؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ '' اگر ہمیں معلوم ہو جائے کہ ہماری دعا اللہ کے ہاں ضرور قبول ہو گی تو تب (ہم کچھ اور کے بجائے) ایسی دعا مانگیں گے جو حکمرانوں کی خیر خواہی میں ہوں گی۔(السیاسۃ الشرعیۃ، صفحہ: 137 تا 138)
ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ 9مئی 2023ء کو ہمارے وطن عزیز میں جو کچھ ہوا‘ وہ انتہائی بھیانک تھا۔ وطن عزیز پاکستان کا جو اجتماعی نظم اور ڈسپلن تھا اس کو تہ و بالا کرنے کا یہ پروگرام تھا‘ جو الحمد اللہ ناکام ہوا۔ اسے ناکام ہونا ہی تھا کہ ہماری افواج کا جو ڈسپلن ہے‘ وہ دنیا بھر میں مانا جاتا ہے۔ جن ملکوں کا یہ ڈسپلن ٹوٹ گیا ان کا کوئی پرسانِ حال نہ رہا۔ عراق، یمن، شام، لبنان، لیبیا اور اب سوڈان کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ میں کئی سالوں سے کہہ اور لکھ رہا ہوں کہ جو بیرونی اور اندرونی قوتیں ایسے خواب دیکھتی ہیں‘ پاکستان میں وہ یقینا ناکام ہوں گی۔ سب سے بڑی کوشش پاکستان کی تاریخ میں 9مئی کو ہوئی اور دنیا بھر نے دیکھا کہ یہ مذموم کوشش بری طرح سے ناکام ہوئی۔ اس کوشش میں ریاست کے کچھ ملازمین کو بھی شامل کیا گیا تھا‘ اس کے باوجود وہ ناکام ہوئے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
میں نے آج کے کالم میں اللہ کے رسولﷺ کا وہ فرمان عالیشان ذکر کیا ہے جو ایمان‘ نظم (ڈسپلن) اور اتحاد کے اصول واضح فرماتا ہے۔ بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ہم اہلِ وطن کو جو ماٹو اور سلوگن دیا وہ ایمان، نظم اور اتحاد ہے۔ قارئین کرام! آج کے کالم پر الحمدللہ میں نے اس قدر محنت کی ہے کہ یہ ہفتہ بھر کی تحقیق اور ریسرچ کا نچوڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے‘ دعائوں کی درخواست ہے۔
دنیا ہمارے سیاسی عدم استحکام کو دیکھ کر ہم سے دور ہوتی جا رہی تھی‘9مئی کے سانحے میں جو بہت بڑا شر پنہاںتھا‘ اس میں سے خیر کا پہلو یہ برآمد ہوا ہے کہ اب ہم استحکام کی جانب چل دیے ہیں۔ بجلی کی کمی اور لوڈشیڈنگ کا مسئلہ پہلے بھی کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا‘ اب روس سے تیل کی درآمد کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ رواں ماہ کے آخر یا جولائی کے آغاز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوجائیں گی۔ گیس کے مسائل کے حل کے حوالے سے نوید بھری خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ آذربائیجان سے معاملات طے پا چکے ہیں۔ نیویارک کے پاکستانی ہوٹل کا مسئلہ بھی بطریق احسن حل ہو گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں خرم دستگیر، خواجہ سعد رفیق اور مصدق ملک جیسے وزرائے کرام کی پریس کانفرنسز بہت زیادہ حوصلہ افزا رہیں۔ مہنگائی میں بھی کمی ہونا شروع ہو گئی ہے۔ روشنی کی کرنیں ضیا پاشی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ خبر یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور گلف ممالک میں پاکستانی ہنر مندوں کی ڈیمانڈ پیدا ہونے جا رہی ہے، ان شاء اللہ آئندہ دنوں میں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
ہمارے اکثر لوگوں کی بددیانتی اور کام چوری نے ہمیں دنیا بھر میں بدنام کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے سول اداروں کو منظم کریں۔ ہمیں تو آج تک سڑکوں پر چلنے کا ڈھنگ اور ڈسپلن کسی حکمران نے نہیں سکھایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح آرمی چیف محترم جنرل سید عاصم منیر صاحب 9مئی کے سلسلے میں اپنے ادارے سمیت بے لاگ انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں‘ اسی طرح تمام سول اداروں میں صفائی کا عمل بھرپور ہونا چاہئے۔ میرٹ پر کوئی کمپرومائز نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ بے گناہ پر کوئی آنچ نہیں آنی چاہئے۔ ہمیں اپنی عدلیہ کا جائزہ لے کر پورے نظام کو ڈسپلن، میرٹ اور عدل پر لانا ہوگا۔ یہ سب سے اہم اور ضروری ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کے فرمان عالیشان کی روشنی میں حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کا دیا ہوا جو ماٹو اور سلوگن ہے‘ میری گزارش ہے کہ اسے 9مئی کے ہمراہ رکھ کر پورے ملک کی اصلاح کا کام ایک مہم بنا کر شروع کیا جائے۔ اس نعرے کے ساتھ کہ ہم سب مل کر پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنائیں گے، ان شاء اللہ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved