تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     23-06-2023

خود غرض سیاستدان اور عوام

قدرت کے اصول بڑے سیدھے سادے اور دو ٹوک ہوتے ہیں۔ وہاں ہر چیز کی ایک ابتدا اور انتہا ہے۔ رب ذوالجلال کی کائنات میں کوئی حادثہ، کوئی آفت، سمندری طوفان حتیٰ کہ زلزلہ بھی کسی مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ جو پاک ذات بلند و بالا پہاڑوں‘ گہرے سمندروں اور سات جہانوں پہ محیط کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے اس کے سامنے خود کو سپر پاور سمجھنے والوں کی حیثیت ایک ذرے کے برابر بھی نہیں۔ یہ بھی دیکھئے کہ رب ذوالجلال نے‘ خالق کائنات نے ذرے سے آفتاب بننے کے سیدھے سادے اصول مرتب کرکے سب کی پہنچ میں رکھ دیے ہیں۔ اب یہ انسانوں کی مرضی ہے کہ وہ ان اصولوں کو استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔
اس وقت ملک میں نفرت اور غصے کا جو اظہار جاری ہے اس سے دنیا کے کسی دوسرے ملک یا یہ کہہ لیجئے کہ ہمارے کسی دشمن کو کیا فرق پڑے گا؟ ہو سکتا ہے کہ جو نفرت کی آگ بھڑک رہی ہے‘ اس کی کوئی چنگاری ایسی آگ بھڑکا دے جسے بجھانا مشکل ہو جائے۔ اس وطن میں رہتے ہوئے گھر کسی کا بھی جلے‘ تپش سب کو پہنچتی ہے۔ اس لیے اس حدیث شریف کے مفہوم کو سامنے رکھیں کہ بہادر وہ نہیں جو اپنے مخالف کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔سانحہ نو مئی پر وطن عزیز کے ہر فرد کی آنکھ اشکبار ہے۔ ہر دل یہ کہتے ہوئے خون کے آنسو بہا رہا ہے کہ اس ملک کو ہو کیا گیا ہے‘ ہم سب کہاں اور کس نہج پر پہنچنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ کوئی مہذب ملک ہے یا دو متحارب گروپوں کا کوئی ایسا قبیلہ جہاں ہر فیصلہ طاقت کی بنیاد پر کیا جانا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی لیڈران اپنے قول و فعل سے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ کسی سیاسی عمل کے کردار نہیں بلکہ خاندانی دشمنوں کی طرح موقع ملتے ہی مخالف پر حملہ کر دینے والے کینہ پرور ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جنگ میں اپنے جوہر دکھانے کیلئے ہر دم بیتاب‘ اپنی طاقت اور تفویض کیے اختیارات کو ذاتی و سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنیوالے۔ کیا اس طرح ملک میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے؟ کیا اس طرح ڈوبتی ہوئی معاشی کشتی کو کنارہ مل سکتا ہے؟ کیا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی ہوئی مہنگائی اس طرح کم کی جا سکتی ہے؟ کیا عام آدمی کی زندگی میں اس طرزِ عمل سے ذرہ بھر بھی بہتری لائی جا سکتی ہے؟
سانحہ نو مئی کے بعد طبیعت پر کئی دن سے بوجھ رہا‘ جس کا اثر ابھی تک کم نہیں ہو سکا۔ گو کہ اس کے کئی پہلو ہیں‘ کئی مینار اور کئی زاویے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس کا دکھ شاید زندگی کیساتھ ہی چلتا رہے گا۔ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا‘ بہت سی کہانیاں سننے کو مل تو رہی ہیں اور اس پر لکھنے کیلئے قلم پر کئی قرض واجب الادا ہیں لیکن لکھنے بیٹھیں تو سمجھ نہیں آتی کہ کیا لکھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شہیدوں کے بنائے گئے مجسموں کی بے حرمتی کا کرب زندگی کا ایک مستقل روگ بن کر رہ جائے گا۔ دل تو پہلے ہی اپنے مسائل کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے‘ اس لیے آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی اور زبان میں جو تھوڑی سی طاقت ہے کہ کچھ کہہ سکوں لیکن پھر ایک چپ سی لگ جاتی ہے۔ اپنی جانب سے کچھ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن بے ربطی سامنے آکر فل سٹاپ بن جاتی ہے‘ اس لیے جو کچھ لکھا جا رہا ہے‘ اس پر گزارہ کر لیجئے‘ کیونکہ ایک تو آج کل کچھ لکھا ہی نہیں جاتا‘ اور اگر لکھنے بیٹھ جائیں تو سمجھ نہیں آتی کہاں سے شروع کریں۔ اسی سوچ میں دماغ میں آئی ہوئی ہر بات اور سوچا ہوا ہر خیال اور لفظ ذہن سے اس طرح محو ہو جاتا ہے جیسے ہمارے استاد گوگا دانشور کے سگریٹ کا دھواں۔ دوست احباب کہتے ہیں کہ ایک کونے میں لگ کر بیٹھے رہو‘ ذہن پر زیادہ زور مت دو۔ ان کی ہدایات کے مطابق ایک طرف لگ کر بیٹھنا اچھا لگ تو رہا ہے اور دل یہی کہتا ہے کہ چپکے سے بیٹھ کر بس تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو۔ لیکن جیسے ہی تیل کا لفظ آیا تو یاد آ گیا کہ روس سے تیل کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ چکی ہے۔ اس کا ذکر کوئی سوا سال پہلے اس وقت گونجنا شروع ہوا تھا جب سابق وزیراعظم کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تھا۔ اس وقت تیرہ جماعتی اتحاد کا دعویٰ تھا کہ پاکستان کی ریفائنریاں اس قابل ہی نہیں کہ روسی تیل کو پراسیس کر سکیں۔ اس وقت ذہن میں بہت سے سوالات اٹھے، بھارت‘ جو یوکرین جنگ کے بعد روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار بن کر سامنے آیا‘ وہ کیسے یہ تیل ریفائن کر رہا تھا۔ نہ صرف اپنے استعمال کیلئے وہ روس سے دھڑا دھڑ تیل خرید رہا تھا بلکہ دنیا کے کئی ممالک کو روس سے سستے داموں خریدا گیا تیل بیچ کر اس نے اربوں ڈالر کھرے کر لیے۔
تحریک انصاف کی طرف سے جب روس سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے کی بات کی گئی تو موجودہ حکومت اور اس وقت کی اپوزیشن کی طرف سے یہی سننے میں آتا تھا کہ یہ حکومت روس سے کیسے تیل لے سکتی ہے‘ ان تلوں میں تیل نہیں۔ پھر حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے جب روسی تیل درآمد کرنے کے حوالے سے اپنی تجاویز اور ان پر کیے گئے کام کو عوام کے سامنے رکھا گیا تو پی ڈی ایم کی قیادت کی طرف سے کہا گیا کہ اب جب ہم نے اس جماعت کو حکومت سے باہر بھیج دیا ہے تو سستے تیل کی کہانیاں سنا کر ہمیں اور عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے بھلا روس پاکستان کو سستا تیل دینے کیلئے کیسے تیار ہو سکتا ہے؟لیکن اب کرنا خدا کا یہ ہوا ہے کہ وہی روسی تیل پاکستان پہنچ چکا ہے اور خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستانی ریفائنریز میں یہ تیل ریفائن کرنے کی اہلیت موجود ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان روس سے درآمد شدہ تیل کی ادائیگی امریکی ڈالرمیں نہیں‘ جس کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور اب قدرت کی مدد کے بغیر ان میں جلد خاطر خواہ اضافہ بھی ممکن نہیں‘ بلکہ اپنے دیرینہ دوست ملک چین کی کرنسی میں کرے گا۔ جس سے تیل کی درآمدات پر خرچ ہونے والے زرِ مبادلہ کی بچت بھی ہو گی اور پاکستان کے عوام کو سستا تیل بھی میسر آئے گا۔ سستی پٹرولیم مصنوعات کے بعد عوام بجا طور پر مہنگائی میں کمی کی امید رکھ سکتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی ایک بڑی وجہ مہنگی پٹرولیم مصنوعات ہیں۔ اس وقت اشیائے خورونوش کی مہنگائی تاریخی بلندی پر پہنچ چکی ہے اور ملک میں غذائی بحران کے سر اٹھانے کا خدشہ بھی موجود ہے کیونکہ اس وقت ملک میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد دس کروڑ کے لگ بھگ ہے جبکہ اس میں روز افزوں مہنگائی کی وجہ سے اضافے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حکمران اب تیل کی دھار کی طرف دیکھنے کے ساتھ ساتھ وطن عزیز کی طرف بھی دیکھیں کہ جسے چند مفادپرست سیاستدانوں نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب تو قومی حمیت و غیرت خطرے میں پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے باوجود اب بھی حکمران و سیاستدان اپنے کیے پر شرمندہ ہونے اور اس سے رجوع کرنے کے بجائے بغلیں بجا رہے ہیں۔ بلکہ عوام کی چیخوں پر بھی اس طرح اچھلتے کودتے اور قہقہے لگاتے ہیں کہ جیسے کوئی بہت پرانا بدلہ لیا ہو۔خود وہ ہر وقت ملک سے باہر جانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں کیونکہ ملک و قوم کا تمام سرمایہ تو وہ پہلے ہی عالمی بینکوں میں رکھوا چکے ہیں اور خود عوام کی نسلوں کے حکمران بن کرمزے کر رہے ہیں۔ رہے غریب عوام تو انہیں تو شاید اس ملک میں جنم دیا ہی اس شرط پر گیا کہ انہوں نے ہر حال میں قربانیاں ہی دینی ہیں‘ کبھی جانی قربانیاں تو کبھی مالی قربانیاں۔ ہمہ وقت سر جھکا کر حکمرانوں کے دھتکار پھٹکار کھانے والے یہ عوام اس قدر تابع فرمان ہیں کہ جن حکمرانوں نے انہیں مہنگائی اور لاقانونیت کے اژدھے کے منہ میں دھکیلا‘ یہ انہی کیلئے گلی محلوں اور میدانوں میں ناچتے پھرتے ہیں۔ جس طرح خود غرض سیا ستدانوں کو کوئی غرض نہیں کہ یہ عوام جیتے ہیں یا مرتے‘ اسی طرح ان کو بھی عوام سے کوئی غرض نہیں کہ انہیں آٹا‘ پانی‘ گیس اور بجلی ملتی ہے یا نہیں؟ان کے بچے سکول جاتے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ وہ غربت کی چکی سے باہر نکل پاتے ہیں یا نہیں؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved