تحریر : ڈاکٹر حسن عسکری رضوی تاریخ اشاعت     03-07-2023

عالمی نظام اور پاکستان کی حکمت عملی

موجودہ دور کا بین الاقوامی نظام اتنا پیچیدہ ہو چکا ہے کہ اس پر کسی ایک طاقتور ریاست کا مکمل غلبہ نہیں ہو سکتا۔ اگر عالمی نظام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے ریاستہائے متحدہ کی صلاحیت میں کمی آئی ہے تو کوئی نئی واحد طاقت امریکا کی جگہ نہیں لے سکی‘ اس کے بجائے عالمی نظام میں طاقت کے مختلف مراکز ابھرے ہیں۔ عالمی سیاست کی نوعیت اور سمت پر اثر انداز ہونے کی ریاست کی صلاحیت کا انحصار مشترکہ ایجنڈوں پر بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داری پر ہے۔ ریاستوں کے درمیان اقتصادی‘ سفارتی اور عسکری شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون عالمی اور علاقائی معاملات میں ایک ملک کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اہم حکمت عملی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ہر وہ ملک جو اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کرتا ہے‘ چاہے ان کے سیاسی رجحانات مختلف ہوں۔
یہ دور سرد جنگ کے دور کے طبقاتی نظام سے مختلف ہے جب زیادہ تر ممالک اپنے بلاک کے ممبران کے ساتھ ہی بات چیت کیاکرتے تھے۔ آج ایک ملک بیک وقت امریکہ اور چین‘ دونوں کے ساتھ عملی تعلقات رکھ سکتا ہے۔ تعاون کے خواہاں ممالک کا ہر معاملے پر ایک دوسرے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ وہ بعض مسائل پر متفق اور دیگر مسائل پر اختلاف کر سکتے ہیں۔ تعلقات کو ایک دوسرے کے اہداف کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے ایک ایشو ایریا سے دوسرے ایشو ایریا میں جانچنا ہوتا ہے۔ ریاست کے لیے طاقت کا ایک اور اہم ذریعہ اس کے دیگر ریاستوں کے ساتھ مثبت تعلقات ہیں۔ مثبت رشتہ کسی ملک کے اندرونی سیاسی اور معاشی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر کسی ملک کی ملکی تناظر میں سیاسی اور سماجی صورتحال مستحکم اور ہم آہنگ ہو تو اس کی بین الاقوامی سطح پر مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر کوئی ملک مسلسل داخلی سیاسی اور سماجی کشمکش کا شکار رہے اور اس کی سیاسی صورتحال غیر یقینی اور غیر متوقع ہو تو اسے عالمی سطح پر اپنے تعامل میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ منفی عوامل میں سیاسی صورتحال بھی شامل ہے جس میں مقابلہ کرنے والی سیاسی قوتیں کسی بھی قیمت پر ایک دوسرے کو کمزور کرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں اور سیاست اور معاشرے میں تقسیم اس قدر تیز ہو جاتی ہے کہ مختلف سیاسی اور سماجی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ نہیں چل سکتے اور اہم ریاستی ادارے ان اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز افراد کے ذاتی اور یک طرفہ رویے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایک اور عنصر جو کسی ملک کے عالمی سطح پر کردار کو متاثر کرتا ہے وہ اس کی معیشت ہے۔ ریاستی معیشت کی نوعیت کیا ہے؟ ملک کس حد تک معیشت کے ملکی ذرائع پر انحصار کرتا ہے‘ یا اس کا بہت زیادہ انحصار بیرونی مالی امداد‘ قرضوں اور گرانٹس پر ہے‘ یہ کس حد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرتا ہے اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اس کی مارکیٹ کتنی پرکشش ہے؟ دیگر اہم اقتصادی اشاریوں میں قدرتی وسائل اور مقامی صنعت‘ ادائیگی کا توازن اور مجموعی اقتصادی ترقی کا پیٹرن اور ریاستی رہنماؤں اور ان کی پالیسیوں کے ذریعے سماجی اور اقتصادی انصاف کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ مہنگائی‘ قیمتوں میں اضافہ اور غربت اور پسماندگی کی سطح پر بھی غور کیا جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں کسی ملک کی اصل طاقت اس کی سیاسی‘ سماجی اور اقتصادی صورتحال کے اندر سے ہوتی ہے‘ جو عالمی سطح پر اس ملک کے قومی مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔دوسرے لفظوں میں کوئی ملک بین الاقوامی سطح پر کیا حاصل کر سکتا ہے‘ اس کی کلید اس ملک کی اندرونی صورتحال میں موجود ہوتی ہے۔ ریاست اپنی ڈومیسٹک پالیسیوں اور دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے مثبت معاشی تعامل سے عالمی سطح پر عزت حاصل کرتی ہے۔
اگر ہم ان معیارات کو غیر جانبداری سے پاکستان پر لاگو کریں تو عالمی سطح پر پاکستان کے مسائل کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ آزادی کے ابتدائی برسوں سے ہی پاکستان کے پاس ایک مربوط خارجہ پالیسی ویژن کا فقدان تھا اور اس نے ایک مربوط خارجہ پالیسی پروفائل کوواضح نہیں کیا جسے وہ عالمی سطح پر پیش کرسکتا۔ اس کی خارجہ پالیسی فوری ضروریات اور بیرونی چیلنجوں کو پورا کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ خارجہ پالیسی کا ایک بڑا حصہ ہندوستان کی طرف سے ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات کے خلاف سلامتی کی تلاش پر مرکوز تھا۔اس طرح پاکستان نے ملکی سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مغربی‘ خاص طور پر امریکی تعاون کی کوشش کی۔ امریکہ کے ساتھ قریبی سکیورٹی تعاون کے تین مرحلوں نے سکیورٹی کی فوری ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کی۔ ان مراحل میں 1965-1954ء‘ 1990-1980ء اور 2016-2001ء شامل تھے۔ تاہم طویل عرصے میں پاکستان نے نہ تو اپنے سکیورٹی کے مسائل حل کیے اور نہ ہی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا۔ آج صرف بیرونی سلامتی ہی نہیں بلکہ داخلی سلامتی اور بالخصوص دہشت گردی کے مسائل پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔پاکستان کی سلامتی کا ایک اور ستون چین ہے جس نے 1963-65 ء سے معاشی مدد اور تعاون کے پروگرام فراہم کرنا شروع کیے اور1966ء کے اوائل میں فوجی سپلائی شروع کی۔ 2015ء میں متعارف کرایا گیا چین پاکستان اقتصادی راہداری پروگرام پاکستان کو ایک بڑی ''اقتصادی خوراک‘‘ پیش کرتا ہے۔ تاہم آٹھ سال گزرنے کے بعد یہ بتانا مشکل ہے کہ کیا راہداری منصوبے نے پاکستان کی پریشان حال معیشت کو بچایا ہے۔
جب تک پاکستان کی معیشت ملکی ذرائع کے بجائے بیرونی ذرائع پر زیادہ انحصار کرتی رہے گی وہ عالمی تعامل کے طویل المدتی ویژن پر عمل نہیں کر سکے گی۔ یہ اپنی خارجی اور داخلی سلامتی کو بڑھانے یا اپنی معیشت کو رواں دواں رکھنے اور غیر ملکی قرضوں کے نادہندہ ہونے سے بچنے کے لیے غیر ملکی مدد حاصل کرتا رہے گا۔ پاکستان کے حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے تازہ ترین پروگرام کے آخری روز آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے پر انتہائی اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جب آئی ایم ایف بورڈ قرض کی نئی قسط کی منظوری دے گا تو یہ پروگرام نو ماہ تک بڑھا دیا جائے گا۔ اس سے بیرونی قرضوں سے نمٹنے کے لیے عارضی ریلیف ملا ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کا انتظام بیرونی ذرائع پر معاشی انحصار‘ مہنگائی کو کنٹرول کرنے اور قیمتوں میں اضافے کے مسائل کا حل فراہم نہیں کرتا۔ یہ زراعت اور صنعت کو فروغ دینے کے لیے بھی کوئی پروگرام پیش نہیں کرتا۔ یہی دو اقتصادی شعبے ہیں جو پاکستان کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی سیاست کی بڑھتی ہوئی ٹوٹ پھوٹ اورمحاذ آرائی پاکستان کے معاشی مسائل کے حل میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ 9 مئی کے بعد پاکستانی سیاست مزید بگڑ گئی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ریاستی طاقت اور قوانین کے بے تحاشا استعمال نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں خوف اور بے یقینی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ طویل المدتی سیاسی اور معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے ہمیں اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی قیادت کو باہمی اعتماد‘ رواداری اور آئین کی حکمرانی پر مبنی ایک مستحکم سیاسی ماحول بنانے کو ترجیح دینی چاہیے‘ اسی سے معیشت کا بیرونی ذرائع پر انحصار کم ہوسکتا ہے۔ ملکی سیاست ا ور معیشت میں تبدیلی ہی علاقائی اور عالمی معاملات میں پاکستان کے لیے نمایاں کردار کو یقینی بنا سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved