تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     23-07-2023

ریاستی راز

سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان میں سائفر کے اصل حقائق بیان کر دیے ہیں۔ اگرچہ سائفر کے مفروضے میں کوئی ابہام نہیں تھا تاہم گھر کے بھیدی نے جو لنکا ڈھائی ہے اس کی اہمیت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے؟فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے پی ٹی آئی کے مخالفین سائفر کو مفروضہ قرار دیتے تھے اب پی ٹی آئی کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے بیانیے کے ساتھ کوئی کھڑا ہونے کیلئے تیار نہیں۔ کیا یہ سب اچانک ہوا؟ ہرگز نہیں‘ پارٹی کو اس مقام تک لانے کیلئے دن رات کی محنت شامل ہے۔ سائفر کی من گھڑت کہانی کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ کہانی کیسے شروع ہوئی اور سابق وزیراعظم نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے کیسے استعمال کیا؟
8 مارچ 2022 ء کو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی‘ چیئرمین پی ٹی آئی نے 27 مارچ کو اسلام آباد جلسے میں ایک کاغذ لہرایا اور دعویٰ کیا کہ یہ ہے وہ خط ہے جس کی بنا پر ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ پھر خود ہی وضاحت کی کہ بیرونی سازش کی تفصیل اس دھمکی آمیز خط کے اندر موجود ہے۔ سابق وزیر اعظم کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں تحریک عدم اعتماد سے پہلے یعنی 7مارچ کو سائفر موصول ہو چکا تھا۔ اس میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے انہیں سائفر موصول ہو چکا تھا تو انہوں نے تین ہفتے تک خاموشی کیوں اختیار کئے رکھی؟ 7مارچ سے لے کر 27مارچ تک ایک سازش تیار کی گئی‘ 28ستمبر 2022کو لیک ہونے والی آڈیو میں جس طرح اعظم خان کو ایک سبق پڑھایا جا رہا تھا اس سے ساری حقیقت عیاں ہو رہی تھی کہ کس طرح معمول کے سفارتی مراسلے کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر کے اس پر بیانیہ کھڑا کیا گیا۔ بات محض بیانیے تک محدود نہیں رہی بلکہ سائفر کا نہایت حساس پہلو جسے پی ٹی آئی کے اکثر لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں وہ یہ ہے کہ وزارت خارجہ کے ریکارڈ سے دستاویز منگوانے کا ایک طریقہ کار ہے‘ صرف چند لوگ پیشگی اجازت اور طریقہ کار کو فالو کر کے کوئی دستاویز طلب کر سکتے ہیں۔وزیراعظم‘ وزیر خارجہ اور اعلیٰ عسکری قیادت کو یہ حق حاصل ہے۔ طے کردہ طریقہ کار اور مقررہ مدت کے اندر یہ دستاویز وزارتِ خارجہ کے ریکارڈ میں واپس جمع کرانا ہوتی ہے۔ اس دستاویز تک کسی بھی غیر متعلقہ شخص کی رسائی کی صورت میں ساری ذمہ داری اس شخص پر آن پڑتی ہے جس نے یہ دستاویز طلب کی تھی۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹ تھا‘ اعظم خان کے ذریعے وزارت خارجہ سے مراسلہ طلب کیا گیا اور جب اعظم خان نے واپس مانگا تو کہا گیا کہ گم ہو گیا ہے۔ اعظم خان اس وقت معاملے کے نزاکت کو سمجھ چکے تھے کہ کتنی بڑی غلطی ہو چکی ہے کیونکہ وزارت خارجہ میں ان کا نام درج تھا۔ جب دستاویز واپس نہیں کی گئی تو اعظم خان سے پوچھا گیا اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لئے اگر سائفر کے معاملے پر تمام تر مفروضوں کو سچ مان لیا جائے تو صرف یہ جرم ہی ناقابلِ معافی ہے کہ اسے گم کر دیا گیا۔ اعظم خان اعترافی بیان کے بعد بری الذمہ نہیں ہو سکتے‘ انہیں کسی شخصیت کی بجائے ریاست کے ساتھ وفاداری نبھانی چاہئے تھی‘ مگر وہ اس میں ناکام رہے اور سائفر کے معاملے میں برابر کے شریک جرم بن گئے‘ جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی بطور وزیراعظم مراسلے کی حفاطت کے ذمہ دار تھے ۔ یہ ریاستی راز کا معاملہ تھا اور بطور وزیراعظم ان پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی مگر وہ جو غلطی کر بیٹھے وہ15ماہ بعد بھی ان کا پیچھا کر رہی ہے۔
9 اپریل 2022ء کو چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو سابق وزیر اعظم نے مزاحمتی سیاست کا راستہ اختیار کیا‘ پورے ملک میں جلسے جلوس ہوئے۔ بلاشبہ عوام کی بڑی تعداد ان کے ساتھ کھڑی تھی اور عوام کے جم غفیر کو دیکھتے ہوئے کہا جانے لگا کہ سیاسی حالات نے چیئرمین پی ٹی آئی کو پہلے سے زیادہ مقبول بنا دیا ہے ۔زمینی حقائق مقبولیت کے دعوؤں کے موافق تھے‘ شاید اس بنا پر ان کے سخت ناقدین بھی کہنے پر مجبور ہوئے کہ حکومت سے نکال کر ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے سے بہتر تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی باقی ماندہ مدت پوری کرتی کیونکہ پی ڈی ایم کی حکومت کو شدید معاشی بحران کا سامنا تھا۔ اس دوران چیئرمین پی ٹی آئی جلسوں میں اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ ساتھ قومی اداروں پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔ چونکہ ان کی مقبولیت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا اس لئے مصلحتاً سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔ رفتہ رفتہ چیئرمین پی ٹی آئی کے لہجے میں تلخی آنے لگی‘ وہ اپنے مخالفین کا نام لے کر ان پر تنقید کرنے لگے۔ چیئرمین پی ٹی آئی جو ماحول بنانا چاہ رہے تھے وہ اس میں کافی حد تک کامیاب ہو چکے تھے۔ 3نومبر 2022ء کو وزیر آباد میں ان کے کنٹینر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا‘ جس کے بعد ان کا لہجہ مزید تلخ ہو گیا اور وہ اس واقعے کا الزام نہ صرف یہ کہ فوج کے اعلیٰ افسران کو دینے لگے بلکہ پنجاب حکومت سے اصرار بھی کیا کہ ایف آئی آر کا اندراج کر کے ان کے نامزد کردہ افراد کر گرفتار کیا جائے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کے اتحادی ہونے کے باوجود سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور اس طرح کی ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہونے دیا۔ مرضی کے مطابق ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونے پر انہوں نے یہ بیانیہ اپنا لیا کہ اپنی حکومت ہونے کے باوجود وہ ایف آئی آر درج نہیں کروا سکے تو عام شہری کو انصاف کیسے مل سکتا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کیلئے جو لب و لہجہ اور رویہ اپنایا ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نو مئی کے واقعات اس غیر محتاط رویے کی انتہا تھی جس میں باقاعدہ بغاوت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ چیئرمین پی ٹی آئی چونکہ مقبولیت کے زعم سے نکل کر سوچنے کے لیے تیار نہ تھے اس لئے وہ بھول گئے کہ بطور سابق وزیراعظم ان کے کندھوں پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ان کے رفقا نے بھی یہ بتانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ان کیلئے کیا مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں؟ اعظم خان کے اعترافی بیان کے بعد حکومت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ مذکورہ قانون ریاستی راز کی حفاظت سے متعلق ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو اب اندازہ ہوا ہے کہ واقعی ان سے بڑی غلطی سرزد ہو گئی۔ اس لئے انہوں نے رات گئے خطاب میں کہا کہ ان کی 27 سالہ سیاسی جدوجہد میں پرتشدد احتجاج کی مثال نہیں ملتی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی جو کچھ بھی کہیں‘ ان کا عمل ہمیشہ اس کے برعکس رہا ہے۔ جب سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت تھی تب وہ کسی کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ اب قانون اپنا راستہ بنا رہا ہے۔ جیسے تیر کمان سے نکل جانے کے بعد واپس نہیں آتا اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی بھی بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved