تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     10-08-2023

جب تلک خون کی خوشبو نہ سخن سے آئے

پانچ اگست ابھی چند دن پہلے گزرا ہے۔ یہی دن تھا جب باکمال شاعر رئیس فروغؔ ہم سے 1982ء میں جدا ہوئے تھے۔ میں انہیں یاد کرتا رہا۔ پھر سوچا کہ اس دورِ زوال اور قحط الرجال میں انہیں یاد کرنے والے بلکہ یہ جاننے والے بھی کتنے ہیں کہ رئیس فروغ نام کا باکمال شاعر بھی اسی اردو کی دنیا میں چلتا پھرتا‘ ہنستا بولتا اور لکھتا پڑھتا تھا جس میں ہم سب سانس لیتے ہیں۔ یہی بستیاں‘ یہی شہر‘ یہی دریا‘ یہی پہاڑ ہیں جنہوں نے انہیں بھی دیکھا اور ہمیں بھی دیکھتے ہیں۔ آدمی یہ سوچ کر اداس اور دل گرفتہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ان کے ساتھ ہوا جن کے بغیر نہ شام جگمگاتی تھی نہ محفلوں میں چراغ جلتے تھے۔ اہلِ کمال کے ساتھ یہ ہوا تو انسان کس برتے پر اترائے اور اپنے لکھے کو کچھ سمجھے۔
رئیس فروغؔ نے اپنا شعری مجموعہ ''رات بہت ہوا چلی‘‘ مرتب کیا‘ کتاب چھپنے چلی گئی لیکن وہ آنکھیں یہ چراغ روشن ہونے سے چند دن پہلے بجھ گئیں۔ وہ آنکھیں جنہوں نے نہ جانے اس کتاب کے اور اس شاعری کے کیا خواب دیکھے تھے جو اب تک اس کے صفحات پر لو دیتی ہے۔ میں انہیں یاد کرتا رہا تو سوچا آپ کو بھی ان کی یاد میں اپنے ساتھ شریک کروں۔ کچھ حرف کار ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں موجود ذخیرۂ الفاظ استعمال کرکے بھی ایک تشنگی سی رہتی ہے کہ ان کے فن میں اس سے زیادہ کچھ ہوتا ہے۔ رئیس فروغ کی شاعری میں ایک پُراسرار سی کشش‘ بلا کی شعریت اور منفرد امیجری تو ہے لیکن یہ کہہ کر بھی بات مکمل نہیں ہوتی ۔ بات کیسے مکمل ہوتی ہے؟ کچھ جگہ تعارف کی بس ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ ایک دوست کا ہاتھ دوسرے دوست کے ہاتھ میں پکڑا دیا جائے۔ تو بس میں درمیان سے نکلتا ہوں۔ آپ رئیس فروغ سے ملیے اور جو پہلے مل چکے ہیں‘ وہ ایک بار پھر مل لیں۔
ہزار خواب تھے آنکھوں میں لالہ زاروں کے
ملی سڑک پہ تو بادِ صبا سے کچھ نہ کہا
یہی خیال کہ برسے تو خود برس جائے
سو عمر بھر کسی کالی گھٹا سے کچھ نہ کہا
میں نے بھی ایک حرف بہت زور سے کہا
وہ شور تھا مگر کہ کسی نے سنا نہیں
ویسے تو یار میں بھی تغیر پسند ہوں
چھوٹا سا ایک خواب مجھے بھولتا نہیں
٭...٭...٭
ذرا بھی تیز ہوا شعلۂ نوا تو یہ لوگ
یہی کہیں گے کہ درویش بے ادب ہے میاں
بلند بانگ ترے نغمہ گر ہزار سہی
ہمارے پاس تو اک حرفِ زیرِ لب ہے میاں
مرے چراغ کہ جن کا کوئی شمار نہیں
سب ایک ساتھ ہی جل جائیں‘ بات جب ہے میاں
٭...٭...٭
حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے
شہر میں ایک ذرا سے کسی گھر کی خاطر
اپنے صحراؤں کو ناراض نہیں کر سکتے
عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے
ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے
٭...٭...٭
زخموں سے بچاؤں کیا بدن کو
کانٹے تو لباس میں سِلے ہیں
مجھ سے مری رات بھی خفا ہے
مجھ سے مرے دن کو بھی گِلے ہیں
یوں خاک اُڑا رہا ہوں گھر میں
جیسے مرے ساتھ قافلے ہیں
کیا جانیے کس دیے کے پیچھے
کن روشنیوں کے سلسلے ہیں
٭...٭...٭
آنکھیں جن کو دیکھ نہ پائیں‘ سپنوں میں بکھرا دینا
جتنے بھی ہیں رُوپ تمہارے‘ جیتے جی دکھلا دینا
اب کی رُت میں جب دھرتی کو‘ برکھا کی مہکار ملے
میرے بدن کی مٹی کو بھی‘ رنگوں سے نہلا دینا
ہم بھی لے کو تیز کریں گے‘ بوندوں کی بوچھار کے ساتھ
پہلا ساون جھولنے والو‘ تم بھی پینگ بڑھا دینا
تیرے کرم سے یارب سب کو
اپنی اپنی مراد ملے
جس نے ہمارا دل توڑا ہے
اُس کو بھی بیٹا دینا
اوس سے بھیگے شہر سے باہر
آتے دن سے ملنا ہے
صبح تلک سنسار رہے تو ہم کو جلد جگا دینا
٭...٭...٭
کچھ اتنے پاس سے ہو کر وہ روشنی گزری
کہ آج تک در و دیوار کو ملال سا ہے
کدھر کدھر سے ہواؤں کے سامنے آؤں؟
چراغ کیا ہے مرے واسطے وبال سا ہے
سفر سے لوٹ کے آئے تو دیکھتے ہیں فروغؔ
جہاں مکاں تھا وہاں راستوں کا جال سا ہے
٭...٭...٭
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
آسیب اپنے کام سے‘ ہم اپنے کام سے
مجھ بے عمل سے ربط بڑھانے کو آئے ہو
یہ بات ہے اگر تو گئے تم بھی کام سے
جس دن سے اپنی بات رکھی شاعری کے بیچ
میں کٹ کے رہ گیا شعرائے کرام سے
٭...٭...٭
کسی کسی کی طرف دیکھتا تو میں بھی ہوں
بہت برا نہیں‘ اتنا برا تو میں بھی ہوں
خرامِ عُمر ترا کام پائمالی ہے مگر یہ دیکھ
ترے زیرِ پا تو میں بھی ہوں
بہت اداس ہو دیوار و در کے جلنے سے
مجھے بھی ٹھیک سے دیکھو‘ جلا تو میں بھی ہوں
تلاشِ گُم شدگاں میں نکل چلوں لیکن
یہ سوچتا ہوں کہ کھویا ہُوا تو میں بھی ہوں
مرے لیے تو یہ جو کچھ ہے وہم ہے لیکن
یقیں کرو نہ کرو واہمہ تو میں بھی ہوں
زمیں پہ شور جو اتنا ہے صرف شور نہیں
کہ درمیاں میں کہیں بولتا تو میں بھی ہوں
عجب نہیں کہ مجھی پر وہ بات کھُل جائے
برائے نام سہی‘ سوچتا تو میں بھی ہوں
میں دوسروں کے جہنم سے بھاگتا ہوں فروغؔ
فروغؔ اپنے لیے دوسرا تو میں بھی ہوں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved