تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     01-10-2013

حالات کے تیور

یہ اپنے ہی الفاظ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ‘دو وزرائے اعظم کے عزم صمیم کا مظاہرہ تھا۔ ورنہ کیسی ملاقات اور کیسا تبادلہ خیال؟ پاکستان اور بھارت دونوں کے وزرائے اعظم پر شدید اندرونی دبائو تھا کہ وہ یہ ملاقات نہ کریں۔ بھارت میں بی جے پی کے لیڈر نریندرمودی نے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ کنٹرول لائن سے دہشت گردی کی وارداتوں کے پیش نظر‘ بھارتی وزیراعظم کو ملاقات منسوخ کر دینی چاہیے اور پاکستان میں جنرل حمیدگل اور ان کے ہم خیال مطالبہ کر رہے تھے کہ بھارتی وزیراعظم نے یو این کی جنرل اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے‘ پاکستان پر جو الزام تراشیاں کیں اور تلخ لب و لہجہ اختیار کیا‘ اسے بنیاد بنا کر پاکستانی وزیراعظم کو منموہن سنگھ سے اپنی ملاقات منسوخ کر دینا چاہیے۔ لیکن دونوں وزرائے اعظم باہمی رابطوں اور مذاکرات پر مضبوطی سے یقین رکھتے ہیں‘ اس لئے انہوں نے اپنی منصبی ذمہ داریوں کے تحت‘ جنرل اسمبلی کی تقریروں میں جو سخت موقف اختیار کیا‘ وہ ریاستی پالیسیوں کا تسلسل تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم نے تنازعہ کشمیر پر اپنے ملک کا روایتی موقف زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا تھا۔ جواب میں بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف اپنے الزامات سخت الفاظ میں دہراتے ہوئے کہا ’’خطے میں موجودہ مشکلات کی وجہ پاکستان ہے‘ جو علاقے میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔‘‘ یہ بات انہوں نے وائٹ ہائوس میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اس کے برعکس پاکستانی وزیراعظم نے نہایت سلجھے ہوئے انداز میں سفارتی عملے کی جانب سے منعقد کی ہوئی ایک تقریب میں کہا کہ ’’ماضی میں ہم سے غلط پالیسیوں کی بنا پر غلطیاں ہوئی ہیں‘ جن کا خمیازہ ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر ساری دنیا ہمیں غلط سمجھ رہی ہے‘ تو پھر ہم کہیں نہ کہیں تو غلط ہوں گے۔‘‘ یہی وہ حقیقت پسندانہ انداز فکر ہے‘ جو 66 سال کی جنگوں اور محاذ آرائیوں کے طویل اور تلخ تجربات کے بعد پیدا ہونا لازم ہے۔ اگر بھارت کے اندر بھی یہی طرزفکر پیدا ہو جائے‘ تو ہم ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ مگر حالات کے تیور اس امید کے حق میں نہیں۔ محاذ آرائی کے اس اذیت ناک کھیل میں پاکستان کو زیادہ نقصانات پہنچے۔ 1965ء کی جنگ میں ہمیں تاشقند معاہدے پر دستخط کرنا پڑے۔ جسے ایوب خان کی حکومت نے اپنی داخلی کمزوری کی بنا پر مجبوراً قبول کیا اور 1971ء کی جنگ میں تاریخی ریکارڈ کے مطابق تو ہم مشرقی پاکستان سے محروم ہوئے تھے لیکن ساتھ مقبوضہ کشمیر بھی دے بیٹھے تھے‘ جو تاریخ کے ریکارڈ میں تو نہیں آیا لیکن عملاً شملہ میں ہمیں جو معاہدہ کرنا پڑا‘ اس میں نہ صرف مشرقی پاکستان سے محرومی کو ہمیشہ کے لئے تسلیم کر لیا گیابلکہ تنازعہ کشمیر بھی اقوام متحدہ سے واپس لینے پر رضامندی ظاہر کر دی گئی۔ اس معاہدے میں ہم نے مان لیا تھا کہ کشمیر سمیت اپنے سارے تنازعات ہم‘ دوطرفہ طور سے طے کریں گے۔ کسی عالمی فورم میں لے کر نہیں جائیں گے۔ اس کے بعد ہم اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں کشمیر کا کسی نہ کسی انداز میں ذکر ضرور کرتے ہیں لیکن ہم نے باضابطہ طور پر مسئلہ کشمیر کے موضوع پر کبھی سلامتی کونسل یاجنرل اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا۔ بقول سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری ’’ہم نے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں پھر سے اٹھانے کے امکانات پر کافی غور اور تجسس کیا۔ لیکن دوست ملکوں سے مشاورت کے بعد پتہ چلا کہ اگر ہم نے کشمیر کا تنازعہ دوبارہ اقوام متحدہ میں اٹھایا‘ تو ہمیں مطلوبہ ووٹ نہیں مل سکیں گے اور ہم خود ہی تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے سے نکالنے کا راستہ پیدا کر دیں گے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ جو کچھ ہے‘ اسے وہیں پر رہنے دیا جائے۔ ہو سکتا ہے ریکارڈ میں تنازعے کی موجودگی کسی وقت ہمارے کام آ جائے۔ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔ امکانات کو برقرار رکھنا چاہیے۔ بعض اوقات انہونی بھی ہو جاتی ہے۔‘‘ تیسری چوٹ ہم نے کارگل پر مہم جوئی کے نتیجے میں کھائی۔ اس وقت تک کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد آزادی نتیجہ خیز ہوتی نظر آ رہی تھی۔ کشمیریوں کی مظلومیت پر خود بھارتی عوام اور میڈیا کے اندر بھی ہمدردی کے جذبات پیدا ہو رہے تھے۔ میڈیا میں کھل کر لکھا جانے لگا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات ہونا چاہئیں اور ان کی شکایات سن کر ‘ دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ عالمی رائے عامہ بھی کشمیریوں کے مطالبات پر توجہ دینے لگی تھی اور بھارت پر اندرونی اور بیرونی دبائو بڑھتا جا رہا تھا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت سے‘ اس مسئلے کا کوئی حل نکالے۔ لیکن کارگل پر بے سوچی سمجھی اور بے معنی کارروائی کر کے‘ پاکستان کو بلاوجہ مداخلت کار بنا دیا گیا۔ برصغیر کی دونوں ایٹمی طاقتیں‘ جنگ کے قریب پہنچ گئیں اور پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کو ممکنہ جنگ رکوانے کے لئے امریکہ کے صدر سے مددمانگنا پڑی۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے‘ تو پاکستان جارحیت کا نشانہ بن سکتا تھا۔ جس کے لئے ہم بالکل تیار نہیں تھے۔ یاد رہے ‘ اس وقت ہم ایٹم بم تو بنا چکے تھے۔ لیکن ہمارا ڈلیوری سسٹم پوری طرح تیار نہیں ہوا تھا اور یہ کمی بھارت کے مقابلے میں ہماری جنگی صلاحیت میں کمتری کی صورت میں مشکلات پیدا کر سکتی تھی۔ جنگ تو رک گئی۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی کے حق میں پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہریں تھم گئیں اور پاکستان کو جارحیت پسند سمجھا جانے لگا۔ یوں تو پاکستانی قیادت کی غلطیوں کا شمار ہی نہیں لیکن مندرجہ بالا تین غلطیاں ایسی ہیں‘ جن کے نتائج کا تجزیہ کر کے پاکستان کے فیصلہ سازوں کو ماضی کا ازسرنوجائزہ لینا پڑا اور ہم اس نتیجے پر پہنچے ‘ جس کی ترجمانی کے لئے سب سے پہلے نوازشریف آگے آئے اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ مل کر انہوں نے جو اعلان لاہور کیا‘ وہ وقت کا تقاضا تو تھا ہی‘ پاکستان اور بھارت کی ضرورت بھی بن گیاتھا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرلوں کے ٹولے کو‘ خود بھی بھارت سے انہی خطوط پر مذاکرات کرنا پڑے‘ جو اعلان لاہور میں واضح کئے گئے تھے۔ مگر اس وقت بھارتی قیادت ‘ جنرل مشرف اور ان کے ساتھیوں کے 12اکتوبر کے اقدام کا مزہ چکھانا چاہتی تھی۔ پرویزمشرف نے جب ساری شرائط مان کر معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاریاں کر لیں‘ تو بھارتی قیادت نے آخری لمحے پر انہیں ٹھینگادکھا دیا اور پرویزمشرف کو اپنا سا منہ لے کر پاکستان واپس آنا پڑا۔ 12 اکتوبر سے لے کر آج تک جتنے بھی سال گزرے ہیں‘ وہ ہمارے لئے خسارے کے سال تھے۔ بھارت اپنی معاشی اور فوجی طاقت میں اضافہ کرتا رہا۔ جبکہ ہم دہشت گردی کی لپیٹ میں آتے چلے گئے۔ ہمارے شہر امن سے محروم ہونے لگے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھتی اور پھیلتی چلی گئیں۔ آج سارا ملک دہشت گردی کے واقعات سے زخم زخم ہے۔ ہماری معیشت بربادی کی طرف گامزن ہے۔ ہم بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس وقت بھی عوام اور صنعتوں کو ضرورت کے مطابق بجلی نہیں مل رہی۔ دہشت گردی نے عالمی برادری میں‘ پاکستان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آج ہم بیشتر معاملات میں تنہا ہیں اور دہشت گردی کے سوال پر دنیا کے سامنے جوابدہی اور اپنی صفائی پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جدوجہد آزادی میں مدد دینے کے لئے ہماری استعداد میں کمی آتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے لئے سازگار اور ہمارے لئے خطرناک ہے۔ بھارت اپنی مضبوط اقتصادی‘ فوجی اور سفارتی پوزیشن کی وجہ سے اپنے رویئے میں سختی پیدا کرتا جا رہا ہے۔ جبکہ ہماری پوزیشن بھارت کے مقابلے میں کمزور ہوتی جا رہی ہے۔برصغیر میں 66 سال کی ریاستی پالیسیوں کے اثرات بھی نئے حقائق کی صورت میں سامنے آ چکے ہیں۔دو ایسے ملک‘ جو مسلسل محاذ آرائی کی حالت میں رہے ہوں اور آپس میں جنگیں بھی لڑ چکے ہوں‘ جب ان میں سے ایک کو مضبوطی حاصل ہو جائے اور دوسرا مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے‘ تو پھر مذاکرات اور معاہدوں کی پرانی تحریریں اور فیصلوں کے قریب پہنچے ہوئے نکات میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آج ہم اسی حالت کو پہنچے ہوئے ہیں۔ ابھی پھر سے مذاکرات کی ابتدا نہیں ہوئی۔ لیکن جب ہو گی‘ تو ہمیں بھارتی نمائندوں کی طرف سے جس طرزعمل کا سامناکرنا پڑے گا‘ وہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں ہو گا۔ بھارت کی طرف سے پیش ہونے والے نئے معاہدوں کے نئے اور نئے نکات‘ یقینی طور پر ہمارے لئے سخت ہوں گے۔ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ہوا بھی‘ تو عملی اقدامات 2015ء میں شروع ہو سکیں گے۔ اگلے ایک ڈیڑھ سال کے اندر اندر ہم دہشت گردی پر قابو پا کے‘ حالات کو اپنی گرفت میں لانے میں کامیاب ہو گئے‘ تو بہتر شرائط پر مذاکرات کر سکیں گے۔ ورنہ مذاکرات کے لئے ہمیں جو ماحول میسر آئے گا‘ وہ ہماری خواہشوں کے مطابق سازگار نہیں ہو گا۔ خدا کرے کہ حالات ابھی سے ہمارے قابو میں آنا شروع ہو جائیں۔ مگر دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی موجودہ پالیسی کے تحت ‘ یہ کیسے ہو سکے گا؟ اور آخر میں وزرائے اعظم کی ملاقات پر نگاہ واپسیں۔اگر آپ مصافحے کے وقت ‘ دونوں وزرائے اعظم کے چہروں پر زبردستی کی لائی ہوئی مایوس مسکراہٹوں کو یاد کریں‘ تو جالب کا یہ مصرعہ یاد آتا ہے۔ حالات کا ماتم تھا‘ ملاقات کہاں تھی؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved