تحریر : ڈاکٹر حسن عسکری رضوی تاریخ اشاعت     28-08-2023

پاکستان میں جمہوریت

اس سوال کے مختلف جوابات ہیں کہ کیا پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے ؟ کچھ لوگ اس کا مثبت جواب دیتے ہیں۔ دوسرے جواب میں ''نہیں‘‘ کہتے ہیں۔ پھر بھی کچھ لوگ اسے جزوی یا نامکمل جمہوریت کہتے ہیں۔ ایک مثالی جمہوریت کے بارے میں بات کرنا ممکن نہیں ہے‘ جیسا کہ درسی کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔ کچھ مصنفین امریکی اور برطانوی جمہوریتوں میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کچھ نسلی اقلیتوں کے حقوق سے انکار اور کچھ کمزور اور غریب برادریوں کو درپیش معاشرتی امتیاز کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
سیاسی نظام کے کام کا اندازہ لگانے کا معیاری طریقہ یہ ہے کہ کسی ملک میں سیاسی‘ معاشی اور معاشرتی صورتحال کے مجموعہ پر توجہ دی جائے۔ اگر مجموعی طور پر جمہوری اصولوں اور اقدار کا احترام کیا جاتا ہے توکسی ملک کو جمہوری اور اچھی حکمرانی والا ملک سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کا فیصلہ تین سطحوں پر کیا جاتا ہے: (1): نظریاتی اور آئینی۔ (2): آئینی اصولوں اور جمہوری اقدار پر عمل درآمد اور (3): حکومت کی طرف سے شہریوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی۔ جمہوریت کے بنیادی کم از کم تقاضے ہیں‘ جن کی آئینی فریم ورک میں واضح طور پر عکاسی ہونی چاہیے‘ان بنیادی اصولوں میں حکمرانوں کے انتخاب کیلئے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ‘ حکمرانوں کا احتساب‘ اچھی طرح سے قائم شہری اور سیاسی حقوق‘ قانون کی حکمرانی اور مساوات‘ آزاد عدلیہ اور صوابدیدی گرفتاری سے آزادی اور آئین اور قانون کی طرف سے مقرر کردہ حدود کے اندر ریاست کے اختیارات کا استعمال۔ یہ اصول اور رہنما نکات آئین اور قانونی نظام میں ظاہر ہونے چاہئیں۔ آئینی دفعات کے علاوہ کسی کو تنقیدی طور پر جائزہ لینا ہوگا کہ آئینی ضمانتوں اور اصولوں کو کس حد تک اداروں اور عمل میں ڈھالا جاتا ہے۔ جائزہ لینے کا پہلا مسئلہ منصفانہ‘ آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ بڑی مسابقتی سیاسی جماعتیں انتخابات کو مساوی مواقع کی مشق کے طور پرسمجھتی ہیں اور یہ کہ انتخابی مہم اور ووٹنگ کے دوران ریاستی مشینری غیر جانبدار تھی۔
جمہوریت کے معیار کا اندازہ لگانے کا دوسرا اہم طریقہ یہ جانچنا ہے کہ آئین میں شامل شہری اور سیاسی حقوق شہریوں کو غیر امتیازی بنیادوں پر‘ کس حد تک دستیاب ہیں؟یہاں اہم توجہ اظہارِ رائے کی آزادی‘ میڈیا اور سیاسی اور سماجی تنظیموں کے قیام پر مرکوز رہنی چاہیے اور صوابدیدی گرفتاری اور ریاستی طاقت کے زیادہ استعمال کے خلاف سکیورٹی کی جانچ پڑتال کی جانی چاہئے‘ خاص طور پر جب کسی ملک میں سیاسی احتجاج شروع ہوتا ہے۔ کیا عدلیہ آزادانہ طور پر کام کر سکتی ہے اور حکومت کو شہریوں کے خلاف ریاستی اختیارات کے زیادہ استعمال سے روک سکتی ہے؟ ایک اور معیار یہ ہے کہ وہ لوگ جو ریاستی نظام میں اہم عہدوں پر فائز ہیں وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں آئینی دفعات اور قوانین کی کس حد تک پابندی کرتے ہیں۔ یہ سیاسی رہنماؤں‘ بیوروکریٹس‘ پولیس‘ سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح‘ حکومت کی مختلف سطحوں‘ جیسا کہ وفاقی حکومت‘ صوبوں اور چھوٹی انتظامی اکائیوں کے درمیان قانونی‘ انتظامی اور مالی تعلقات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے‘ جو آئینی اصولوں پر مبنی ہیں۔ ریاستی نظام پر یہ لازم ہے کہ سرکاری مشینری شہریوں کو کچھ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے استعمال کی جائے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی ترقی اور معاشرتی فلاح و بہبود کیلئے ریاستی مالی اور مادی وسائل استعمال کرے۔ توجہ کے دو بنیادی شعبے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال ہے۔ ریاست کو لازمی طور پر جونیئر اور ہائی سکولوں کی سطح پر مفت تعلیم فراہم کرنی چاہئے اور شہریوں کیلئے تعلیم کی مالی لاگت کو کم سے کم رکھنے کیلئے کالج اور یونیورسٹی کی سطح کیلئے کھلے دل سے فنڈز مختص کرنا چاہیے۔ اس بات کی نشاندہی کی جاسکتی ہے کہ کچھ یورپی ممالک میں کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی تقریبا ًمفت ہے۔ ریاست کی طرف سے شہریوں کو مفت صحت کی دیکھ بھال اور مناسب ہسپتال کی سہولیات بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔ اگر نوجوان اور دیگر افراد اچھی صحت برقرار رکھتے ہیں تو وہ قوم کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری ادارے پینے کے صاف پانی‘ صفائی ستھرائی اور نکاسیٔ آب کے نظام اور صاف ستھرے ماحول جیسی شہری سہولیات فراہم کرنے کے بھی پابند ہیں۔ حکومت کو روزانہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں‘ خاص طور پر کھانے کی اشیا اور ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے مارکیٹ فورسز کو بھی ریگولیٹ کرنا ہے۔
اگر ریاست انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کرتی ہے تو وہ اپنے شہریوں کی رضاکارانہ وفاداری کی صحیح توقع کرسکتی ہے۔ اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ ایک فرد کی حیثیت سے ان کا مستقبل اور ان کے خاندان ریاستی نظام میں محفوظ ہیں تو وہ ریاست کے وفادار ہو تے ہیں اور ریاست کو مضبوط بنانے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان میں جمہوریت کے معیار کو جانچنے کیلئے اس تین نکاتی معیار کا اطلاق کرتے ہیں تو ہمیں ملا جلا جواب ملتا ہے۔ پاکستان کا ایک جمہوری آئین ہے جس میں جمہوریت کی بنیادی خصوصیات شامل ہیں۔ تمام اہم شہری اور سیاسی حقوق آئین میں شامل ہیں اور آئین منصفانہ‘ آزادانہ اور شفاف انتخابات کیلئے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ مختلف ریاستی اداروں کے ڈومینز کی واضح طور پر وضاحت کی گئی ہے اور اختیارات کو وفاقی حکومت اور صوبوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔
مسئلہ آپریشنل سطح پر ہے۔ آئین میں دیے گئے تمام سیاسی اور شہری حقوق کو ریاست کی طرف سے مناسب طور پر تحفظ حاصل نہیں اور یہ حقوق ہر وقت شہریوں کو دستیاب بھی نہیں۔ آئین پاکستان میں تمام مذہبی اقلیتوں کو قانون کے سامنے مساوات اور مذہب اور ثقافت پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ انہیں مساوی شہری کا درجہ دیا جاتا ہے۔ تاہم‘ کچھ انتہا پسند مذہبی گروہ مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتے ہیں اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ عدالت تک رسائی ان لوگوں کے لیے مشکل ہو جاتی ہے جو وکلا کی زیادہ فیس ادا نہیں کر سکتے۔ اگر ہم پچھلے تیس سالوں کے قومی اور صوبائی بجٹ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف حکومتوں نے تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال پر بہت کم مالی وسائل خرچ کیے ہیں۔ ریاستی تعلیمی نظام شدید خامیوں کا شکار ہے اور سرکاری ہسپتال ان مریضوں کو ایڈجسٹ نہیں کر سکتے جو ان سے علاج کے لیے رابطہ کرتے ہیں۔
پاکستان میں گزشتہ دس سالوں میں غربت اور پسماندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ بے روزگاری کے اعداد و شمار بہت زیادہ ہیں۔ ضروری اشیاکی قیمتوں میں اضافے اور بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمت میں بار بار اضافے نے عام آدمی کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ آئینی دفعات‘ سیاسی نظام کے کام کرنے اور ریاستی مشینری کے جانبدارانہ انداز کو دیکھتے ہوئے ہم یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوری آئینی نظام ہے لیکن معاشرتی سطح پر جمہوریت کا معیار ناقص ہے۔ پاکستان لوگوں کو کچھ آئینی آزادی دیتا ہے‘ جو اسے زیادہ تر مسلم ریاستوں سے ممتاز کرتا ہے جہاں سیاسی نظام آمرانہ ہیں‘ مگر پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطحوں پر جمہوریت کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نظریہ اور جمہوریت کے عمل کے درمیان فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved