تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     31-08-2023

چور کی شکایت ڈاکو سے؟

کیا آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں کہ دنیا میں سب سے ہولناک اور تکلیف دہ کام کسی سرکاری محکمے سے اپنا جائز کام کروانا ہے؟ سراسر جائز کام‘ جس میں زیادتی متعلقہ محکمے کی ہو اور آپ اس زیادتی کا ازالہ کروانے کے لیے دن رات اس محکمے کے چکر لگا رہے ہوں۔ یا کوئی اورکام جو سراسر جائز ہو لیکن آپ اس کے لیے مہینوں چکر لگاتے رہیں اور ہر دن پہلے سے زیادہ کرب ناک اور تکلیف دہ ہو۔ آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہوں یا نہیں‘ کسی بڑے شہر میں رہتے ہوں یا کسی چھوٹے شہر‘ قصبے یا گاؤں میں‘ میرا اصرار ہے کہ یہ روز مرہ زندگی کا سب سے تکلیف دہ‘ اذیت ناک اور ہولناک کام ہے۔ اس اذیت دہی میں اگر کسی نظام کو فوقیت یا برابری حاصل ہے تو وہ نظامِ انصاف ہے۔
میں آ ج دونوں نظاموں کی ایذا رسانی اور لوگوں کو خراب اور برباد کرکے متعلقہ عملوں کی مسرت اور تسکین کا جائزہ لینے بیٹھا ہوں۔ دونوں کا تقابل کیا جائے تو سفاکی‘ بے حسی‘ رشوت خوری اور نا اہلی میں کوئی کسی پر برتری نہیں رکھتا لیکن نظامِ انصاف کا معاملہ بہرحال یہ ہے کہ آپ کو روز اس سے واسطہ نہیں پڑتا۔ ہر ماہ اس کے بل آپ کے منہ پر نہیں مارے جاتے۔ روز روز اشٹام پیپر لینے اور اس پر تصدیق کروانے نہیں جانا پڑتا۔ کئی ماہ یا سال میں ایک دو بار اس کی نوبت آتی ہے۔ اس لیے آپ اس کے عذاب سے کچھ دن بہرحال بچے رہتے ہیں۔ جبکہ بجلی‘ پانی‘ گیس اور فون کے بل ہر ماہ آپ کے اعمال ناموں کی طرح آپ کے منہ پر چسپاں ہوتے رہتے ہیں۔ انکم ٹیکس ایک الگ عذاب ہے اور ایکسائز اور جائیدادی ٹیکس اس سے الگ عقوبت خانے ہیں۔ ان بنیادی سہولتوں اور ٹیکس کے بلوں میں عام طور پر کوئی نہ کوئی زیادتی سے بھرا ہوتا ہے۔ ہر ماہ اس نااہلی‘ زیادتی اور بے حسی سے چھلکتے بلوں کا سامنا ہر ایک کو کرنا پڑتا ہے اور ہر ایک میں ایک‘ میں بھی ہوں۔ آپ کا تعلق کاروبار سے ہو یا آپ ملازمت پیشہ ہوں‘ بجلی‘ پانی‘ گیس اور فون سے تو چھٹکارا ہے ہی نہیں۔ اور اگر آپ کوئی چھوٹا موٹا‘ درمیانہ یا بڑا کاروبار بھی کرتے ہیں تو مزید محکمے منہ پھاڑے‘ دانت نکالے آپ کے منتظر ہیں۔ جائیے اور ان کی غذا فراہم کیجیے۔
یہ جو میں نے لکھا کہ کسی سرکاری محکمے میں جانا ایک ہولناک تجربہ ہے‘ یہ ایک آدھ مشاہدے یا پرانے تجربات کے بعد نہیں‘ تازہ بہ تازہ اور نت نئے سانحات کے بعد لکھا ہے۔ کچھ عرصہ قبل میں نے واسا کی بے رحمانہ زیادتیوں کے بارے میں لکھا تھا لیکن کہہ سن لینے یا کالم لکھ لینے سے بل جمع ہوجایا کرتے تو کیا بات تھی۔ مجھے وہ بھاری بل جمع کرانا ہی پڑا جو سراسر محکمے کی زیادتی اور نااہلی کا ثبوت ہے لیکن تازہ ترین تجربہ یعنی کل سہ پہر کا تجربہ بھی سن لیجیے۔ مجھے کل سہ پہر اپنے اُس دوست کا فون آیا جسے میں نے ایک کام سپرد کررکھا تھا کہ وہ متعلقہ عملے سے اس کی منظوری لے سکے۔ کام جائز بھی تھا اور زیادہ مشکل بھی نہیں‘ لیکن جائز کو ناجائز بنا دینا اور آسان کو مشکل ترین کر دینا تو سرکاری محکموں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ دو مہینے سے تو میں یہ سن رہا تھا کہ محکمے کے عملے کی ہڑتال چل رہی ہے۔ یہ صبر آزما ہڑتال ختم ہوئی تو وہ دوست روز چکر لگاتا رہا‘ متعلقہ کلرکو ں کو فون کرتا رہا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ بادشاہان اپنی مسندوں پر بیٹھے ہوں تو دربار میں حاضر ہوکر مدعا بیان کیا جا سکے۔ کام ہونا تو اگلا مرحلہ تھا۔ پہلے بات تو سن لی جائے۔ درخواست تو دیکھ لی جائے لیکن کوئی پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔ کئی ماہ کے تکلیف دہ انتظار کے بعد اچانک کل سہ پہر اس دوست کا فون آیا کہ میں کئی دن سے اس دفتر میں دن گزار رہا ہوں۔ آج کلرک بادشاہ موجود ہیں‘ کب تک موجود رہیں گے‘ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ آپ کی حاضری لازمی قرار دی گئی ہے اس لیے سب کام تج کر فوری طور پر بارگاہ میں پیش ہوں۔ میری کئی طرح کی مصروفیات طے تھیں جنہیں چھوڑ کر جلد از جلد اس دفتر میں حاضر ہوا جہاں عام سائل ایک مجرم کی طرح پیش ہوتا ہے۔ کئی زینے چڑھ کر اور کئی برآمدوں سے گزر کر اس خالی کمرے میں داخل ہوا جس پر ایک ہی نظر ڈال کر بتایا جا سکتا تھا کہ یہ کوئی سرکاری دفتر ہے۔ ادھ کھلی لوہے کی الماری جس میں سے فائلیں جھانک رہی تھیں اور ہر فائل کے اندر سے کاغذات جھانک رہے تھے۔ دو میزیں اور تین چار کرسیاں۔ بے پردہ کھلی ہوئی کھڑکیاں جن میں سے آتی سہ پہر کی تیز روشنی کمرے میں بھری ہوئی تھی۔ اتنی تیز روشنی میں چھت سے لٹکا ہوا بڑا انرجی سیور کیوں جل رہا تھا؟ بالکل خالی کمرے میں پوری رفتار سے پنکھا کس لیے چل رہا تھا؟ کمرہ بالکل خالی کیوں تھا؟ ان کے جواب بتانے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ اور سوال پوچھنے کی ہمت تھی بھی کس میں؟ باہر برآمدوں میں منت سماجت کے جملے سنائی دیے تو اندازہ ہوا کہ کلرک بادشاہان سے التجا کی جارہی ہے کہ سائل حاضر ہو چکا ہے۔ براہِ کرم اپنی نشست پر تشریف لے آئیں۔ قدرے انتظار کے بعد انہوں نے یہ التجا قبول کی اور اپنی کرسیوں پر براجمان ہوئے۔ سائل پر نظر ڈالی‘ شناختی کارڈ ملاحظہ کیا اور پھر اسے بتایا کہ ہم آپ پر کتنی مہربانی کر رہے ہیں کہ آپ کو بلا لیا گیا ہے ورنہ یہ کام دراصل کتنا مشکل ہے۔ میں انہیں ناراض کرنے کی جرأت کر ہی نہیں سکتا تھا۔ نہ یہ بتا سکتا تھا کہ یہ کوئی اتنا مشکل اور ناجائز کام نہیں ہے۔ کام ہونا نہ ہونا ایک الگ تکلیف ہے اور ایسے دفتر میں خون کے گھونٹ پیتے رہنا ایک الگ تکلیف۔ ان دونوں پر اضافی تکلیف یہ کہ آپ کسی سے کوئی شکایت نہیں کر سکتے۔ نہ کہیں رپورٹ کر سکتے ہیں۔ کرکے دیکھ لیجیے۔ سال ہا سال اس کی سزا بھگتتے رہیں گے۔
میں اپنے حصے کی تکلیف بھگت کر واپس لوٹ آیا۔ میرا کام ہوگا یا نہیں‘ کچھ کہہ نہیں سکتے لیکن جو کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کسی محکمے کا کلرک ہو یا بڑا افسر‘ آپ کے حصے میں صرف تکلیف آتی ہے۔ جلن کڑھن آتی ہے۔ التجائیں‘ منت‘ سماجت آتی ہے اور انتظار آتا ہے۔ ہم پیدا ہوئے تو اپنے ماں باپ‘ بڑوں کو یہی عذاب جھیلتے دیکھا تھا۔ اب ہمارے بچے ہمیں یہ سزائیں بھگتتے دیکھتے ہیں۔ کسی سرکاری محکمے میں جاکر آپ کی حسرت ہی رہ جاتی ہے کہ کسی چھوٹی بڑی سیٹ پر کوئی ذمے داری کا احساس کرنے والا‘ کوئی عام آدمی کی تکلیف سمجھنے والاشخص موجود ہو۔ پھر آپ کبھی ان سب سے بات کرکے دیکھیے۔ آپ کو لگے گا کہ یہ سب مظلوم ہیں۔ سارا معاشرہ اور ان کا محکمہ ان پر مسلسل ظلم کر رہا ہے۔ یہاں سب مظلوم ہیں۔ ظالم کوئی نہیں۔ آپ دفتر سے نکلتے ہیں تو اس احساس کے ساتھ واپس لوٹتے ہیں کہ ظالم تو وہ سائل ہے جو ان سے اپنا حق لینے کے لیے ان کی منتیں کرتا ہے۔ آپ ایک بہتر اور آسان نظام کی حسرت کو لیے زندگی گزارتے ہیں اور اسی حسرت کے ساتھ منوں مٹی تلے چلے جاتے ہیں۔
دنیا بھر میں گھر بیٹھے یہ سب کام ہو جاتے ہیں۔ کمپیوٹر اور موبائل پر ہو جاتے ہیں۔ کسی دفتر جانا نہیں پڑتا۔ اورکوئی جان بوجھ کر دیر کرے‘ رشوت مانگے‘ تنگ کرے تو آپ کے پاس شکایت اور رپورٹ کے راستے موجود ہوتے ہیں۔ یہاں آپ کیا کر سکتے ہیں۔ سوائے بددعائیں دینے کے۔ شکایت کس کی کس سے کریں گے؟ کیا چور کی شکایت ڈاکو سے کی جا سکتی ہے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved