تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     18-09-2023

PDM رولر کوسٹر اور آئین…(1)

لیجئے!NRO-II بھی تمام ہوا۔ نیب کے رجسٹرڈ /شروع کردہ12ہزار ارب روپے کی کرپشن ‘منی لانڈرنگ کیسز جو ہائی کورٹ ‘ سپریم کورٹ ‘ ٹرائل کورٹ ‘ ویری فکیشن سٹیج ‘ انکوائری کے مرحلے پر اور انویسٹی گیشن کے درجے پر اَپ گریڈ ہونے کے باوجود بھی بند کئے گئے تھے ‘ وہ پھر کھل گئے۔ یہ مقدمے بمبئی جانے والے کنوارے خاں کی ''گنتی ‘‘کی طرح وہیں سے پھر شروع ہوں گے جہاں گنتی بند ہوئی تھی۔نصف شب کے بعد ۔چونکہ پاکستان میں نصف شب کا حوالہ جوڈیشل تاریخ کے دو اہم ترین مقدمات میں بھی آیا ہے اس لیے ان کا ذکر نہ کرنا اپنی تاریخ سے وفاداری نہیں بلکہ زیادتی بھی ہے۔ آپ اسے حسنِ اتفاق کہیں یا آگے جو شعر لکھا ہوا ہے اُس کا نتیجہ کہ نصف شب کے حوالے سے بننے والے دونوں مقدمات میں‘ میں بطور وکیل پیش ہوا۔
بے چینیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا
ان میں سے پہلا مقدمہ مڈ نائٹ جیکالز کا مشہورِ زمانہ کیس تھا جس میں میں نے سپائی ماسٹر میجر عامر کی وکالت کی۔ مقدمہ ساڑھے تین سال چلتا رہا اور اس سارے عرصے میں میجر عامر صاحب ضمانت پر بھی رہے اور ایک دن کے لیے بھی گرفتار نہ ہوئے جبکہ بریگیڈیئر بِلا جو مڈ نائٹ جیکالز کے ہمراہی ملزم تھے وہ اس سارے عرصے میں جیل سے کبھی باہر نہ آسکے ۔ اس مقدمے سے بریت لینے کے بعد جب ہم سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی کی ٹرائل کورٹ سے باہر نکلے ‘ میجر عامر نے اخباری رپورٹروں سے گفتگو میں وہ تاریخی جملہ کہا جسے رئوف کلاسرا اپنے کالم میں‘ اسی صفحے پر بارہا لکھ چکے ہیں۔ آدھی رات کے گیدڑ والا کیس 1980ء کے عشرے کا تھا۔ 2023ء والے جاری عشرے میں آدھی رات کاانصاف بھی سامنے آگیا۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آئین کی تشریحِ جدید کرتے ہوئے سپیکر کے اختیارات خود سنبھالے۔ قومی اسمبلی کا جو اجلاس آئین کے آرٹیکل 54میں دیئے ہوئے اختیارات کے مطابق صرف اور صرف صدرِ مملکتِ پاکستان ہی بلا سکتا ہے وہ اجلاس عدالتی حکم کے تحت طلب کروایا۔ اجلاس کب تک چلے گا ‘اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کے رولز آف بزنس کے مطابق صرف سپیکر کرسکتا ہے مگر مڈ نائٹ جسٹس کیس میں یہ پارلیمانی اختیار بھی سلب ہوگیا۔ ساتھ ہی اجلاس کا ایجنڈا بھی پارلیمنٹ کے باہر سے دیا گیا۔ پارلیمنٹ کا اجلاس کب prorogue ہوگا یہ بھی ماورائے پارلیمان طے کر دیا گیا۔ ہمارے ملک کی عدالتی تاریخ میں نہیں بلکہ دنیا کی عدالتی تاریخ میں جہاں تحریری آئین موجود ہے وہاں یہ اختیار آئین کے تحت متعلقہ ادارہ ہی استعمال کر سکتا ہے۔ پھر جو اندھیر نگری اور چوپٹ راج 25کروڑ لوگوں پر نازل ہوا‘جس طرح ضمیر فروشی کی منڈیاں برسرِ عام لگیں‘ لوٹوں کی لاتعداد فیکٹریاں کھل گئیں ‘ ڈالر سستا ہوا‘ پٹرول مفت ملنے لگا اور بجلی تو آسمان سے نازل ہونے لگی۔فی الحال آپ موٹر سائیکل پر ہیں تو 332روپے فی لٹر کا پٹرول ڈالیں اور سڑکوں پر پوری آواز کھول کر موٹر سائیکل دوڑائیں ۔ اگر آپ ڈیزل گاڑی میں بیٹھے ہیں تو 331روپے فی لٹر والا ڈیزل ڈالیں اور بالکل مفت میں لانگ ڈرائیو کے لیے نکل جائیں۔ ان ساری مفت سہولتوں پر پھر کسی دن بات کریں گے۔ جن کا دروازہ مڈ نائٹ جسٹس نے کھولا تھا۔
قارئینِ وکالت نامہ یقینا یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ وہ کون تھا یا تھے جنہوں نے جا کر چیف جسٹس ہائوس کی گھنٹی بجائی اور اُس کے بعد کی کہانی چلتے پھرتے کرداروں کی زبانی وہ بھی آپ کو کسی جگہ ضرور سنائی جائے گی۔فی الحال چلئے اس ''تاریخ ِ وفا‘‘ کا آئین کے آرٹیکل نمبر54سے جائزہ لیتے ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ PDMکی قیادت نے 16مہینے کی اَن تھک محنت سے پاکستان کو تیز رفتار ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لیے ڈونلڈ لُو والے سائفر کے ذریعے جو NRO-IIلیا تھا اُس کا کِریا کرم ہوئے اڑھائی دن گزر چکے ہیں۔
Article 54. Summoning and prorogation of [Majlis-e-Shoora(Parliament)].
(1) The President may, from time to time, summon either House or both Houses of [Majlis-e-Shoora(Parliamnet)] in joint sitting to meet at such time and place as he thinks fit and may also prorogue the same.
1973ء کے آرٹیکل54کا ذیلی آرٹیکل (1) دو طرح کی کھلی کمانڈ پر مبنی ہے: ایک یہ کہ پارلیمنٹ یعنی مجلسِ شوریٰ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس سمن کرنے اور پھر اُس اجلاس کو ملتوی کرنے یا ختم کرنے کا اختیار صرف اور صرف اسلامی اور جمہوریہ ریاست ِ پاکستان کے سربراہ یعنی صدر کے پاس ہے۔ یہ اجلاس کتنا عرصہ چلے گا ‘اس کا فیصلہ بھی صدرِ پاکستان نے ہی کرنا ہے۔ جس کے بعد یہ اختیار بھی صدر کو ہی آئین نے دیا ہے کہ اجلاس کس وقت منعقد ہو‘ کس مقام پر منعقد ہو اور اسے کب ختم کرنا ہے۔ صدرِ پاکستان کا یہ اختیار اس قدر قطعی‘ حتمی اور آخری ہے جس کے لیے As he thinks fitکے لفظ آرٹیکل 54میں استعمال ہوئے۔
سپریم کورٹ ایک بار پھر عام آدمی کے لیے مرکزِ نگاہ ہے۔PDMپھر رولر کوسٹر پر ہے۔یہ کچھ دن بعد پتہ لگے گا کے وہ ا س رولر کوسٹر پر شوق سے بیٹھے ہیں یا بیٹھانے والے نے پیچھے سے سیڑھی کھینچی ہے۔ کچھ دن پہلے تک PDMکے جو لیڈر بات کرتے ہوئے چہچہاتے تھے ۔ پچھلے ہفتے سے اُن کا اندازِ بیاں مِنمناتے ہوئے لہجے میں بدل گیا۔ نواز شریف اب 21اکتوبر کو آئیں گے یا پھر 33دسمبر کو ‘یہ فیصلہ بھی ڈول ڈرم میں چلا گیا۔
سپریم کورٹ کا آج سے شروع ہونے والا ہفتہ بالکل نئی طرح کا ہے۔پچھلے اور اُس سے پچھلے چیف جسٹس کے دور میں انتہائی ارجنٹ کیس فائل ہوتے چلے گئے۔ بار ایسوسی ایشن اور سینئر وکلا چیختے رہے مگر اُن کی ایک نہ سنی گئی۔ اس عرصے میں سب سے بڑا لوزر پاکستان کا عام سائل تھا۔جس کے مقدمے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیر مؤثر ہوتے رہے یا بے نتیجہ۔ پچھلے ہفتے یہی مسئلہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی 25ویں ایگزیکٹو کمیٹی نے نئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے سامنے رکھا۔ جنہوں نے نہ صرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کو وکلا کے مسائل حال کرنے کا بتایا بلکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اقدات بھی کرنے کاکہا۔بلکہ20ستمبر کو بار ایسو سی ایشن کے ساتھ میٹنگ کا وقت بھی مقرر کیا‘ جس سے توقع بندھی ہے کہ سائل اور وکیل ارجنٹ کیسز کی Fixationکو مزید نہیں ترسیں گے۔ میرے تجربے میں سپریم کورٹ کے پروفیشنل وکلا اور مظلوم سائلین کے لیے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اُن کا کیس ابتدائی یا ارجنٹ سماعت کے لیے فوراًمقرر کیا جائے۔کچھ کیسز جن میں نوٹس جاری نہ ہو یا سپریم کورٹ اُنہیں ایڈمٹ نہ کرے اُن کا فیصلہ فوراًہو جاتا ہے ۔ باقی کیسز میں ایک ماہ کے اندر اندر لیو گرانٹ ہو جائے گی یا اُن پر فریق ِ ثانی کو نوٹس دینے کے بعد دو میں سے ایک فریق کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا۔اس ہفتے کے دو مقدمے باقی سب پر بھاری ہیں۔(جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved