تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     29-09-2023

سرخیاں‘ متن اور نعیم ضرار کی شاعری

نوازشریف وزیراعظم
بنتے نظر آ رہے ہیں: جاوید لطیف
مسلم لیگ نواز کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ ''نوازشریف وزیراعظم بنتے نظر آ رہے ہیں‘‘ لیکن اس کے لیے ان کا پاکستان آنا ضروری ہے جس کے امکانات روز بروز کم ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ پہلے وہ اپنے کیس بھگتیں گے اور اس کے بعد سزا یابیوں سے پالا پڑے گا جس کے بعد ہی وہ الیکشن میں حصہ لے سکیں گے جس کا وقت یہ مراحل طے کرنے سے بہت پہلے ہی ختم ہو چکا ہوگا اس لیے ان کی واپسی ایک بار پھر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے جس کا جواب کہیں بھی نظر نہیں آ رہا؛ اگرچہ میں خواب میں انہیں وزیراعظم کا حلف اٹھاتے دیکھ چکا ہوں اور وہی خواب دوبارہ دیکھنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ دوبارہ نہیں آ رہا۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
متحدہ میں کچھ بیویوں نے
شوہر کو بھائی کہا: فاروق ستار
ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ''متحدہ میں کچھ بیویوں نے شوہر کو بھائی کہا‘‘ اور اب اس پر مسئلہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ اس سے کوئی خاص فرق تو نہیں پڑھا جبکہ متحدہ میں سب ایک دوسرے کو بھائی ہی کہہ کر پکارتے ہیں حتیٰ کہ بانیٔ متحدہ کو بھی سب بھائی کہہ کر ہی پکارتے تھے لیکن ان میں خواتین بہرحال شامل نہیں تھیں اور انہیں اس سے منع بھی نہیں کیا گیا تھا اس لیے یہ حادثہ رونما ہوا۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کو الیکشن سے
پہلے نشانہ نہیں بنانا چاہتے: رانا ثناء
سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ ''کسی سیاسی جماعت یا لیڈر کو الیکشن سے پہلے نشانہ نہیں بنانا چاہتے‘‘ کیونکہ یہ کام الیکشن کے بعد کے لیے رکھا ہوا ہے جب اقتدار بھی ہوگا اور اس کام کا کچھ مزہ بھی آئے گا‘ لیکن اگر اقتدار نہ ملا تو پھر یہ خواب بس خواب ہی رہ جائے گا کیونکہ وہ ہمارے نشانہ بننے کا وقت ہوگا جس کے لیے ہم ابھی سے تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ الیکشن میں جو کچھ ہونا ہے اس کے آثار ابھی سے نظر آ رہے ہیں اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ الیکشن ہوتے بھی ہیں یا نہیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
عام انتخابات میں جے یو آئی اپنی
حیثیت تسلیم کرائے گی: جے یو آئی
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے لاہور میں صدر محمد افضل خان نے کہا ہے کہ ''جمعیت عام انتخابات میں اپنی حیثیت تسلیم کرائے گی‘‘ کیونکہ اس سے پہلے کبھی ہماری حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا حالانکہ ہماری حیثیت تسلیم کرانے کے لیے اکیلے ہمارے امیر ہی کافی ہیں لیکن وہ بھی ابھی تک اس کا انتظار کر رہے ہیں اور انتظار کی گھڑیاں ختم ہوتی نظر نہیں آتیں جبکہ انتخابات بھی آگے سے آگے ہوتے نظر آ رہے ہیں اور کسی کو بھی ان کے انعقاد کا یقین نہیں ہے جبکہ ہمارے پاس اپنی حیثیت کو منوانے کا اور کوئی طریقِ کار بھی نہیں ہے جبکہ الیکشن کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ آپ اگلے روز لاہور میں دیگر رہنمائوں کے ہمراہ ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
کوئی خوابوں کا شہزادہ نہیں‘ لمبے قد کے
لڑکے اچھے لگتے ہیں: سحر خان
اداکارہ سحر خان نے کہا ہے کہ ''کوئی خوابوں کا شہزادہ نہیں‘ لمبے قد کے لڑکے اچھے لگتے ہیں‘‘ اس لیے لمبے قد والے لڑکوں کو دل بُرا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بالآخر میرا انتخاب انہی میں سے ایک ہوگا اس لیے انہیں چاہیے کہ انتظار کریں جبکہ میں اپنے طور پر بھی لمبے لڑکوں کی ایک فہرست تیار کر رہی ہوں جس میں سے ایک بالآخر میرے خوابوں کا شہزادہ بنے گا اور محروم رہ جانے والوں کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ کسی اور کے خوابوں کے شہزادے بن سکتے ہیں۔ آپ اگلے روز دنیا نیوز کے پروگرام 'مذاکرات‘ میں بیان دے رہی تھیں۔
اور‘ اب آخر میں نعیم ضرار کا کلام:
وہی عنایتِ عرشِ بریں بھی رکھتا تھا
دعا کے ساتھ جو زادِ یقیں بھی رکھتا تھا
مقام و شرفِ رسائی اسے ہوا حاصل
ترے حضور جو دل کی جبیں بھی رکھتا تھا
دلِ تباہ کے آثار یہ بتاتے ہیں
کبھی مکان تھا شاید مکیں بھی رکھتا تھا
گریزِ خلدِ بریں پہ میں یوں ہوا مائل
کہ زیرِ آسماں اپنی زمیں بھی رکھتا تھا
وہ میرے ساتھ تھا تو گام گام منزل تھی
قدم اٹھا کے میں چاہے کہیں بھی رکھتا تھا
٭......٭......٭
اس نے اظہار کو لفظوں میں تھا ایسا باندھا
بہہ گیا ہر کوئی جذبات میں باندھا باندھا
اس نے آنکھوں سے لگائی تھی گِرہ ڈھیلی سی
گویا باندھا بھی مجھے اس نے تو آدھا باندھا
میں نے جو رشتہ بھی جوڑا اسے پورا جوڑا
جو بھی باندھا تھا بڑے زور سے دھاگا باندھا
روشنی جب بھی بکھرنے لگی اس چہرے کی
میں نے اطراف میں ہاتھوں کا کنارا باندھا
دل سے لہرا کے نکلتی ہیں دعائیں اس کو
جس نے پرچم میں مرے چاند ستارا باندھا
اب دھڑکتا ہی چلا جاتا ہے سرپٹ بگٹٹ
دل کی گردن میں یہ کیا تم نے اشارا باندھا
آج کا مطلع
جسم کے ریگزار میں شام و سحر صدا کروں
منزلِ جاں تو دور ہے طے یہی فاصلاکروں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved