تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     30-10-2023

سرخیاں ، متن اور افتخار شوکت

مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے
اگلی حکومت ہماری ہوگی: آصف زرداری
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''مسائل کا حل پیپلز پارٹی کے پاس ہے، اگلی حکومت ہماری ہوگی‘‘ اس لیے حسبِ معمول سب سے پہلے ہم حکومت کو مضبوط بنائیں گے اور اس کی قوت میں جو کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اسے پورا کریں گے اور اگر اس مسئلے کے حل نے زیادہ طول نہ کھینچا تو عوام کے مسائل حل کرنے کی باری بھی آئے گی؛ اگرچہ عوام حکومت کے مسائل اور ان کے حل کو بھی اپنا ہی مسئلہ سمجھتے ہیں، اس لیے انہیں زیادہ تردد نہ ہو گا، اس لیے ہمارے ساتھ ساتھ عوام بھی پوری طرح سے تیار ہیں کیونکہ وہ ہر آزمائش سے گزرنا اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ آپ اگلے روزکراچی میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کر رہے تھے۔
حکومت ملی تو تنخواہ پچاس ہزار‘300یونٹ
تک بجلی مفت: جہانگیر ترین
استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ ''حکومت ملی تو تنخواہ پچاس ہزار‘300یونٹ تک بجلی مفت ہوگی‘‘ اور یہ ہمارا وعدہ ہے، اگر دوسری جماعتوں کی طرف سے کیے گئے وعدے پورے ہو گئے تو ہمارا یہ وعدہ بھی ضرور پورا ہو گا جبکہ ویسے بھی اس کے ساتھ حکومت ملنے کی بہت بڑی شرط لگا دی گئی ہے کہ نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی کیونکہ تیل اگر نو من سے کم ہو تو رادھا صاف انکار کر دیتی ہے اس لیے سب سے پہلے نو من تیل اکٹھا کریں گے تاکہ حکومت حاصل ہو سکے جس کے لیے مختلف افراد کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں، اگرچہ ان تلوں میں بھی تیل نہیں ہے جبکہ اب ہم صرف تیل دیکھیں گے اور تیل کی دھار دیکھیں گے۔ آپ اگلے روز جہانیاں میں پارٹی کے پہلے پاور شو میں اظہارِ خیال کر رہے تھے۔
نواز شریف کی زیرِ قیادت ملک کو
معاشی قوت بنائیں گے: شہباز شریف
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''نواز شریف کی زیرِ قیادت ملک کو معاشی قوت بنائیں گے‘‘ کیونکہ اگر وہ خود معاشی قوت بن گئے تو سمجھیے کہ سارا ملک ہی معاشی قوت بن گیا جبکہ انہیں معاشی قوت بننے کے لیے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا کیونکہ جب وہ وزیراعظم ہوتے ہیں تو اپنے آپ ہی معاشی قوت بننا شروع ہو جاتے ہیں اور دنیا دیکھتی کی دیکھتی رہ جاتی ہے اس لیے اس کے بارے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ عوام اس کے لیے ایک بار پھر سے تیار ہیں ۔آپ اگلے روز امیر مقام اور دیگران سے ملاقات کر رہے تھے۔
ایک روپیہ نہیں کھایا، پتا نہیں کہاں
سے ریکوری ڈالی: پرویز الٰہی
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ''ایک روپیہ نہیں کھایا، پتا نہیں کہاں سے ریکوری ڈالی‘‘ اور اگر خدانخواستہ روپیہ کھایا جا چکا ہو تو ریکوری کہاں سے ڈالی جا سکتی ہے، اور جہاں تک روپے کے کھانے کا تعلق ہے تو روپے کا سکہ ہوتا ہے جس کے اس عمر میں چبائے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر یقین نہ آئے تو کوئی چبا کر دکھا دے، اسے کھانا اور ہضم کرنا تو دور کی بات ہے، اس لیے پہلے یہ بتایا جائے کہ یہ ریکوری کہاں سے ڈالی گئی ہے کیونکہ ہم کسی ایسی ریکوری پر یقین نہیں رکھتے اس لیے یہ کسی اور کا پیسہ ہوگا جس کی حق تلفی کی گئی ہے جس کی تلافی کے لیے میری خدمات حاضر ہیں، آزمائش شرط ہے۔ آپ اگلے روز ضلع کچہری میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو دیوار
کو بچانا مشکل ہو جائے گا: خالد مقبول
ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ''ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو دیوار کو بچانا مشکل ہو جائے گا‘‘ اس لیے کسی قیمتی دیوار سے لگانے سے گریز کیا جائے اور اس مقصد کے لیے کسی پرانی اور نیم خستہ دیوار کا انتخاب بہتر رہے گا، نیز دیوار کے گرنے سے پہلے ہمیں وہاں سے ہٹا لیا جائے، ویسے تو جس دیوار سے کہیں ہم خود ہی اس کے ساتھ لگ جائیں گے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بلکہ اس کا تجربہ بھی ہے اس لیے اس کام میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ہم سے ہی بات کر لی جائے تاکہ کوئی نتیجہ بھی نکل آئے، ویسے سب کو اکٹھا کرنا اور پھر دیوار سے لگانا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔ آپ اگلے روز پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں افتخار شوکت کی شاعری:
شعر کہنے میں سہولت اور ہے
ان دنوں مجھ کو محبت اور ہے
کیوں مثالیں دیتا ہے فردوس کی
ماں کے قدموں میں تو جنت اور ہے
شہر میں گمنام رہ جاتا مگر
دشت میں مجنوں کی عزت اور ہے
جب تمہارے ساتھ ہوتا ہوں کہیں
مجھ کو لگتا ہے کہ قسمت اور ہے
بارشوں میں اور ہوتا ہے جنوں
چاندنی راتوں میں وحشت اور ہے
جا بجا پھولوں پہ اڑتی تتلیاں
فصلِ گل میں دل کی حالت اور ہے
عشق میں رسوائیاں ہیں افتخارؔ
ہو اگر سچا تو عزت اور ہے
٭......٭......٭
ہر قدم دائرے سے باہر ہے
زندگی حوصلے سے باہر ہے
منزلیں‘ منزلوں سے آگے ہیں
راستہ‘ راستے سے باہر ہے
آب سے آئینہ ہے کب باہر
عکس بھی آئینے سے باہر ہے
دکھ نہیں ہے‘ وہ اپنے آپ میں بھی
جو کسی سلسلے سے باہر ہے
اس قدر فاصلے پہ ہے انصاف
فیصلہ‘ فیصلے سے باہر ہے
قافلے نے بھٹکنا ہے آخر
رہنما قافلے سے باہر ہے
ہم کہاں جاکے ڈھونڈیں شوکتؔ کو
آج کل رابطے سے باہر ہے
آج کا مطلع
بجلی گری ہے کل کسی اجڑے مکان پر
رونے لگوں کہ ہنس پڑوں اس داستان پر

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved