تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     02-11-2023

سرخیاں، متن اور آزاد حسین آزاد

شہباز کو وزیراعظم میں نے بنوایا لیکن
انہوں نے کام نہیں کیا: آصف زرداری
سابق صدر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ''شہبازشریف کو وزیراعظم میں نے بنوایا لیکن انہوں نے کام نہیں کیا‘‘ اگرچہ معمول کا کام تو اس لیے بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وسائل اس کی اجازت نہیں دیتے تھے اور اس کے علاوہ کوئی کام اس لیے نہیں کیا گیا کہ کوئی اور کام آتا ہی نہیں۔ اگرچہ سب سیاستدانوں کو کوئی دوسرا کام نہیں آتا اس لیے وہ کرتے بھی نہیں ہیں اور ان سے یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی اس لیے جب تک ملک کے معاشی حالات اسی طرح رہیں گے سیاستدانوں سے کسی کام کی امید رکھنا ہی فضول ہے لہٰذا ملکی حالات جوں کے توں ہی رہیں گے۔ آپ اگلے روز زرداری ہائوس نواب شاہ میں عمائدین سے ملاقات کر رہے تھے۔
کسی غیر قانونی غیر ملکی سے نرمی
نہیں برتی جائے گی: محسن نقوی
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ ''کسی غیر قانونی غیر ملکی سے نرمی نہیں برتی جائے گی‘‘ کیونکہ یہاں اگر کسی قانونی اور ملکی شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتی جا رہی تو غیر قانونی غیر ملکیوں کے ساتھ کیسے برتی جا سکتی ہے اور یہی وہ مسائل ہیں جو الیکشن کے التوا کا سبب بن رہے ہیں اور اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ الیکشن کمیشن کو باقاعدہ ہاتھ کھڑے کر دینے چاہئیں کہ ان حالات میں الیکشن کو بھول جائیں بلکہ بہتر ہے کہ کوئی ریفرنڈم کروا لیا جائے اور آئندہ چند برسوں کے لیے نگرانوں کو ہی ملک کی خدمت کا موقع دیا جائے۔ آپ اگلے روز لاہور سے ایک بیان جاری کر رہے تھے۔
ہم سلیکشن تسلیم نہیں کریں گے: فیصل کریم کنڈی
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ''ہم سلیکشن تسلیم نہیں کریں گے‘‘ اور ہمارے نزدیک سلیکشن وہی ہے جس میں ہم سلیکٹ نہ کیے جائیں، اس لیے سلیکشن اگر کرنی ہے تو صحیح طریقے سے کی جائے اور سب کو برابر کا موقع دیا جائے جبکہ دھاندلی زدہ سلیکشن کو تسلیم نہیں کر سکتے اور اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ باری سرا سر ہماری ہے اس لیے میرٹ کا خیال رکھا جائے۔ اگرچہ تیسری جماعت نے سارا کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے؛ تاہم اس کا اگر کوئی خاطر خواہ انتظام ہو جاتا ہے تو اس صورت میں باری کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اس وقت تو خود الیکشن ہی کے لالے پڑے ہوئے ہیں یعنی آوے کا آوا ہی بگڑ چکا ہے۔ آپ اگلے روز نواب شاہ میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔
بڑا سکور کرنا چاہتا تھا‘ بدقسمتی سے آئوٹ ہو گیا: بابر اعظم
قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ''بڑا سکور کرنا چاہتا تھا مگر بدقسمتی سے آئوٹ ہو گیا‘‘ اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک مستقل مسئلہ ہے کہ میں ہمیشہ بدقسمتی ہی سے آئوٹ ہوا کرتا ہوں اور اگر بڑا سکور کر جائوں تو اسی وقت صرف قسمت میرا ساتھ دے رہی ہوتی ہے۔ ورنہ بندہ کس قابل ہے بلکہ دوسروں کو بھی بدقسمتی ہی آئوٹ کراتی ہے جبکہ قسمت پر کسی کا اختیار بھی نہیں ہے۔ اگرچہ سب کو اپنے آپ کو بہتر بنانا چاہئے لیکن آدمی بہتر بھی اس وقت ہی بنتا ہے جب قسمت ساتھ دیتی ہے۔ اس لیے سارے کام چھوڑ کر قسمت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کیلئے عامل حضرات کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ آپ اگلے روز میچ پرفارمنس کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔
رومانوی مناظر شوٹ کراتے وقت
شرم آتی تھی‘ لیکن اب نہیں: سنیتا مارشل
ماڈل و اداکارہ سنیتا مارشل نے کہا ہے کہ ''رومانوی مناظر شوٹ کراتے وقت شرم آتی تھی مگر اب نہیں آتی‘‘ بلکہ اب تو غیر رومانی مناظر شوٹ کراتے وقت آتی ہے کہ یہ بھی کوئی کام ہے جبکہ ویسے بھی وہ مرضی کی مالک ہے‘ آئے نہ آئے، اور اب یہ روٹین کا معاملہ ہے جبکہ پہلے حالت یہ تھی کہ :
شرم آتی ہے پر نہیں آتی
آپ اگلے روز لاہور میں ایک شو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں۔
اور‘ اب آخر میں آزاد حسین آزادؔ کا کلام:
خشک دریا تھا روانی سے بہت بڑھ گیا ہے
حسن وہ زورِ جوانی سے بہت بڑھ گیا ہے
شعر جمہور پہ آسانی سے کھلنے لگے ہیں
ذائقہ سادہ بیانی سے بہت بڑھ گیا ہے
سانس لینے سے دھواں جسم میں بھر جاتا ہے
درد اس کارِ دُخانی سے بہت بڑھ گیا ہے
تیرا ہم شکل مرے عشق میں پڑ جائے گا
یعنی سسپنس کہانی سے بہت بڑھ گیا ہے
رفتہ رفتہ میں سمجھنے لگا پنجابی بھی
رنج اندوہ معانی سے بہت بڑھ گیا ہے
تیری بینائی بہت دیر نہیں رہنے کی
خواب کا نرخ گرانی سے بہت بڑھ گیا ہے
راس آئی ہی نہیں گاؤں سے ہجرت مجھ کو
درد اس نقل مکانی سے بہت بڑھ گیا ہے
حُسن کچھ اور نکھر آیا ہے دُھل کر آزادؔ
چاند تالاب کے پانی سے بہت بڑھ گیا ہے
٭......٭......٭
قرار دیدۂ بے تاب تک نہیں آتا
وہ کیا گیا ہے کہ اب خواب تک نہیں آتا
ہم ایسے قہر زدہ‘ ڈوب بھی نہیں سکتے
ہمارے شہر میں سیلاب تک نہیں آتا
تلاشِ ذات کا سودا سفر سمیٹ گیا
وگرنہ آدمی مہتاب تک نہیں آتا
زمانہ درد سمیٹے گا کس طرح میرا
یہ وہ بھنور ہے جو تالاب تک نہیں آتا
کسی کا بخت کوئی چھین ہی نہیں سکتا
پرایا رزق کبھی قاب تک نہیں آتا
ہم ایسے موج نشینوں میں ایک خوبی ہے
بلا کا جوش ہو‘ گرداب تک نہیں آتا
آج کا مقطع
ظفرؔ کی خاک میں ہے کس کی حسرتِ تعمیر
خیال و خواب میں کس نے یہ گھر بنایا تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved