تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     08-10-2013

سرخیاں اُن کی ‘متن ہمارے

کرپٹ اہلکاروں کے خلاف انکوائریاں جلد مکمل کی جائیں …شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ ’’کرپٹ اہلکاروں کے خلاف انکوائریاں جلد مکمل کی جائیں‘‘ تاکہ انہیں بھی انہی انکوائری رپورٹوں میں شامل کردیاجائے جو اب تک کی جاچکی ہیں اور حکومت کی عدیم الفرصتی کی وجہ سے اور بعض وزرا کرام اور ارکان اسمبلی کی دل سوزی کے خوف سے ان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی، تاہم انکوائریوں کا جلداز جلد مکمل ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ انکوائریاں انکوائریاں ہی ہوتی ہیں ، ان پر کوئی فیصلہ کیاجائے یا نہ کیا جائے چنانچہ متعلقہ اہلکار حضرات سے امید کی جاتی ہے کہ وہ انکوائریوں ہی کو کافی سمجھتے ہوتے اپنے معاملات کو درست کرلیں گے اور ان کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اسی لیے کہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے ، جبکہ اس کے علاوہ ان شرفاء کو خوف خدا دلانے کے لیے مختلف ریفریشرکورسز بھی شروع کروائے جارہے جن کے لیے ایسے افسران کی تلاش جاری ہے جن کے اپنے خلاف کوئی انکوائری وغیرہ زیرِ کارنہ ہو، یا اگر ہو بھی تو مکمل ہوچکی ہو۔ آپ اگلے روز لاہور میں اجلاس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ۔ شریعت کے نفاذ کے لیے بندوق اٹھانا درست نہیں … فضل الرحمن جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ’’ شریعت کے نفاذ کے لیے بندوق اٹھانا درست نہیں ‘‘ کیونکہ اگر بم دھماکوں ہی سے کام ٹھیک ٹھاک چل رہا ہوتو بندوق اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔اگرچہ ہم بم دھماکوں کے بھی حق میں نہیں ہیں لیکن ہمارے حق میں ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے جبکہ بندوق کے ذریعے ویسے بھی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے جبکہ یہ جلدازجلد نتائج حاصل کرنے کا زمانہ ہے اور ہم خود اسی اصول پر عمل پیرا ہوکر اپنے لیے نتائج جلد ازجلد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اگرچہ حکومت کو ہماری طرح کوئی جلدی ہونے کا کوئی تاثر نہیں ملتا ، اور واضح رہے کہ خاکسار نے بندوق اٹھانے کی خدانخواستہ مذمت نہیں کی ہے کیونکہ ہم برادران اسلام کو ناراض نہیں کرنا چاہتے جو شریعت کے نفاذ کے لیے یہ ساری جدوجہد کررہے ہیں، اور اس لیے بھی کہ اگر مجھے ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی ذمہ داری تفویض کی جانی ہے تو ان کی مذمت کرکے میں کیا نتائج حاصل کرسکوں گا۔ اس لیے ہمارا نقش قدم انشاء اللہ یوں بھی ہے اور یوں بھی ۔آپ ا گلے روز پشاور میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ حکومت عوامی احتساب سے خوفزدہ ہے… پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ’’ حکومت عوامی احتساب سے خوفزدہ ہے‘‘ کیونکہ کسی دیگر احتساب کا تو ماشاء اللہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ دونوں بڑی جماعتوں نے ملک کے انتہائی مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو کچھ انہوں نے گزشتہ پانچ سال میں کیا ہے ہمارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے اور جو کچھ دال دلیا ہم کریں گے اس پر آئندہ حکومت میں آنے کے بعد وہ اعتراض نہیں کریں گے اور انہی نیک مقاصد کے لیے نیب کے نئے چیئرمین کا بھی فیصلہ نہیں ہوپارہا کہ وہ آکر کوئی گڑبڑ شروع نہ کردے کیونکہ ہم بھی ان کی طرح سارا کام مفاہمت سے چلانا چاہتے ہیں اور اس نسخہ کیمیا کا گُر بھی ہم نے انہی سے سیکھا ہے ، اگرچہ باقی سارے گُرتو ہم بہت پہلے سے سیکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ سسٹم ٹھیک کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘ اگرچہ یہ بہت مشکل کام ہے کیونکہ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا بھی ضروری ہے جس کا سارا کام ہم نے اللہ میاں پر چھوڑ رکھا ہے۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک تقریب کی رونمائی کے بعد میڈیا سے خطاب کررہے تھے۔ حملہ آور عناصربلوچستان کے غریب عوام کے دشمن ہیں… عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’’ حملہ آور عناصر بلوچستان کے غریب عوام کے دشمن ہیں‘‘ اور میں طالبان کا ذکر اس لیے نہیں کررہا کہ وہ خود کہتے ہیں کہ ہم غریب عوام کو نہیں مار رہے، اس لیے مسلمان بھائیوں کی بات کا اعتبار کرنا چاہیے جو صرف نفاذ شریعت کے لیے یہ تگ ودو کررہے ہیں، اور کل تک میرے بارے بھی اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھتے تھے لیکن اب میرے بارے میں بھی ان کا رویہ تبدیل ہوتا نظر آرہا ہے جن سے مذاکرات ہونا ہیں۔ اگرچہ یہ ابھی تک کسی کو بھی معلوم نہیں کہ یہ مذاکرات کس سے کیے جانے ہیں ، ویسے بھی انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستانی آئین کے تحت کبھی مذاکرات نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’’ اگر مسلح عناصرزلزلہ متاثرین سے مخلص ہیں تو انہیں بلوچ بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے ‘‘ بلکہ خدا لگتی بات تو یہ ہے کہ انہیں دامے درمے ، سخنے ہماری بھی مدد کرنی چاہیے اور کچھ نہیں تو عیدالاضحی کے موقع پر ہی ہمیں یاد رکھیں اور قربانی کی کھالوں کے ضمن میں تعاون فرمائیں۔ آپ اگلے روز لاہور میں ایک بیان جاری کررہے تھے۔ علماء امن کوششوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں … وزیر داخلہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے کہا ہے کہ ’’علماء امن کوششوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ‘‘ حتیٰ کہ ہم خود بھی انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بعض ضروری مصروفیات کی وجہ سے ان کے ساتھ رابطہ ہی نہیں کیاجاسکا جس کی انہوں نے شکایت بھی کی ہے لیکن وہ خود ہی بتائیں کہ ہم حکومت کریں یا مذاکرات ، کیونکہ ایک وقت میں ایک ہی کام ہوسکتا ہے جس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ حکومت طالبان حضرات خود سنبھال لیں اور مذاکرات کرلیں جس سے انہیں بھی اندازہ ہوجائے گا کہ دونوں کام ایک ہی وقت میں کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے چنانچہ فی الحال جو بیانات دونوں فریقوں کی طرف سے میڈیا میں آرہے ہیں انہی کو مذاکرات سمجھ لیا جائے تو بہتر ہے ورنہ حق بات تو یہ ہے کہ فی الحال ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ بات کس سے کرنی ہے کیونکہ طالبان حضرات خود ہی مختلف حصوں میں تقسیم ہیں جبکہ کوئی حصہ مذاکرات چاہتا ہے اور کوئی آئین پاکستان کے تحت مذاکرات کے نزدیک بھی جانا نہیں چاہتا۔ آپ اگلے روز اسلام آباد سے ایک پالیسی بیان جاری کررہے تھے ۔ آج کا مطلع رُخِ زیبا ادھر نہیں کرتا چاہتا ہے، مگر نہیں کرتا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved