تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     02-12-2023

حنوط شدہ زمانے

''کاش میں اس راستے پر جا سکتا اور وہ قدیم خوشبو کچھ دیر محسوس کر سکتا‘‘۔ میں نے تخت بھائی بازار میں گاڑی روکی اور ایک حسرت کے ساتھ کھنڈرات کی طرف جانے والے راستے کی طرف اشارہ کیا۔ گاڑی میں موجود جملہ حاضرین ایک دم غیر حاضرین بن گئے۔ ان میں کسی کو نہ اس راستے سے دلچسپی تھی‘ نہ قدیم آثار میں سانس لینے کا شوق۔ انہیں جلد از جلد مینگورا‘ سوات پہنچنے کی جلدی تھی اور ان کے خیال میں مینگورا سے نکل کر ''فضا گٹ‘‘ پر وسیع کھلے منظر میں دریائے سوات کے سامنے سانسیں زیادہ پُر بہار اور خوشگوار ہوتی ہیں۔ چنانچہ کسی نے میری حسرت زدہ خواہش کے جواب میں ہنکارا تک نہ بھرا۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر میرے خبط کی ذرا سی بھی حوصلہ افزائی کی گئی تو سارا دن اور سب کا موڈ غارت ہو جائے گا۔ ہم پشاور سے براستہ مردان اور تخت بھائی سوات کے لیے نکلے ہوئے تھے اور لاہور سے چلے ہوئے مسافر کچھ کچھ تھکنے بھی لگے تھے۔
میں نے گاڑی سٹارٹ کی‘ ایک گہری ٹھنڈی آہ بھری اور خود سے مخاطب ہوا ''شاید کبھی‘ کسی وقت‘‘۔ یہ ''کبھی اور کسی وقت‘‘ کئی سال بعد آہی گیا۔ میں نے تخت بھائی تاریخی کھنڈرات کی طرف سڑک پر گاڑی موڑی۔ ایک پانچ سو فٹ بلند پہاڑی کے نیچے گاڑی روکی۔ سر اٹھا کر پہاڑی پر موجود بدھ سٹوپاز اور خانقاہ کے کھنڈرات کو دیکھا اورپرانے پتھروں سے بنے بے ترتیب راستے پر قدم جما جما کر چڑھنے لگا۔ ذرا سا اوپر چڑھے اور منظر واضح ہونے لگا۔ راہبوں اور تارک الدنیا بدھوں کی اپنے تزکیۂ نفس کے لیے بنائی گئی نم آلود اینٹوں والی عمارات سامنے آتی گئیں۔ احاطے‘ کمرے‘ سیلن زدہ ہوا‘ ہوا کی آمد و رفت کے لیے روشن دان اور چراغ جلانے کے لیے طاق۔ یہاں وہاں بدھا کے مجسمے اور نقش و نگار‘ جنہوں نے گندھارا تہذیب اور سلطنت کے شاندار زمانے دیکھے ہوں گے‘ سب خاموشی سے سیاحوں کو دیکھ رہے تھے۔ یہ حنوط شدہ زمانے ہمارے زمانے تک آ پہنچے تھے۔ جب میں دیگر سیاحوں کے ساتھ اس بڑے احاطے میں داخل ہوا جو یہاں کے مکینوں کے اجتماع کا احاطہ تھا تو مجھے لگا کہ میں پہلی صدی قبل مسیح میں زندہ ہوں اور پینٹ کوٹ‘ جینز‘ ٹی شرٹ میں سیاح نہیں بلکہ زرد رنگ کے لباسوں میں بھکشو اور راہب ہیں۔زندگی کو تج کر خانقاہوں کے سپرد ہو جانے والے بھکشو۔ اسلم انصاری کی معرکہ آرا نظم '' گوتم کا آخری وعظ‘‘ کیسے یاد نہ آتی۔
جدائی تو خیر آپ دکھ ہے‘ ملاپ دکھ ہے
کہ ملنے والے جدائی کی رات میں ملے ہیں‘ یہ رات دکھ ہے
یہ زندہ رہنے کا‘ باقی رہنے کا شوق‘ یہ اہتمام دکھ ہے
سکوت دکھ ہے کہ اس کے کربِ عظیم کو کون سہہ سکا ہے
کلام دکھ ہے کہ کون دنیا میں کہہ سکا ہے جو ماورائے کلام دکھ ہے
یہ ہونا دکھ ہے‘ نہ ہونا دکھ ہے‘ ثبات دکھ ہے‘ دوام دکھ ہے
مرے عزیزو تمام دکھ ہے!
تخت بھائی کا اصل نام '' تخت باہی‘‘ ہے۔ یہ مقام اپنی اونچائی کی وجہ سے تخت کہلایا۔ باہی پھوٹتے جھرنے اور چشمے کو کہتے ہیں۔ اس پہاڑی پر پانی کے دو چشمے تھے جن کی وجہ سے یہ مقام تخت باہی یعنی چشموں والا تخت کہلانے لگا۔ مردان سے 15کلو میٹر کے فاصلے پر تخت بھائی نامی قصبے سے ایک سڑک جدا ہوکر دو کلومیٹر دور ان کھنڈرات تک پہنچتی ہے۔ ایک فرانسیسی آفیسر جنرل کورٹ نے سب سے پہلے 1836ء میں ان آثار کی طرف توجہ دلائی اور 1852ء میں یہاں کھدائی شروع ہوئی۔ ابتدا میں یہ دراصل زرتشتی مذہب کی عبادت گاہ تھی جو بدھ مت کے غالب آجانے پر اس کے صومعہ اور خانقاہ میں بدل گئی۔ یہاں عمارات چار مختلف ادوار سے تعلق رکھتی ہیں۔ خانقاہی عمارات پہلی صدی سی ای (CE) میں بنائی گئیں جس کی شہادت ایک عبارت سے ملتی ہے جس پر گنڈوفاریس (Gondophares) کا نام درج ہے جس کا زمانہ 20-46 CE ہے۔ اس کے بعد یہ علاقہ کاشان بادشاہوں کے زیرِنگیں آ گیا۔ دوسرے تعمیری دور میں تیسری اور چوتھی صدی CEمیں سٹوپا کورٹ اور اجتماع کا کھلا احاطہ بنایا گیا۔ چوتھی اور پانچویں صدی CEمیں کاشان بادشاہوں کے دوسرے خانوادے نے اس میں تیسرے دور کے اضافے کیے اور چوتھی اور آخری تعمیر جس میں تانترک کمپلیکس کا اضافہ کیا گیا‘ چھٹی اور ساتویں صدی CEمیں ہوئی تھی۔ بنیادی طور پر عمارات کا یہ مجموعہ چار بڑے حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک بڑے احاطے میں چھوٹے سٹوپاز کا ایک جھرمٹ۔ خانقاہ کے حجرے‘ جو اس بڑے احاطے کے اردگرد ہیں‘ اسی کے ساتھ طعام گاہ اور اجتماع گاہ۔ ایک صومعہ اور عبادت گاہ جو بعد کے دور میں تعمیر ہوئی۔ تانترک دور کی تنگ و تاریک مراقبہ گاہیں۔ بدن کو تحلیل کرنے والی ریاضتوں پر عبور پائے ہوئے سُکھوں کو تجے ہوئے بے مثال لوگوں کے نظم کی خوبصورتی اپنی جگہ اور ان راہبوں کے تزکیۂ نفس کی خواہش کا احترام اپنی جگہ لیکن نفس کو کچل کر‘ اپنے اوپر کڑی شرائط لگا کر بھی فطری خواہشات کہاں کچلی جاتی ہیں۔ غیرفطری پابندیاں لگ جائیں تو پھر سکھوں کو تجے ہوئے نفس کش اجنٹا اور ایلورا میں بھرے بھرے بدن بنا کر اپنی خواہشات مجسم کرتے ہیں۔
میں سوچتا رہا کہ ہندو سادھو سنتوں‘ جوگیوں‘ یہودی راہبانِ مرتاض‘ عیسائی نفس کشوں اور بدھ بھکشوؤں کے ترکِ دنیا کے مقابلے میں اسلام نے کیسا انقلاب برپا کیا جہاں خدا سے رابطے کیلئے نہ دنیا ترک کرنی پڑتی ہے‘ نہ خاص رنگ اور خاص لباس کی ضرورت ہے۔ نہ خدا کی نعمتیں ترک کرنا‘ نہ تنگ و تاریک مدفنوں میں رہنا لازمی ہے اور نہ مراقبوں کے ان تنگ و تاریک حجروں میں معتکف ہونا ضروری ہے۔ خلاصہ یہ کہ کچھ عائد کردہ شرائط‘ کچھ پابندیاں اور ممانعتیں قبول کر لو اور آزاد رہو۔ بالکل ایسے جیسے ایک سجدے کی پابندی ہزار سجدوں سے نجات دے دیتی ہے۔
یہ علاقہ زرخیز ہے۔ گنا‘ گندم‘ مکئی سمیت بہت سی فصلیں اس علاقے میں ہوتی ہیں۔ سری بہلول اسی علاقے کا ایک اور تاریخی مقام ہے۔ کھیتوں میں ہل چلاتے دہقانوں نے بہت بار قدیم سکے‘ مجسمے اور سنگی الواح دریافت کیں۔ لاہور‘ پشاور‘ لندن اور یورپ کے عجائب گھر ان نوادرات سے مزین ہیں۔ اب بھی کبھی کبھار ایسی کوئی خبر آجاتی ہے کہ کسی کھیت سے ہل چلاتے کسان کو بدھا کا مجسمہ مل گیا یا پرانے نوادرات کا خزانہ بر آمد ہوگیا۔ خزانے صرف چھپر پھاڑ کر نہیں زمین گداز کرکے بھی مل جاتے ہیں۔ گندھارا تہذیب کے انہی مجسموں سے غیر ملکی عجائب گھر بھرے ہوئے ہیں۔ مشرقِ بعید کے ممالک جہاں بدھ مت کے پیرو کار کثیر تعداد میں موجود ہیں‘ خاص طور پر ان کے شائق ہیں۔
تخت بھائی کے کھنڈرات میں پھرتا‘ مٹر گشت کرتے سیاحوں کی آوازوں اور گھومتی ہوا کی سرگوشیوں میں وقت گزارتا‘ ایک قدیم تہذیب کے خدو خال اور رہن سہن کو دیکھتا بھالتا میں کچھ دیر میں اس تخت سے نیچے قدم رکھوں گا۔ عمارتوں کے پہلو سے گزرتے راستے پر پہاڑی سے اتروں گا۔ گاڑی کا دروزہ کھولتے ہی ایک صدی قبل مسیح سے لمحۂ موجود تک واپسی کا سفر مکمل ہو جائے گا۔ لیکن وہ جو مجھ میں ایک قدیم دیاروں‘ اجڑی بستیوں اور متروک زمانوں کا دیوانہ موجود ہے‘ اس کا مجھے پتہ ہے۔ وہ سارے راستے مجھ سے منہ موڑے روٹھا بیٹھا رہے گا۔ ناراض اور افسردہ۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے اور ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ لیکن اسے راضی کرنا مجھے آتا ہے۔ ملا کنڈ عبور کرنے کے بعد میں ہرے درختوں تلے بچھے ہوئے کسی چائے خانے پر گاڑی روکوں گا۔ قالین پر بیٹھ کر گاؤ تکیے پر ٹیک لگا کر‘ خوشبودار چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں اسے منا لوں گا۔ کسی اور قدیم دیار کے سفر کے لیے‘ کسی اور اجڑی بستی میں قدم رکھنے کے لیے۔ کسی اور متروک زمانے میں جانے کے لیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved