تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     05-12-2023

سرخیاں، متن اور شعیب زمان کی شاعری

عوام اور ملکی مفادات کی جنگ
لڑنے جا رہے ہیں: شہبازشریف
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم ''عوام اور ملکی مفادات کی جنگ لڑنے جا رہے ہیں‘‘ کیونکہ ہم نے ہمیشہ عوام اور ملکی مفادات ہی کی جنگ لڑی ہے جبکہ عوام اور ملک کے مفاد کو بھی اپنا مفاد سمجھتے ہیں اور اپنے مفاد کو ملکی مفاد اور عوام کو بھی اس کا اچھی طرح سے علم ہے اور وہ بھی ہمارے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہ بھی سمجھیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سمجھنے کا کام بھی خود ہی کر رہے ہیں تاکہ عوام کے ذہن پر کوئی بوجھ نہ پڑے، ویسے بھی زیادہ سوچنے سمجھنے سے دماغ کے پرزے ڈھیلے ہو جاتے ہیں جو بالآخر کسنا پڑتے ہیں جبکہ عوام اس کیلئے بھی ہمیشہ سے ممنون اور شکر گزار چلے آ رہے ہیں۔ آپ اگلے روز ماڈل ٹائون لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کر رہے تھے۔
پیپلزپارٹی فرنٹ فٹ ہی پر کھیلے گی: یوسف رضا گیلانی
سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ''پیپلزپارٹی فرنٹ فٹ ہی پر کھیلے گی‘‘ کیونکہ اگر کسی قدر کام کرتا ہے تو فرنٹ فٹ ہی کرتا ہے جبکہ بیک فٹ کافی عرصے سے ریسٹ پر ہے اس لیے بیک فٹ کا کام بھی فرنٹ فٹ سے ہی لیتے ہیں جبکہ کثرتِ کار کی وجہ سے وہ بھی اب کھیلنے کے قابل نہیں رہا اور کامیابی کیلئے دیگر اعضا استعمال کرنا پڑتے ہیں، اس لیے دیگر عضا بھی ہر وقت تازہ دم رہتے ہیں اور کسی کا اعتراض ، احتجاج اور شور و غوغا کسی کام نہیں آتا اور جمہوریت کی گاڑی فراٹے بھرنے لگتی ہے اور دنیا حیران ہو کر اسے دیکھتی رہتی ہے۔ آپ اگلے روز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
شوگر کا مریض ہوں لیکن آم کھانے
ملتان ہی آیا کرتا ہوں: مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''میں شوگر کا مریض ہوں لیکن آم کھانے کیلئے ملتان ہی آیا کرتا ہوں‘‘ کیونکہ ملتان کے علاوہ کہیں اور تسلی بخش مقدار میں آم دستیاب ہی نہیں ہوتے کیونکہ آم‘ بلکہ کچھ بھی کھانا ہو تو اس کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنا چاہئے جبکہ اسی طرح آموں کی طرح سیاست بھی صحت کیلئے غیر مفید ہے لیکن اس سے بھی پرہیز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے آم اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں جس کی کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی اور صحت میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ آپ اگلے روز ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
دہشت گرد ملکی ترقی روکنا چاہتے ہیں: مریم نواز
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور کو آرڈینیٹر مریم نواز نے کہا ہے کہ ''دہشت گرد ملکی ترقی روکنا چاہتے ہیں‘‘ جو دراصل ہماری ترقی روکنے کے مترادف ہے حالانکہ ہم نے کسی کے کام میں کبھی مداخلت نہیں کی اور سر نیوڑہائے اپنے کام میں لگے رہتے ہیں کہ یہ کام ہی ایسا ہے کہ کسی اور کی طرف توجہ دینے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ اور چاہیں بھی تو ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ اپنے اصل اور بنیادی کام سے غفلت کے مرتکب ہو ہی نہیں سکتے اس لیے سب کو چاہئے کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور ہمارے کام میں دخل اندازی سے اجتناب کریں اور ہمیں ملک و قوم کی خدمت کا کام جاری رکھنے دیں کیونکہ کوئی اور یہ کام اس طرح کر ہی نہیں سکتا جس طرح اسے ہم سرانجام دیتے ہیں۔ آپ اگلے روز چلاس میں بس حملے کی مذمت کر رہی تھیں۔
کسی پارٹی میں نہیں جا رہا: مفتاح اسماعیل
سابق وفاقی وزیر خزانہ اور سینئر سیاست دان مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ '' میں کسی پارٹی میں نہیں جا رہا‘‘ جبکہ ویسے بھی کسی پارٹی نے شمولیت کے حوالے سے اب تک رابطہ نہیں کیا اور نہ دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اگر کوئی پارٹی شمولیت کے لیے غور کر رہی ہے تو اسے پورے غورو خوض کا موقع دینا چاہتا ہوں کیونکہ غلط فیصلہ بھی ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے جبکہ عباسی صاحب بھی ابھی تک اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کر پائے جبکہ وہ ایک بیان میں پارٹی پر تنقید کرتے ہیں تو دوسرے میں اس کا ازالہ کر دیتے ہیں بلکہ یہ دونوں کام ایک ہی بیان میں بھی کر دیتے ہیں۔ آپ اگلے روز کراچی میں کسی دوسری سیاسی پارٹی میں شمولیت کی تردید کر رہے تھے۔
اور‘ اب آخر میں شعیب زمان کی شاعری:
آنکھ پہلے سے کہیں بڑھ کے چمکدار ہوئی
روشنی جب بھی دراڑوں سے نمودار ہوئی
کوئی سایا نہ مسلسل میرے سر پر ٹھہرا
میں جہاں بیٹھا وہاں دھوپ کی یلغار ہوئی
تم بھلا کیسے یہاں میری مدد کو آتے
مجھ سے پہلے میری آواز گرفتار ہوئی
خود سے اکتائی تو پھر سب کو میسر آئی
نیند اب جاگنے والوں کی طرفدار ہوئی
سر پہ آتے ہوئے مذہب نہیں دیکھا کرتی
پیڑ کی چھاؤں تو ہم سے بھی سمجھدار ہوئی
اس سے آگے تو کہیں جا نہیں سکتا میں زمانؔ
میری منزل ہی مرے راہ کی دیوار ہوئی
٭......٭......٭
مرے پروردگارا! مر رہا ہے
دعا کا استعارہ مر رہا ہے
وہ دیکھو شام کی آنکھوں میں سرخی
بڑا دلکش نظارہ مر رہا ہے
چمک مدھم نہ ہو تو اور کیا ہو
مرے اندر ستارہ مر رہا ہے
اسے اتنا کہو وہ لوٹ آئے
سخن کا شہر سارا مر رہا ہے
محبت کو بچانے میں لگے ہیں
بھلے رشتہ ہمارا مر رہا ہے
آج کا مقطع
ظفرؔ اس پر اثر تو کوئی ہوتا ہے نہ ہو گا
تو پھر یہ روز کا بننا سنورنا کس لیے ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved